
تصویر: پی ٹی آئی
آسام، کیرالہ، تمل ناڈو، مغربی بنگال اور پڈوچیری کے اسمبلی انتخابات کے نتائج کے حوالے سے اتر پردیش میں اس وقت سب سے زیادہ دلچسپی اس سوال کے جواب میں نظر آتی ہے کہ اگلے سال ہونے والے اس کے اسمبلی انتخابات پر ان کا-خصوصی طور پر مغربی بنگال میں بی جے پی کی ’حیرت انگیز‘فتح کا-کس طور پراور کتنا اثر پڑے گا؟
اس کا جواب آسان ہوتا اگر یہ واقعی ایک حقیقی اور منصفانہ فتح ہوتی۔ دوسرے لفظوں میں، اگر اس کے لیے کیے گئے اشومیدھ یگیہ نے عوامی مینڈیٹ کو واقعی عوامی مینڈیٹ ہی رہنے دیا ہوتا اور امپائر کو اپنی طرف کرکے انتخابی مقابلے کی تمام اخلاقیات کو پامال نہ کیا گیا ہوتا۔
تب شاید کسی بھی تجزیہ کار کو اس سوال کا جواب دیتے ہوئے اس قدر ’احتیاط‘ نہ برتنی پڑتی، جتنی کہ اب برتنی پڑ رہی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کے باوجود کچھ حد سے زیادہ محتاط تجزیہ کار ایسےایسے جواب دے رہے ہیں، جنہیں سن کر گزشتہ جنوری میں مہاراشٹر کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج پر ایک خود ساختہ تجزیہ کار کا تبصرہ یاد آ جاتا ہے۔ انہوں نے لکھا تھا کہ ان انتخابات میں حکمراں جماعتوں کی جیت کا قومی سطح پر وسیع اثر پڑے گا۔
یہ چاپلوسی برداشت نہ ہوئی تو میں نے انہیں لکھا کہ بھائی، 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں مہاراشٹر کی نشستوں کے نتائج کا تو قومی سطح پر کیا کہنا، چند ماہ بعد ہونے والے اسی ریاست کے اسمبلی انتخابات کے نتائج پر بھی کوئی اثر نہیں پڑا اور وہ غیر متوقع طور پر اس کے برعکس نکلے۔ پھر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج قومی سطح پر وسیع اثر ڈالیں گے؟
کیسے کیسے اثرات!
اس کے بعد کئی مہینے گزر گئے، لیکن ان کے جواب کا اب تک انتظارہی ہے۔ کون جانے، اب جب وہ مغربی بنگال میں بی جے پی کی غیر معمولی فتح کو اگلے سال اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں ایک بار پھر کمل کھلانے کے لیے فیصلہ کن قرار دے چکے ہوں تو شاید جواب دینے کے بارے میں سوچیں-اور میں ان سے پوچھوں کہ یہ اثر ووٹروں کی طرف سے پانچ میں سے تین ریاستوں میں حکمراں جماعتوں کو ہٹانے یا بی جے پی کے مسلسل آزادانہ اور منصفانہ انتخابات میں رکاوٹ ڈالنے کے خلاف غصے کی صورت میں کیوں نہیں ہو سکتا؟
بہرحال، انہیں سوچنے دیجیے اور یاد کیجیے؛ اتر پردیش کے گزشتہ (2022) اسمبلی انتخابات میں اکھلیش یادو کی سماجوادی پارٹی (ایس پی) کی تقریباً ویسی ہی عبرتناک شکست ہوئی تھی جیسی اب مغربی بنگال کے اس انتخاب میں ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی شکست بتائی جا رہی ہے۔ اس کے بعد ممتا نے اکھلیش کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اس شکست کو شکست نہ مانیں اور مایوس ہوئے بغیر جدوجہد جاری رکھیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ یہ انتخابی نتائج ووٹروں کا ایماندارانہ مینڈیٹ نہیں بلکہ بی جے پی کی طرف سے ووٹوں کی لوٹ ہے۔ شکست کے باوجود ایس پی کا ووٹ فیصد 20 فیصد سے بڑھ کر 37 فیصد ہو گیا ہے، جو ایک بڑی کامیابی ہے، اور ’کھیل ابھی باقی ہے۔‘
اب چار سال بعد جب خود ان کے ساتھ بھی’کھیلا‘ہو چکا ہے، تو اچھی بات یہ ہے کہ اکھلیش نے یہ سمجھنے میں ذرا بھی دیر نہیں کی کہ اب ممتا کو بھی ویسی ہی ہمدردی کی ضرورت ہے۔
اسی لیے انہوں نے فوراً یہ کہہ دیا کہ بی جے پی نے اسی ماڈل سے بنگال کا انتخاب جیتا ہے جس سے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں اتر پردیش میں اپنی عبرتناک شکست کے بعد خالی ہونے والی اسمبلی نشستوں کے ضمنی انتخابات جیتے تھے۔ اس وقت الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے پوری سرکاری مشینری نے حکمراں بی جے پی کو جیت دلوانےمیں کوئی کسر باقی نہیں رکھی تھی، اور یہ سلسلہ ملکی پور اور کٹیہری اسمبلی نشستوں کے ضمنی انتخابات تک جاری رہا تھا۔ اس سلسلے کی شروعات 2022 میں رامپور کے لوک سبھا اور اسمبلی کے ضمنی انتخابات سے ہوئی تھی۔
تب مسلسل ضمنی انتخابات ہارنے سے پریشان اکھلیش نے سخت مایوس اور دل برداشتہ ہو کر ایس پی کارکنوں کو یہ کہتے ہوئے حوصلہ دینے کی کوشش کی تھی کہ 2027 میں جب ریاست کی تمام 403 نشستوں کے لیے عام اسمبلی انتخابات ہوں گے تو بی جے پی کے لیے ان ضمنی انتخابات کی طرح الیکشن کمیشن اور اپنے اقتدار کا غلط استعمال کر کے عوامی مینڈیٹ کو ہائی جیک کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
منہ میں خون
اس وقت ان کی بات پوری طرح درست لگتی تھی، لیکن اب بھارتیہ جنتا پارٹی نے اسے بھی غلط ثابت کر دیا ہے۔
مغربی بنگال میں اپوزیشن میں رہتے ہوئے اس نے مرکز میں اپنی حکومت اور اس کے ذریعے مقرر کردہ الیکشن کمیشن کے اختیارات کے بے دریغ غلط استعمال کی معرفت جس طرح 293 نشستوں کا اسمبلی انتخاب لڑا اور جیت درج کی ہے، بلاشبہ اس سے اکھلیش کی تشویش میں کئی گنا اضافہ ہوجانا چاہیے۔ خصوصی طور پر اس لیے کہ اتر پردیش اور مرکز دونوں میں برسر اقتدار ہونے کی وجہ سے اس ریاست میں ایسا کرنے میں اسے کوئی مسئلہ ہی درپیش نہیں ہے۔
اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں شرم و حیا بالکل نہیں ہے اور انتخابات جیتنے کے لیے مودی-یوگی اندرونی تضادات سمیت اپنی تمام اندرونی مشکلات سے نمٹنے کے گر اسے کسی سے سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
مزید یہ کہ کچھ مختلف حالات (جن کی وجہ سے ایک وقت ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی سے سب سے زیادہ ناراض خود وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ تھے) کے باعث اسے اتر پردیش میں مغربی بنگال جیسے ہتھکنڈوں کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ حتیٰ کہ اس کی بھی نہیں کہ خصوصی نظرثانی کے نام پر مرکز اور الیکشن کمیشن مل کر اسے سازگار ووٹر فراہم کریں اور غیر موافق ووٹروں سے نجات دلائیں۔
وہ بہار کی طرح اسمبلی انتخابات کے دوران کسی اسکیم کے نام پر خواتین کے کھاتوں میں چند ہزار روپے نقد ڈال کر بھی کام چلا سکتی ہے۔ صرف بہار ہی کیوں، آسام میں بھی اسی راستے پر چل کر اس نے اپنی ہمنتا حکومت کی شاندار واپسی کرائی ہے، جو کافی غیر مقبول ہو چکی تھی۔ البتہ اس ریاست میں اسمبلی حلقوں کی من مانی حد بندی اور ہمنتا کے مسلسل فرقہ وارانہ بیانات نے بھی اسے ایک خاص طرح سے ’مقبول‘بنانے میں کردار ادا کیا۔
سوال یہ ہے کہ جب اس کے منہ کو ایسی اسکیموں کا خون لگ چکا ہے، تو اتر پردیش میں ان کے’مؤثر استعمال‘سے اسے کون روک سکتا ہے؟
ایسے میں سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کے سپریمو کے طور پر اکھلیش کو بروقت یہ طے کرنا ہوگا کہ کیا وہ چند ہزار روپےکی سوغات (کہنا چاہیے رشوت) کے بدلے مقتدرہ کو ووٹ دینے کے عادی ہو چکے ووٹروں کو جمہوری اقدار سکھانے کا خطرہ مول لیں گے، یا خود اقتدار میں آ کر اس سے بھی بڑی رقم ان کے کھاتوں میں ڈالنے کا وعدہ کریں گے؟
ایس پی سپریمو اکھلیش یادو۔ (تصویر بہ شکریہ: فیس بک)
یہ جانتے ہوئے کہ اب ووٹر ایسے وعدوں سے زیادہ متاثر نہیں ہوتے، بلکہ ’نہ نو نقد نہ تیرہ ادھار‘پر یقین کرتے ہوئے اپنے کھاتوں میں نقد رقم ڈالنے والے حکمرانوں کی شان میں قصیدہ پڑھنے لگتے ہیں۔ چاہے ان کی وجہ سے ملک کی آزادی جزوی ہو گئی ہو، جمہوریت کمزور پڑ گئی ہو، پریس فریڈم انڈیکس میں ملک بہت نیچے چلا گیا ہو، اور وزیر اعظم و وزرائے اعلیٰ تک ہیٹ اسپیچ پر اتر آئے ہوں، جس سے دنیا میں اس کی ساکھ متاثر ہوئی ہو۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ ووٹر کئی بار اس قدر’احسان مند‘ہو جاتے ہیں کہ اس کے خلاف کچھ سننے کو تیار نہیں ہوتے۔ تب دوسرے طبقے کو ولن بنا دینا اور عوامی مینڈیٹ کا اغوا بھی ان کے درمیان کوئی ہلچل پیدا نہیں کرتا۔ اگر کرتا تو یہ اس حد تک روایت نہ بن پاتا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس کی ذمہ داری صرف ان جماعتوں پر ڈال کر چھٹکارا پایا جا سکتا ہے جو ان حالات میں انتخابی میدان میں ہار جاتی ہیں؟
ممتا بنام نرممتا یعنی بے رحمی
بہرحال، جیسے مغربی بنگال اور اتر پردیش کے حالات میں فرق ہے، ویسے ہی سماجوادی پارٹی اور ترنمول کانگریس میں بھی بڑا فرق ہے: سماجوادی پارٹی کے برعکس ترنمول کانگریس ایک طویل عرصے تک بی جے پی کی ہمدرد اور اتحادی رہی ہے۔ اٹل بہاری واجپائی کے دور میں تو وہ حکومت کا حصہ بھی تھی۔ بدلتے ہوئے حالات میں بی جے پی مخالف جماعتوں کی بے بسی ہی ہے کہ پندرہ سال کی اینٹی انکمبنسی کے باوجود وہ اس امید سے اس کے ساتھ کھڑی رہیں کہ وہ اپنی ریاست میں بی جے پی کو روک دے گی۔ لیکن انتخابات صرف نیک نیتی سے نہیں جیتے جاتے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے مغربی بنگال میں انتخابی مہم کے دوران غلط نہیں کہا تھا کہ ممتا نے ہی پولرائزیشن کی سیاست کے ذریعے مغربی بنگال میں بی جے پی کا داخلہ کرایا اور اس کے لیے جوابی پولرائزیشن کو آسان بنایا۔ (بائیں بازو کی جماعتیں تو یہاں تک کہہ چکی ہیں کہ ترنمول کانگریس اور بی جے پی میں کوئی فرق نہیں ہے۔)
بھلے ہی کچھ حلقوں میں راہل کے اس بیان کو بومرینگ تک بتایا گیااور ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے نہ وقت اور حالات کو دیکھا اور نہ اپنی پارٹی کی شکست کو۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ اب وہ کسی بھی قسم کی رنجش سے بالاتر ہو کر ممتا کے اس دعوے کی حقیقت کو دیکھ پا رہے ہیں کہ انہیں ووٹ اور انتخابات چوری کرکے ہرایا گیا ہے۔
یاد کیجیے، ایک وقت تھا جب کہا جاتا تھا کہ انتخابی مقابلوں میں بی جے پی عموماً صرف کانگریس کو ہی ہرا پاتی ہے، تیسری قوتوں پر اس کا بس نہیں چلتا۔ لیکن ممتا کی غلطی یہ ہے کہ وہ تب بھی نہیں سنبھلیں جب بی جے پی نے تیسری قوتوں کو ہرانا بھی سیکھ لیا۔ تب بھی نہیں، جب مبصرین ممتا کے پولرائزیشن کے مقابلے میں بی جے پی کے جوابی پولرائزیشن کے بارے میں خبردار کرنے لگے۔ اور وہ سنبھلیں بھی تو بی جے پی کو دہلی تک سے اکھاڑ پھینکنے کی ڈینگیں ہانکتی رہیں، مگر اپنی ہی ریاست میں اپوزیشن اتحاد کی راہ میں رکاوٹ بنی رہیں۔
ایسے میں اب وہ بی جے پی کا آسان شکار بن گئی ہیں، تو ان کے لیے یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ انہیں بی جے پی مخالف ووٹوں کی تقسیم کے باعث کتنی نشستیں گنوانی پڑیں۔ بائیں بازو کی جماعتوں اور کانگریس کے ساتھ تعلقات میں کچھ ہم آہنگی پیدا کرکے وہ اس سے بچ سکتی تھیں، لیکن ان کی انا نے انہیں ایسا کرنے نہیں دیا، اور اب کہا جا رہا ہے کہ ان کے لیے اپنے ارکان پارلیامنٹ کو بھی سنبھال کر رکھنا مشکل ہوگا، کیونکہ ان میں کئی ’راگھو چڈھا‘ہو سکتے ہیں۔
بہتر ہوگا کہ اکھلیش اس سے سبق لے کر آگے کی حکمت عملی بنائیں، خاص طور پر جب وہ دیکھ رہے ہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی یہ تو کہہ رہے ہیں کہ اب گنگوتری سے گنگاساگر تک کمل کھل گیا ہے، لیکن اس بات پر شرم محسوس نہیں کر رہے کہ اسے کھلانے کے لیے انہیں بدبودار کیچڑ میں سر سے پاؤں تک نہانا پڑا ہے۔ ان کی پارٹی اسے کھل کر اپنے ہندوتوا کی جیت بتا رہی ہے۔
خطرات مول لینے ہوں گے
اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات میں یوگی آدتیہ ناتھ اس بات کو کس طرح پیش کریں گے اور پھیلائیں گے، یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے۔ یہ بھی نہیں کہ بی جے پی کے پاس دن کو رات، رات کو دن، سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی صلاحیت رکھنے والی مشینری موجود ہے۔
ایسے میں اتر پردیش کے انتخابی نتائج کافی حد تک اس بات پر بھی منحصر کریں گے کہ اکھلیش اس کے مقابلے میں کون سا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ کبھی ان کی پارٹی سیکولرازم کی علمبردار ہوا کرتی تھی، لیکن اب وہ ایودھیا کے نو تعمیر شدہ رام مندر میں جانے سے متعلق سوالوں کے بھی گول مول جواب دیتے ہیں اور کسی نقصان سے بچنے کے لیے سیکولرازم کا لفظ تک زبان پر نہیں لاتے۔
شاید وہ جان بوجھ کر یہ سمجھنا نہیں چاہتے کہ بی جے پی کے سخت ہندوتوا کو سافٹ ہندوتوا سے ہرانے کی کوششوں کی اب تک ایک بھی کامیاب مثال نہیں ملتی، جبکہ بی جے پی اسے براہ راست ’ہندوواد‘ (ہندوازم)میں بدل کر وسیع پیمانے پر مقبولیت دلا چکی ہے۔ ایسے میں سافٹ ہندوتوا کے سہارے اسے ہرانے کی سوچ میں صرف خطرات ہی خطرات ہیں۔
یہ خطرات اس بات سے اور بڑھ جاتے ہیں کہ جو لوگ کبھی مضبوطی سے سیکولرازم کو ایک مقدس آئینی قدر بتاتے تھے، وہ اب اس پر زور دینے سے ہونے والے ممکنہ نقصان کے خوف سے اعتماد کھو دیتے ہیں اور اسی کی زمین پر جا کر اس قدر کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلنے لگتے ہیں۔ اتر پردیش کے مقابلے میں بہت کچھ اس پر بھی منحصر ہوگا کہ اکھلیش اس سے بچ پاتے ہیں یا نہیں۔
ہاں، اب ایک اور مشکل سوال بھی ان کا پیچھا کرتا رہے گا کہ اگر وہ اب بھی آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے حق میں وسیع عوامی اتحاد بنانے کے بارے میں نہیں سوچ رہے، تو ان کے انتخابات لڑنے کا مقصد کیا ہے؟ خاص طور پر جب لوگوں میں یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ آخرکار جیت بی جے پی ہی کی ہوگی!
صاف لفظوں میں کہا جائے تو ممتا کا انجام اکھلیش کے لیے ایک سبق ہو سکتا ہے-بشرطیکہ وہ اسے قبول کرنا چاہیں۔ ان کے لیے سہولت یہ ہے کہ وہ ممتا کی طرح اقتدار میں نہیں ہیں اور انہیں اپنی پیٹھ پر اینٹی انکمبنسی کا بوجھ اٹھائے نہیں پھرنا ہے۔
(کرشن پرتاپ سنگھ سینئر صحافی ہیں۔)
Categories: الیکشن نامہ, خاص خبر, خبریں, فکر و نظر






