نوئیڈا مزدور تحریک میں تشدد کے الزام میں یوپی پولیس نے کن لوگوں کو گرفتار کیا ہے؟

AhmadJunaidJ&K News urduMay 2, 2026360 Views


نوئیڈا مزدور تحریک سے متعلق معاملے میں کئی افراد کی گرفتاری کے بعد پولیس کی کارروائی پر سنگین سوال اٹھ رہے ہیں۔ اہل خانہ اور وکیل الزام لگا رہے ہیں کہ انہیں مناسب قانونی عمل کے بغیر حراست میں لیا گیا۔ پولیس اسے سازش قرار دے رہی ہے۔ یہ معاملہ اب مزدوروں کے حقوق سے آگے بڑھ کر شہری آزادیوں کی بحث بن گیا ہے۔

بائیں سے: انجینئر آدتیہ آنند، نیٹ کوالیفائیڈ ہمانشو ٹھاکر، نیٹ کوالیفائیڈ آکرتی، صحافی ستیم ورما اور مزدور بگُل رسالے سے وابستہ روپیش | پس منظر میں نوئیڈا مزدور تحریک کی تصویر۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی:اپریل کے وسط میں نوئیڈا کے فیکٹری مزدوروں نے تنخواہ میں اضافہ، بہتر ماحول اور مزدور حقوق کے مطالبات کے ساتھ جو تحریک شروع کی تھی، اسے اب ’سازش‘،’تشدد ‘اور’ماسٹر مائنڈ‘جیسے الزامات میں بدل دیا گیا ہے۔

اتر پردیش پولیس نے جن افراد کو اس تحریک سے جوڑ کر گرفتار کیا ہے، ان کے اہل خانہ، وکیل اور ساتھیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ صرف نظم ونسق  کا معاملہ نہیں بلکہ اختلاف رائے کو جرم قرار دینے کی ایک بڑی کارروائی ہے۔

یوم مزدور کے موقع پر یہ سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے کہ جن لوگوں پر تشدد بھڑکانے، سازش رچنے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات لگائے گئے ہیں، وہ کون ہیں؟ کیا وہ واقعی تشدد کے ذمہ دار ہیں یا مزدوروں کے ساتھ کھڑے ہونے کی قیمت ادا کر رہے ہیں؟

آدتیہ آنند: انجینئر سے’ماسٹر مائنڈ ‘تک

پولیس نے آدتیہ آنند کو اس مبینہ سازش کا کلیدی ملزم قرار دیا ہے۔ انہیں 19 اپریل کو تروچیراپلی ریلوے اسٹیشن سے گرفتار کیا گیا۔ یوپی ایس ٹی ایف نے ایک پریس نوٹ جاری کر کے کہا کہ مزدور تحریک کی آڑ میں تشدد اور آتش زنی کی سازش کرنے والوں میں سے ایک کلیدی ملزم کو پکڑا گیا ہے۔

لیکن اہل خانہ کی کہانی بالکل مختلف ہے۔

آدتیہ کے بھائی کیشو آنند کا کہنا ہے کہ گرفتاری کی بنیاد تک خاندان کو نہیں بتائی گئی۔ صرف ایک فون کال کے ذریعے اطلاع دی گئی۔ ان کا الزام ہے کہ عدالت نے 28 اپریل کو دو دن کی کسٹڈی دی، لیکن اس کے بعد آدتیہ کو کہاں رکھا گیا، اس کی اطلاع نہ خاندان کو دی گئی اور نہ ہی وکیلوں کو۔

کیشو کا کہنا ہے کہ عدالتی آرڈرمیں وکیلوں کو پوچھ گچھ دیکھنے کی اجازت تھی، اس کے باوجود انہیں اطلاع نہیں دی گئی۔ ان کے لفظوں میں،’ اتر پردیش پولیس قانون اور عدالتی عمل کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔‘ کیشو آنند کا دعویٰ ہے کہ پولیس کے پاس اس معاملے میں کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے اور انہیں صرف سیاسی دباؤ میں حراست میں رکھا گیا ہے۔

پولیس کا الزام ہے کہ آدتیہ اس وہاٹس ایپ گروپ کے ایڈمن تھے جس میں احتجاج کے دوران تشدد بھڑکانے کی سازش کی جا رہی تھی۔ تاہم، خاندان اس دعوے کو مسترد کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جیسے ہی گروپ میں اشتعال انگیز پیغامات آنے لگے، دیگر اراکین نے اس کی مخالفت کی۔ خاندان کے مطابق، اسی گروپ میں آدتیہ کے ایسے ویڈیوز بھی شیئر کیے گئے تھے، جن میں وہ لوگوں سے مکمل طور پر پرامن طریقے سے تحریک جاری رکھنے کی اپیل کرتے نظر آتے ہیں۔

خاندان کے مطابق، آدتیہ آنند 10 اور 11 اپریل کو محض ایک بیدار شہری کے طور پر مزدوروں کے احتجاج میں یکجہتی ظاہر کرنے کے لیے پہنچے تھے۔ یہ تحریک 9 اپریل سے جاری تھی۔ اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ جب آدتیہ کو لگا کہ پولیس کارروائی سے حالات بگڑ سکتے ہیں، تو انہوں نے لوگوں سے پرامن دھرنا جاری رکھنے کی اپیل کی اور یہ عہد بھی دلوایا کہ تحریک پرتشدد نہیں ہوگی۔

نوئیڈا میں 13 اپریل کو تنخواہ میں اضافے کے مطالبے کے لیے فیکٹری مزدوروں کا پُرامن احتجاج۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

خاندان کا کہنا ہے کہ 10 اور 11 اپریل تک، جب آدتیہ اور روپیش رائے احتجاجی مقام پر موجود تھے، اس وقت تک کوئی تشدد نہیں ہوا تھا۔ ان کے مطابق، حالات ان کی گرفتاری کے بعد خراب ہوئے۔

خاندان نے یہ بھی الزام لگایا کہ اتر پردیش لائے جانے کے بعد آدتیہ کے ساتھ مارپیٹ کی گئی۔ ان کے مطابق، گاڑی میں بٹھاتے ہی تشدد شروع ہو گیا اور بعد میں ایک نامعلوم مقام پر لے جا کر کئی لوگوں نے گھنٹوں تک انہیں پیٹا۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

آدتیہ آنند نے 2016-19 کے بیچ میں این آئی ٹی جمشید پور سے بی ٹیک کیا تھا۔ وہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی جین پیکٹ میں ملازمت کرتے رہے اور نوئیڈا میں رہتے تھے۔ خاندان کے مطابق وہ شروع سے ہی ذہین تھے اور 12ویں میں بہار بورڈ سے اپنے ضلع کے ٹاپر رہے تھے۔

ان کے بھائی کیشو آنند کا کہنا ہے کہ آدتیہ کے پاس بیرونِ ملک سے نوکری کی پیشکش بھی تھی اور وہ زیادہ تنخواہ والی ملازمت منتخب کر سکتے تھے، لیکن انہوں نے محروم طبقات کے ساتھ کام کرنے کا راستہ چنا۔ ملازمت کے ساتھ ساتھ وہ بچوں کو پڑھاتے تھے اور سماجی سرگرمیوں میں فعال رہتے تھے۔

آدتیہ بہار کے حاجی پور کے رہنے والے ہیں۔ ان کے والد، جن کا 2024 میں انتقال ہو گیا، ایک انٹر کالج میں استاد تھے، جبکہ ان کی والدہ نجی ٹیچر رہی ہیں۔

خاندان کے مطابق آدتیہ نوجوان بھارت سبھا سے وابستہ رہے ہیں۔ وہ بھگت سنگھ کی جینتی پر بچوں کے لیے پروگرام منعقد کرتے تھے اور میڈیکل کیمپ جیسے سماجی کاموں میں حصہ لیتے تھے۔ کیشو آنند کہتے ہیں، ’جو شخص بھگت سنگھ کی جینتی مناتا ہے اور سماج کے لیے کام کرتا ہے، اسے آج ملک دشمن بتایا جا رہا ہے۔‘

ہمانشو ٹھاکر: پی ایچ ڈی کی تیاری سے جیل تک

وہیں،24سالہ ہمانشو ٹھاکر کو 18 اپریل کو حراست میں لیا گیا۔ ان کی بہن نہا کے مطابق، خاندان کو تقریباً 24 گھنٹے بعد اطلاع دی گئی۔ ان کا الزام ہے کہ گرفتاری کے دوران نہ وارنٹ دکھایا گیا اور نہ ہی گرفتاری کی وجوہات بتائی گئیں۔

خاندان کا کہنا ہے کہ پولیس نے فون، ڈائری اور آئی پیڈ ضبط کیے، لیکن کوئی ضبطی فہرست فراہم نہیں کی۔ 28 اپریل کے عدالتی حکم کے بعد انہیں کہاں لے جایا گیا، یہ بھی نہیں بتایا گیا۔

نہا الزام لگاتی ہیں کہ پولیس حراست میں ہمانشو کے ساتھ مارپیٹ کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمانشو کا مظاہروں سے کوئی تعلق نہیں تھا، انہیں صرف آدتیہ آنند سے رابطے کی بنیاد پر جوڑا گیا۔

ہمانشو ٹھاکر کی گرفتاری کا اثر ان کے خاندان پر بھی پڑا ہے۔ ان کی بہن نہا کے مطابق، گرفتاری کے بعد سے ان کے والد کی طبیعت خراب ہو گئی اور انہیں اسپتال میں داخل کرانا پڑا۔ نہا کا کہنا ہے کہ ان کے والد سن نہیں سکتے، جس کی وجہ سے انہیں پوری صورتحال سمجھانا مشکل ہے، اور اس پورے واقعہ سے انہیں دلی صدمہ پہنچا ہے۔

ہمانشو دہلی یونیورسٹی کے ہنس راج کالج سے تاریخ میں گریجویٹ ہیں، دہلی یونیورسٹی سے ہی پوسٹ گریجویشن کر چکے ہیں، نیٹ کوالیفائیڈ ہیں اور پی ایچ ڈی میں داخلے کی تیاری کر رہے تھے۔

آکرتی: ’آئیڈیالوجی‘ ہی الزام؟

آکرتی کی جانب سے پیش وکیل رجنیش چند یادو کہتے ہیں کہ پولیس اب تک واضح نہیں کر سکی ہے کہ انہیں کن دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر سطح پر ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالی جا رہی ہے۔

وکیل کے مطابق، پولیس کا زبانی الزام یہ ہے کہ آکرتی بائیں بازو کے نظریے سے وابستہ  ہیں اور مزدوروں کو بھڑکا رہی تھیں۔

وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر آکرتی کو 11 اپریل کو حراست میں لے لیا گیا تھا، تو 13 اپریل کے واقعہ میں ان کا کردار کیسے ممکن ہے؟

وکیل کے مطابق، آکرتی 10 اپریل کو ہونے والے ایک پُرامن مظاہرے میں شامل تھیں۔ رجنیش یادو نے کہا، ’یہ کس آئین میں لکھا ہے کہ دھرنا اور احتجاج کرنا غیر قانونی ہے؟ لوگوں کی آئیڈیالوجی مختلف ہو سکتی ہے—کسی کی کمیونسٹ، کسی کی سوشلسٹ، کسی کی بی جے پی سے وابستہ،لیکن اس بنیاد پر کسی کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘

آکرتی دہلی یونیورسٹی سےپڑھی ہیں اور سوشل ورک میں پی ایچ ڈی کی تیاری کر رہی ہیں۔ وہ مغربی بنگال کے درگاپور کی رہنے والی ہیں۔ ان کے والد گن شکتی نامی اخبار میں کام کرتے ہیں۔

روپیش رائے: حراست میں تشدد

روپیش رائے پیشے سے آٹو ڈرائیور ہیں اور مزدوروں کے  مسائل پر کام کرنے والے جریدے ’مزدور بگل‘سے وابستہ رہے ہیں۔ تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ روپیش کو 11 اپریل کو ہی حراست میں لے لیا گیا تھا، یعنی 13 اپریل کے تشدد سے پہلے۔ روپیش کے ایک ساتھی نے بتایا کہ جب انہیں پولیس نے حراست میں لیا، تب وہ مزدور بگل کے لیے رپورٹنگ کر رہے تھے۔

گزشتہ25اپریل کو خاندان اور دوستوں کی جانب سے جاری پریس نوٹ میں کہا گیا کہ ان کے وکیلوں نے اتر پردیش پولیس کے سینئر افسران کو شکایت بھیجی ہے، جس میں حراست میں تشدد، فرضی ریکوری اور ثبوت گھڑنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

پریس نوٹ میں روپیش کے حوالے سے کہا گیا کہ انہیں جسمانی اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا اور طبی معائنے کے دوران زخموں کا مناسب طور پر جائزہ نہیں لیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس انہیں نوئیڈا کے این ایس ای زیڈ علاقے میں ایک مقام پر لے گئی، جہاں پہلے سے مٹی کے تیل کی بوتلیں اور مشعلیں رکھی ہوئی تھیں، اور انہیں یہ سامان اٹھانے پر مجبور کر کے ویڈیو بنایا گیا۔

وکیلوں کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں درج تقریباً 14 ایف آئی آر میں سے اب تک صرف ایک کی نقل ملی ہے، جبکہ گرفتاری، تلاشی اور ضبطی سے متعلق ضروری دستاویز بھی فراہم نہیں کیے گئے ہیں۔ شکایت میں ان الزامات کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ستیم ورما: صحافی کی گرفتاری پر سوال

گزشتہ28 اپریل کو نئی دہلی میں واقع پریس کلب آف انڈیا میں ’ستیم ورما رہائی منچ‘ نے ایک پریس کانفرنس کر کے سینئر صحافی اور مترجم ستیم ورما سمیت کئی گرفتار افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ منچ کا کہنا تھا کہ ستیم ورما کو نوئیڈا مزدور تحریک سے متعلق تشدد کے معاملے میں ’غیر قانونی طریقے سے‘ پھنسایا گیا ہے، جبکہ ان کا اس پوری تحریک سے کوئی براہ راست تعلق نہیں تھا۔

منچ کی کنوینر کویتا کرشن پلوی نے الزام لگایا کہ ستیم ورما کو ان کی ’تنقیدی آواز‘ کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا اور معاملے میں ملزم بنا کر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ ان کے مطابق، 11 اپریل سے ہی بغیر وارنٹ پوچھ گچھ اور دباؤ ڈالنے کا عمل شروع ہو گیا تھا، اور بعد میں بغیر مناسب قانونی عمل کے تلاشی اور ضبطی کی کارروائی کی گئی، جس میں الکٹرانک آلات اور دستاویز بغیر سیزر میمو کے لے لیے گئے۔

کرشن پلوی نے یہ بھی کہا کہ ستیم ورما نے اس دوران نوئیڈا کا رخ بھی نہیں کیا اور نہ ہی ان کا مزدوروں یا کارکنوں سے کوئی براہ راست رابطہ تھا۔

پریس کانفرنس میں مزید الزام لگایا گیا کہ گرفتاری کے بعد ستیم ورما کو دو دن تک عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، انہیں وکیلوں سے رابطہ کرنے اور ضروری ادویات لینے تک کی اجازت نہیں دی گئی۔

مقررین نے دعویٰ کیا کہ اس پورے معاملے میں پولیس اور انتظامیہ مزدور تحریک سے متعلق اختلافی آوازوں کو بھی’ سازش‘کے دائرے میں رکھ کر دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ منچ نے تمام گرفتار افراد کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

ایف آئی آر میں بھی بے ضابطگیاں

دی وائر کو اس معاملے کی تین ایف آئی آر کی کاپیاں ملی ہیں۔ ان میں درج تفتیشی افسران کے موبائل نمبر غلط پائے گئے۔ نوئیڈا فیز-3 تھانے میں درج ان تینوں ایف آئی آر میں جہاں افسران کے موبائل نمبر ہونے چاہیے تھے، وہاں صرف 9 ہندسوں پر مشتمل نمبر درج تھے، جبکہ عموماً موبائل نمبر 10 ہندسوں کے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ تھانہ انچارج اودھیش پرتاپ کا نمبر بھی غلط درج پایا گیا۔

انتظامیہ سے جواب نہیں ملا

دی وائر نے اس معاملے میں درج ایف آئی آر، گرفتاریوں اور حراست میں بند افراد کے اہل خانہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر اتر پردیش پولیس کا مؤقف جاننے کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا۔

سب سے پہلے نوئیڈا فیز-2 تھانے کے ایس ایچ او سے بات کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر تبصرہ کرنے کے مجاز نہیں ہیں اور کمشنر دفتر کے پیشکار سے رابطہ کرنے کو کہا۔

اس کے بعد کمشنر دفتر میں پیشکار ابھیناش تیاگی سے رابطہ کیا گیا، لیکن انہوں نے بھی اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا سیل سے بات کرنے کا مشورہ دیا۔

میڈیا سیل سے رابطہ کرنے پر ایک افسر وجئے نے بھی کسی قسم کی معلومات دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اس معاملے میں معلومات صرف جوائنٹ کمشنر ہی دے سکتے ہیں۔

اس کے بعد جوائنٹ کمشنر راجیو نارائن مشرا سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن ان سے بات نہیں ہو سکی۔ انہیں سوال بھیجے گئے ہیں اور جواب ملنے پر رپورٹ کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔

جب مزدوروں کا غصہ پھوٹ پڑا!

گزشتہ ماہ نوئیڈا کے صنعتی کلسٹروں میں کام کرنے والے ہزاروں مزدور اپریل میں سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ یہ وہ مزدور ہیں جو آٹو پارٹس، الکٹرانکس، کپڑا اور چھوٹے مینوفیکچرنگ صنعتوں میں کام کرتے ہیں۔ برسوں سے انہیں تقریباً 10,000 سے 15,000 روپے ماہانہ تنخواہ مل رہی تھی۔ مہنگائی بڑھتی رہی، لیکن ان کی آمدنی تقریباً جمود کا شکار رہی۔

ان میں بڑی تعداد مہاجر مزدوروں کی ہے، جو شہر کے مضافاتی علاقوں میں تنگ کمروں میں رہتے ہیں، اپنے خاندانوں کو پیسے بھیجتے ہیں اور محدود آمدنی میں زندگی گزارتے ہیں۔ اسی دوران گھریلو کام کرنے والی خواتین نے بھی نوئیڈا کی پوش سوسائٹیوں کے باہر تنخواہ بڑھانے کے مطالبے کو لے کر احتجاج کیا۔

گزشتہ13 اپریل کو ہونے والے تصادم سے پہلے مزدوروں نے دو دن تک پُرامن دھرنا دیا تھا۔ ریاستی حکومت نے 11 اپریل کو کچھ مزدور فلاحی اقدامات کا اعلان کیا تھا، جن میں اوور ٹائم کا دوگنا معاوضہ اور کم از کم اجرت میں 21 فیصد اضافہ شامل تھا۔ لیکن مظاہرین اسے ناکافی قرار دے رہے تھے۔

تشدد کیسے بھڑکا، اس پر دو دعوے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ پولیس نے بغیر اشتعال کے طاقت کا استعمال کیا، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ بھیڑ پرتشدد ہو گئی تھی، اس لیے کارروائی ضروری تھی۔

نوئیڈا میں 13 اپریل 2026 کو تنخواہ بڑھانے کے مطالبے پر احتجاج کے دوران فیکٹری مزدوروں نے پولیس کی ایک موٹر سائیکل کو آگ لگا دی۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

اس کے بعد نوئیڈا پولیس کمشنر لکشمی سنگھ نے سات ایف آئی آر اور 300 سے زائد گرفتاریوں کی اطلاع دی۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس واقعہ کو ریاست کی ترقی کو پٹری سے اتارنے کی’ سازش‘قرار دیا۔

مزدور تحریک سے ’داخلی سلامتی‘تک

یہ معاملہ صرف چند گرفتاریوں تک محدود نہیں ہے۔ یہ ایک وسیع رجحان کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس میں مزدوروں کے مطالبات، طلبہ-کارکنوں کی یکجہتی، صحافیوں کی موجودگی اور سماجی تنظیموں کی شمولیت کو ایک ہی فریم میں’سازش ‘کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

جو سوال مزدوری، محنت کشوں کے حقوق اور عدم مساوات سے شروع ہوا تھا، وہ اب شہری آزادیوں، پولیس کارروائی اور عدالتی عمل تک جا پہنچا ہے۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...