
اسرائیل کے معروف اور نڈر انسانی حقوق کے ادارےبی ٹسلم کے ترجمان یائر دویر۔ فوٹو: اسپیشل ارینجمنٹ
جیسے جیسے مشرقِ وسطیٰ کا تزویراتی نقشہ تبدیل ہو رہا ہے اور عالمی سیاست کا مرکز ثقل ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان پھیلتی ہوئی ایک ہمہ گیر جنگ اور لبنان کے دہکتے ہوئے محاذ کی طرف منتقل ہو رہا ہے، بحیرہ روم کے ساحل پر فلسطینی زمین کا وہ لہو رنگ ٹکڑا غزہ پٹی عالمی ضمیر اور شہ سرخیوں سے بتدریج اوجھل ہوتا جا رہا ہے۔
اکتوبر 2025 میں جس جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، اسے ایک بڑی انسانی راحت اور بارود کے دھوئیں میں ایک وقفے کے طور پر دیکھا گیا تھا۔
لیکن زمین پر موجود حقائق ا بھی بھی ایک ہولناک کہانی سنا رہے ہیں۔ وہاں بمباری اب بھی جاری ہے، انسانی بحران سنگین تر ہو چکا ہے، اور اس محصور علاقے میں زندگی ایک ایسی بے یقینی کے سائے میں گزر رہی ہے جہاں نہ کوئی قانون ہے اور نہ ہی تحفظ۔
اسی گھمبیر صورتحال کے ادراک کےلیے میں نے اسرائیل کے معروف اور نڈر انسانی حقوق کے ادارےبی ٹسلم کے ترجمان یائر دویرسےرابطہ کیا۔ ان کی گفتگو محض ایک انٹرویو نہیں بلکہ اس نسل پرست نظام کے
پردے چاک کرنے کی ایک کوشش ہے جو علاقائی جنگوں کی آڑ میں ایک پوری قوم کو مٹانے پر تلا ہوا ہے۔
اسرائیل جیسےتشدد پسند معاشرے میں، جہاں ریاست کی پالیسیوں پر تنقید کو غداری سے تعبیر کیا جاتا ہے، بی ٹسلم (انسانی حقوق کے لیے اسرائیلی معلوماتی مرکز)مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ایک ایسی اخلاقی آواز ہے جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔
سال1989میں قائم ہونے والا یہ ادارہ محض ایک غیر سرکاری تنظیم نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا مشن ہے جو اسرائیل کے اندرسے کام کرتا ہے۔ اس کا عبرانی نام بائبل کی اس آیت سے لیا گیا ہے جس کا مفہوم ہے کہ ہر انسان خدا کی صورت پر تخلیق کیا گیا ہے۔یعنی ہر انسان کی جان اور حرمت برابر ہے۔
بی ٹسلم کا کام مقبوضہ فلسطینی علاقوں غزہ، مغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کی غیر جانبدارانہ دستاویز سازی کرنا ہے۔
یہ ادارہ ویڈیو شہادتوں، اعداد و شمار اور قانونی رپورٹوں کے ذریعے وہ سچ دنیا کے سامنے لاتا ہے جسے اسرائیلی پروپیگنڈا مشینری چھپانے کی کوشش کرتی ہے۔
اسرائیل کے اندر رہتے ہوئے اس کام کی بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے۔ بی ٹسلم کے کارکنوں کو ففتھ کالمسٹ کہا جاتا ہے، ان پر جسمانی حملے ہوتے ہیں، اور پارلیامنٹ یعنی کنیسٹ میں ان کی فنڈنگ روکنے کے لیے قوانین بنائے جاتے ہیں۔
لیکن اس سب کے باوجود، بی ٹسلم نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ وہ تاریخی رپورٹ تھی جس میں انہوں نے پہلی بار اسرائیل کو ایک اپارتھائیڈ یعنی نسل پرست ریاست قرار دیا، جو دریائے اردن سے بحیرہ روم تک یہودیوں کی برتری کے اصول پر قائم ہے۔
یائر دویر اس ادارے کا وہ چہرہ ہیں جو خشک اعداد و شمار کو انسانی جذبات اور عالمی قانون کی زبان دیتے ہیں۔ دویر ایک ایسی نسل کے نمائندے ہیں جو اسرائیلی نظام کے اندر رہتے ہوئے اس کے تضادات کو قریب سے دیکھتی ہے۔
بطور ترجمان، ان کی ذمہ داری صرف پریس ریلیز جاری کرنا نہیں بلکہ عالمی برادری کو یہ باور کرانا ہے کہ جب دنیا تہران اور واشنگٹن کے درمیان تزویراتی چالوں کو دیکھ رہی ہوتی ہے، تو غزہ کی گلیوں میں ایک ایک کر کے انسانیت دم توڑ رہی ہوتی ہے۔
دویر کا تجزیہ دو ٹوک اور لرزہ خیز ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ایران اور لبنان کے ساتھ چھیڑی گئی جنگ دراصلاسرائیل کےلیے ایک سیاسی ڈھال بن گئی ہے۔ جس کے پیچھے وہ اپنے اس ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچا رہا ہے جسے وہ عام حالات میں انجام نہیں دے سکتا تھا۔
گفتگو کے آغاز میں ہی یائر دویر نے ایک تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کیا کہ جنگ بندی کے سات ماہ بعد بھی صورتحال بہتر ہونے کے بجائے بدتر ہو چکی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیل نے تمام فلسطینیوں کے خلاف ایک ہمہ جہت جنگ چھیڑ رکھی ہے۔
غزہ میں نسل کشی اور مکمل مسماری ہو رہی ہے، مغربی کنارے میں نسلی صفائی کا عمل تیز ہے، اور خود اسرائیل کے اندر فلسطینیوں کے خلاف امتیازی سلوک کی جڑیں گہری ہو رہی ہیں۔ دنیا یہ سمجھ رہی ہے کہ توجہ ہٹنے سے ظلم رک گیا ہے، لیکن حقیقت میں اسرائیل اس خاموشی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
دویر نے بڑے کرب سے بیان کیا کہ ایران اور لبنان کے محاذوں نے اسرائیل کو ایک توجہ ہٹانے کی حکمت عملی فراہم کر دی ہے۔ جب عالمی میڈیا کے کیمرے تہران کے میزائلوں اور بیروت پر گرنے والے بموں کی طرف مڑ گئے، تو اسرائیل نے مغربی کنارے میں آبادکار یہودی ملیشیاؤں کھلی چھوٹ دے دی۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ آبادکار اور اسرائیلی فوج مل کر روزانہ فلسطینیوں پر حملے کر رہے ہیں۔ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک صرف آبادکاروں نےکئی فلسطینیوں کو شہید کیا، ان کے گھر جلائے اور ان کے مویشی لوٹ لیے۔ یہ وہ سچ ہے جو بڑی جنگوں کی سرخیوں میں دب گیا ہے۔
جنگ بندی کے معاہدے پر بات کرتے ہوئے دویر نے انکشاف کیا کہ اسرائیل نے اسے پہلے ہی دن سے پیروں تلے روند دیا تھا۔ اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد سے اب تک 750 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں سے 400 شہادتیں فروری 2026 میں ایران پر ہونے والے اسرائیلی-امریکی حملے کے دوران ہوئیں۔
دویر نے سب سے ہولناک انکشاف ییلو یعنی پہلی لکیر کے حوالے سے کیا، جس کو اسرائیل نے کھینچ کر ایک بفر زون قائم کیا ہے۔ یہ وہ لکیر ہے جس نے غزہ کے جغرافیے کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا ہے۔ ٹرمپ کے منصوبے کے تحت بنائی گئی اس لکیر نے غزہ کا آدھے سے زیادہ رقبہ عارضی طور پر اسرائیلی کنٹرول میں دے دیا ہے۔
سیٹلائٹ تصاویر بتاتی ہیں کہ اسرائیل نے اس لائن کے ساتھ سات نئی مستقل فوجی چوکیاں قائم کی ہیں اور کلومیٹر طویل زمینی باڑ لگا دی ہے۔ اب 21 لاکھ انسانوں کو غزہ کے آدھے سے بھی کم رقبے پر ٹھونس دیا گیا ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ تقریباًً 16 لاکھ لوگ شدید ترین فاقہ کشی کا شکار ہونے والے ہیں کیونکہ اسرائیل نے امداد میں 80 فیصد تک کمی کر دی ہے۔
مارچ میں صرف 16 مریضوں کو علاج کے لیے باہر جانے دیا گیا، جبکہ 18 ہزار سے زائد زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ یہ کوئی قدرتی آفت نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی انسانی تباہی ہے جو اسرائیل نے خود انجینئر کی ہے۔
بی ٹسلم کی جانب سے غزہ مہم کو نسل کشی’ قرار دینے کے سوال پر دویر نے قانونی باریکیوں پر روشنی ڈالی۔ ان کے بقول، کسی بھی کارروائی کو نسل کشی ثابت کرنے کےلیے ارادہ سب سے اہم ہوتا ہے۔
آپ کو کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں، صرف اسرائیلی قیادت کے بیانات دیکھ لیں۔ جب وزراء کھلے عام کہتے ہیں کہ غزہ میں کوئی معصوم نہیں، جب وہ فاقہ کشی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا اعلان کرتے ہیں اور جب وہ عبرانی میڈیا پر فخر سے کہتے ہیں کہ وہ پورے شہروں کو مٹا دیں گے، تو ارادہ واضح ہو جاتا ہے۔ 70 ہزار سے زائد ہلاکتیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، ہسپتالوں کی تباہی اور صحافیوں کا قتل محض اتفاق نہیں ہے۔ یہ ایک پوری قوم کو مٹانے کا طے شدہ منصوبہ ہے۔
مغربی کنارے کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے یائر دویر کی آواز میں غصہ اور دکھ صاف جھلکتا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ اب اسرائیلی فوج اور یہودی مسلح آبادکاروں کے درمیان فرق مٹ چکا ہے۔
آج یہ پہچاننا مشکل ہے کہ کون آبادکار ہے اور کون فوجی۔ آبادکار اب فوجی وردیاں پہن کر اور ریاست کے دیے ہوئے ہتھیاروں سے فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر رہے ہیں۔ اب تک 59 فلسطینی کمیونٹیز کو ان کی زمینوں سے صاف کیا جا چکا ہے۔
ان کا ماننا ہے کہ اسرائیل اس وقت مغربی کنارے کومکمل طور پر ضم کرنے کی دوڑ میں ہے تاکہ تیس لاکھ فلسطینیوں کو الگ تھلگ جزیروں میں قید کر دیا جائے اور پورے علاقے پر یہودی برتری کو قانونی شکل دے دی جائے۔ یہ سب کچھ اس لیے ممکن ہو رہا ہے کیونکہ دنیا کی نظریں ایران اور لبنان کے محاذ پر لگی ہیں۔
لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے دویر نے ایک خطرناک حقیقت کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے وزیرِ دفاع نے خود تسلیم کیا ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں رفح اور بیت حانون ماڈل دہرا رہے ہیں ۔
’اس کا مطلب ہے؛ بے دریغ بمباری، آبادی کی جبری منتقلی اور دیہاتوں کو ملبے کے ڈھیر میں بدلنا۔ اسرائیل کو لگتا ہے کہ اسے ایک ایسا لائسنس مل گیا ہے جہاں وہ جو چاہے کر سکتا ہے کیونکہ عالمی برادری اسے روکنے میں ناکام رہی ہے۔‘
جنوبی لبنان کے کئی قدیم دیہات اب صرف تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔
جب ان سے عالمی اداروں اور آئی سی سی یعنی عالمی فوجداری عدالت کے بارے میں پوچھا گیا، تو دویر نے نہایت مایوسی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں جس طرح اسرائیل کو استثنیٰ دی گئی ہے، اس نے عالمی احتسابی نظام کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔
ہم انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے دم توڑتے دیکھ رہے ہیں۔ یہ صرف فلسطینیوں پر حملہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس عالمی قانون کے تصور پر حملہ ہے جس کے تحت ہم سب کو تحفظ ملنا تھا۔ اس کی قیمت آج فلسطینی چکا رہے ہیں، کل پوری انسانیت چکائے گی۔
یائر دویر نے ہندوستان اورگلوبل ساؤتھ کے دیگر ممالک کے کردار پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ حکومتیں جو نسل کشی کے اتنے عرصے بعد بھی اسرائیلی پالیسیوں کی حمایت کر رہی ہیں، وہ اپنے ہی اخلاقی وجود کو کھو رہی ہیں۔
گلوبل ساؤتھ کے عوام اب حقیقت جان چکے ہیں۔ انہیں اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ اس ناانصافی کو ختم کرانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اسرائیل وہ جمہوریت نہیں ہے جس کا وہ دعویٰ کرتا ہے، بلکہ ایک ظالم اپارتھائیڈ یعنی نسل پرست نظام ہے۔
گفتگو کے اختتام پر دویر نے اسرائیلی معاشرے کی نفسیاتی کیفیت کا نہایت گہرا تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی معاشرہ ایک ایسے نظام کے تحت پروان چڑھ رہا ہے جہاں بچپن سے ہی فوجی برتری اور فلسطینیوں کی تذلیل سکھائی جاتی ہے۔
غزہ میں نسل کشی اس لیے ممکن ہوئی کیونکہ ہم نے عشروں سے اپنے ذہنوں میں فلسطینیوں کو انسان ماننا چھوڑ دیا تھا۔ ریاست کی پروپیگنڈا مشینری نے لوگوں کو یہ یقین دلا دیا ہے کہ ان کی بقا دوسروں کی تباہی میں ہے۔
ان کے اس بیان نےمجھے چونکا دیا کہ کہیں اس وقت ہندوستان میں ہندو فرقہ پرست کی طرف سے جس طرح مسلمانوں کو ایک باضابطہ پلان کے تحت لو جہاد، لینڈ جہاد وغیرہ مفروضوں کو لےکر ایک ویلن کے بطور اکثریتی فرقہ کے سامنے پیش کیا جار ہا ہے کہ کہیں یہ اسی ماڈل کی تیاری تو نہیں ہے؟
یائر دویر کی یہ گفتگو ایک ایسی یاد دہانی ہے کہ جب دنیا تزویراتی چالوں، تہران کے میزائلوں اور واشنگٹن کی ڈپلومیسی میں الجھی ہوتی ہے، تو کہیں دور، ایک محصور پٹی میں انسانیت سسک سسک کر دم توڑ رہی ہوتی ہے۔
بی ٹسلم کا یہ ترجمان ہمیں خبردار کر رہا ہے کہ غزہ کی خاموشی دراصل عالمی ضمیر کی موت ہے۔ اگر آج ہم نے ان چیخوں کو نہ سنا جو بڑی جنگوں کے شور میں دب گئی ہیں، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
یہ انٹرویو صرف ایک صحافتی تحریر نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت کا نوحہ ہے جسے دنیا نے اپنی سہولت کے لیے بھلادیا ہے۔غزہ آج بھی وہاں کھڑا ہے جہاں کل تھاتنہا، زخمی اور سسکتا ہواصرف اس فرق کے ساتھ کہ اب اس کی تکلیف عالمی سرخیوں میں نہیں، بلکہ صرف تاریخ کے خونی صفحات میں لکھی جا رہی ہے۔
Categories: خاص خبر, خبریں, عالمی خبریں, فکر و نظر






