
نفرت انگیز تقاریر کے خلاف فوری طور پر نئے اور سخت قوانین کا مطالبہ کرنے والی درخواستوں کے تناظر میں یہ تبصرہ اہم مانا جارہا ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ موقف واضح کرتا ہے کہ نفرت انگیز تقاریر کو روکنے کی ذمہ داری اب مکمل طور پر ایگزیکٹو اور موجودہ قانونی نظام پر ہے۔ عدالت نے اشارہ دیا کہ نئے قانون کی توقع کرنے کے بجائے انتظامیہ کو موجودہ آئی پی سی (اب بھارتیہ نیائے سہنتا) اور دیگر دفعات پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔






