2025 میں تعداد 24 ہزار سے تجاوز

AhmadJunaidJ&K News urduApril 28, 2026361 Views


الکٹرانکس اور آئی ٹی کی وزارت کی جانب سے جاری کیے جانے والے آن لائن مواد کو بلاک کرنے کے احکامات کی تعداد ایک سال میں دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ 2023 میں اوسطاً 6,000 احکامات تھے جو بڑھ کر 2025 میں 24,300 تک پہنچ گئے۔ ان میں سے نصف سے زیادہ احکامات وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے۔

تصویر علامتی ہے، جسے کینوا کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔

نئی دہلی: الکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کی وزارت کی جانب سے آن لائن مواد کو بلاک کرنے کے احکامات کی تعداد گزشتہ ایک سال میں دوگنی ہو گئی ہے۔ انڈین ایکسپریس نے حکام کے حوالے سے لکھا ہے کہ سوشل میڈیا پر ڈیپ فیک ویڈیو کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ اور مختلف پلیٹ فارمز پر مصنوعی ذہانت سےتیار کردہ قابل اعتراض مواد اس کی بڑی وجوہات ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر احکامات ایکس کے لیے تھے۔

سال2023میں پارلیامنٹ کو بتایا گیا تھا کہ وزارت ہر سال اوسطاً 6,000 بلاکنگ احکامات جاری کرتی ہے۔ تاہم سینئر حکام نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ یہ تعداد 2024 میں بڑھ کر تقریباً 12,600 اور 2025 میں دسمبر تک 24,300 تک پہنچ گئی۔

وزارت کے حکام کے مطابق، فی الحال یو آر ایل بلاک کرنے کے تقریباً 60 فیصد احکامات ایکس پر موجود مواد کے لیے ہوتے ہیں، جبکہ 25 فیصد فیس بک اور انسٹاگرام کے لیے، اور تقریباً 5 فیصد یوٹیوب کے لیے ہوتے ہیں۔

اخبار نے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ نصف سے زیادہ درخواستیں وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کے نوڈل افسران کی جانب سے آتی ہیں۔

ذرائع نے اخبار کو بتایاکہ کئی بلاکنگ احکامات سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں سے متعلق انسٹاگرام، فیس بک اور یوٹیوب پوسٹ کے یو آر ایل ہٹانے کے لیے بھی جاری کیے گئے۔

کچھ رہنماؤں نے اپنے نام اور تصویروں کا استعمال کرتے ہوئے بنائے گئے فرضی سوشل میڈیا پوسٹ کے خلاف وزارت داخلہ یا الکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کی وزارت میں شکایات بھی درج کرائی ہیں۔

یہ بلاکنگ احکامات انفارمیشن ٹکنالوجی ایکٹ 2000 کی دفعہ 69اےکے تحت جاری کیے جاتے ہیں۔ اس کے پانچ بنیادی جواز ہیں: ملک کی خودمختاری اور سالمیت کا تحفظ، دفاع اور سلامتی، غدوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات، عوامی نظم و ضبط کو برقرار رکھنا، اور جرائم کی تفتیش۔

حکومت اس بات پر بھی غور کر رہی ہے کہ وزارت داخلہ، وزارت خارجہ، وزارت دفاع اور وزارت اطلاعات و نشریات کو بھی دفعہ 69 اےکے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بلاکنگ احکامات جاری کرنے کا اختیار دیا جائے، تاکہ الکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کی وزارت کے علاوہ یہ وزارتیں بھی ایسے احکامات جاری کر سکیں۔

دفعہ 69 اےکے تحت حتمی بلاکنگ حکم جاری ہونے سے پہلے ایک طے شدہ طریقہ کار ہے؛

وزارت میں ایک نامزد افسر ’بلاکنگ کمیٹی‘کی سربراہی کرتا ہے۔ اس کمیٹی میں وزارت قانون و انصاف، وزارت داخلہ، وزارت اطلاعات و نشریات اور سی ای آر ٹی-آئی این کے نمائندے (جوائنٹ سکریٹری  کی سطح کے یا اس سے اوپر) شامل ہوتے ہیں۔

کمیٹی کی جانب سے منظور کیے گئے ہر حکم کو حتمی منظوری الکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کی وزارت کے سکریٹری سے لینی ضروری ہوتی ہے۔

حکام کے مطابق، بلاکنگ کمیٹی کی بیٹھکوں میں میٹا اور ایکس جیسی عالمی سوشل میڈیا کمپنیوں کے افسران بھی شامل ہوتے ہیں اور ہر معاملے پر اپنا موقف پیش کرتے ہیں۔

پہلے یہ کمیٹی عموماً ہفتے میں ایک بار اجلاس کرتی تھی، لیکن اب اس کی ورچوئل میٹنگز ہفتے میں کئی بار ہو رہی ہیں۔

دفعہ 69اےمیں ایک ’ہنگامی‘شق بھی موجود ہے، جس کے تحت نامزد افسر کو تحریری طور پر یہ وضاحت دینی ہوتی ہے کہ کمیٹی کے اجلاس کے بغیر فوری بلاکنگ حکم کیوں جاری کیا گیا۔ ایسے احکامات کو 48 گھنٹوں کے اندر کمیٹی سے منظوری  ضروری ہوتی ہے۔

ایک سینئر افسر کے مطابق، اس ’عبوری‘شق کے استعمال  میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

’قابل اعتراض‘ یو آر ایل کو بلاک کرنے سے متعلق مکمل معلومات حکومت کی جانب سے عوامی طور پر شیئر نہیں کی جاتیں۔ 2023 میں اُس وقت کے وزیر مملکت راجیو چندر شیکھر نے پارلیامنٹ کو بتایا تھا کہ جنوری 2018 سے اکتوبر 2023 کے درمیان وزارت نے 36,838 یو آر ایل بلاک کیے، یعنی اوسطاً تقریباً 6,000 سالانہ۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...