
اتر پردیش کے وارانسی میں نمو گھاٹ پرریت سے بنائی ’ ناری شکتی وندن ایکٹ‘سے متعلق ایک فنکاری۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)
ہمارے جمہوری نظام کی ستم ظریفی یہ ہے کہ خواتین انتخابات میں اپنے ووٹ کی طاقت کا مظاہرہ تو کرتی ہیں، لیکن آبادی کے تناسب سے پارلیامنٹ اور اسمبلیوں میں داخل نہیں ہو پاتی ہیں۔ تمام تاریخی وجوہات کی بنا پر خواتین عوامی نمائندہ بننے میں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ ان کی مناسب نمائندگی کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔
سال2023میں پارلیامنٹ نے متفقہ طور پر ناری شکتی وندن ایکٹ کو منظور کیا، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ یقینی بنایا کہ قانون بننے کے بعد بھی خواتین کو ابھی انتظار کرنا پڑے گا۔ خواتین کے ساتھ دھوکہ کرتے ہوئے مودی حکومت نے اسے آئندہ مردم شماری اور حد بندی تک مؤخر کر دیا تھا۔ جبکہ خواتین ریزرویشن کو نافذ کر کے 2024 کے لوک سبھا اور اس کے بعد ہونے والے کئی اسمبلی انتخابات کرائے جا سکتے تھے۔
لیکن قانون بنا کر بھی اسے نافذ نہ کرنے کی عجیب و غریب مثال پیش کرتے ہوئے مودی حکومت نے اپنی خواتین مخالف پالیسی کا ثبوت دیا، جبکہ اس کا اصل مقصد 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں خواتین کا ووٹ حاصل کرنا تھا۔
تاہم خواتین کی سیاسی بیداری اور شرکت اتنی بڑھ چکی ہے کہ وہ مودی حکومت کے اس دھوکے کو سمجھ چکی ہیں۔ اسی لیے مودی حکومت کو 2026 میں کیرالہ، بنگال، آسام اور پڈوچیری جیسے صوبوں میں خواتین کے ووٹ فریب سے حاصل کرنے کے لیے پھر سے کوشش کرنی پڑی۔
ایک بار منظور شدہ بل کو دوبارہ پارلیامنٹ میں پیش کرنا دراصل خواتین ریزرویشن کی آڑ میں حد بندی کر کے اپنی جیت یقینی بنانے کی ایک چال بھرتھی۔ اسی لیے یہ بل پارلیامنٹ میں خارج ہو گیا۔ قاعدے سے تو مودی جی کو استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا کیونکہ اس سے ان کی حکومت کے اقلیت میں ہونے کا ثبوت مل گیا تھا۔
اس کے برعکس، مودی حکومت کی مشینری، پوری بی جے پی اور پورا میڈیا اس بل کے منظور نہ ہونے کا الزام اپوزیشن پر ڈالنے میں مصروف ہو گیا۔ اس سے سیاسی بے شرمی اور خواتین کے ساتھ دھوکے کی حقیقت سامنے آ گئی۔
حد بندی کا فریب
دراصل، حکومت نے جو بل پیش کیا تھا، اس میں خواتین کے ریزرویشن سے زیادہ زور حد بندی پر تھا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ بل خواتین کے ریزرویشن کے نام پر حد بندی نافذ کر کے طویل عرصے تک اقتدار میں بنے رہنے کی مودی حکومت کی سازش تھی۔ یہ خواتین کو بااختیار بنانے کا اقدام نہیں بلکہ 2029 کے لوک سبھا انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے بی جے پی کی ایک سیاسی چال تھی، جسے بروقت کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے روک دیا۔
اس بل کی سچائی یہ ہے کہ یہ خواتین ریزرویشن کی آڑ میں جنوبی ہندوستان اور خواتین دونوں کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔
اگر مودی حکومت اور بی جے پی کی نیت واقعی صاف ہوتی تو یہ خواتین ریزرویشن 2024 کے عام انتخابات میں ہی لاگوکیا جانا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ وجہ صاف ہے۔ ان کا مقصد خواتین کو اقتدار میں حقیقی حصہ دینا نہیں بلکہ ان کے نام پر ووٹ کی سیاسی فصل کاٹنا تھا۔
درحقیقت خواتین ریزرویشن کی اصل اور ٹھوس بنیاد کانگریس نے رکھی تھی۔ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کی دور اندیش حکومت نے 73ویں اور 74ویں آئینی ترامیم کے ذریعے پنچایتی راج اداروں میں خواتین کے لیے ایک تہائی ریزرویشن کویقینی بنایا تھا۔ یہ کوئی جملہ نہیں تھا بلکہ ایک حقیقی حق تھا۔ اسی کی بدولت کرناٹک جیسی ریاستوں نے اس تجربے کو اس قدر کامیاب بنایا کہ انہوں نے پنچایتی سطح پر ریزرویشن کو 50 فیصد تک بڑھا دیا۔ 15 سے زیادہ صوبوں نے اس کی پیروی کی۔
ان خواتین عوامی نمائندوں نے پنچایتی راج کی سمت ہی بدل دی۔ یہ تجربہ نہ صرف کامیاب رہا بلکہ اس نے یہ بھی ثابت کیا کہ خواتین کی قیادت کی صلاحیت سسٹم کی سوچ سے کہیں زیادہ ہے۔ یعنی جب کانگریس نے خواتین کو حق دیا تو اسے فوراً اور بغیر کسی شرط کے نافذ کیا۔ جبکہ جب بی جے پی نے دیا تو اس میں اتنی شرائط، پیچیدگیاں اور غیر یقینی صورتحال شامل کر دی گئی کہ وہ حق کم اور انتخابی نعرہ زیادہ لگنے لگا۔
گزشتہ دنوں پارلیامنٹ کےخصوصی اجلاس میں پیش کیا گیا خواتین ریزرویشن بل محض خواتین کے ریزرویشن تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے ایک بڑی اور خطرناک سیاسی چال چھپی ہوئی ہے جو براہ راست ہندوستان کے وفاقی ڈھانچے پر حملہ کرتی ہے۔ اگر اسے سمجھنے کی کوشش کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حد بندی کے ذریعے شمالی ہندوستان کی سیاسی بالادستی قائم کرنا اور اس کے لیے خواتین کے حقوق کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنا اس کا اصل مقصد ہے۔
ہندوستان میں آبادی پر کنٹرول کے معاملے میں جنوبی صوبوں جیسے تمل ناڈو، کیرالہ، کرناٹک، آندھرا پردیش اور تلنگانہ نے غیر معمولی پیش رفت کی ہے۔ ان ریاستوں نے حکومتی پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے آبادی میں اضافے کو قابو میں رکھا۔ لیکن اب اگر آبادی کی بنیاد پر حد بندی ہوگی تو ان کی پارلیامانی نشستیں کم ہو جائیں گی یا پھر ویسی کی ویسی رہیں گی، جبکہ اتر پردیش، بہار اور مدھیہ پردیش جیسے صوبوں کی نشستیں بڑھ جائیں گی۔
وزیر داخلہ امت شاہ نے یقین دہانی کرائی کہ جنوبی ہندوستان کی نشستیں کم نہیں ہوں گی بلکہ بڑھیں گی، لیکن اپوزیشن کا سوال یہ ہے کہ جب شمالی ہندوستان کی نشستیں اور زیادہ بڑھیں گی تو جنوبی ریاستوں کا تناسب لازماً کم ہو جائے گا۔ یعنی تناسب کے لحاظ سے ان کی طاقت میں کمی آئے گی۔
تمل ناڈو میں ڈی ایم کے جیسی پارٹیاں، جو سماجی انصاف اور خواتین کے حقوق کی حقیقی علمبردار رہی ہیں، اسی وجہ سے اس بل کی کھل کر مخالفت کر تی ہیں۔ یہ خواتین کو بااختیار بنانے کا اقدام نہیں بلکہ خواتین کے کندھوں پر بندوق رکھ کر پورے ملک کے علاقائی توازن اور وفاقی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔
زبان، خطہ اور نظریے کی عددی برتری قائم کرنے کے لیے خواتین کے نام کا استعمال کرنا بی جے پی کی سیاست کی ایک انتہائی قابل مذمت شکل ہے۔
یہاں ایک عالمی مثال بہت اہم ہے جو یہ دکھاتی ہے کہ جب کوئی حکمراں جماعت عوام میں اپنی مقبولیت کھونے لگتی ہے تو وہ انتخابات لڑنے کے بجائے انتخابی قوانین کو ہی اپنے حق میں بدل دیتی ہے۔
ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے 2010 میں اقتدار میں آنے کے بعد یہی کیا۔ انہوں نے 2011 میں پارلیامنٹ میں اپنی جماعت فیڈیز پارٹی کی دو تہائی اکثریت کا استعمال کرتے ہوئے یکطرفہ طور پر، بغیر کسی اپوزیشن جماعت سے مشورہ کیے، انتخابی قوانین میں تبدیلی کر دی۔
سال2014 کے انتخابات میں فیڈیز پارٹی کو کل ووٹوں کا صرف 45 فیصد حاصل ہوا تھا۔ لیکن غیر مساوی انتخابی حلقوں کی وجہ سے انہوں نے سنگل سیٹ اضلاع کا 91 فیصد جیت لیا اور مجموعی نشستوں میں دو تہائی اکثریت حاصل کر لی۔ فیڈیز پارٹی نے 2011 کے انتخابی قانون کے ذریعے حد بندی کی سرحدیں اس طرح کھینچیں کہ جیتنے والی سیاسی جماعت کو طویل عرصے تک فائدہ ملے۔ یہ عمل غیر شفاف طریقے سے انجام دیا گیا تھا اور ایک طرح سے یہ عام لوگوں کے ساتھ دھوکہ بھی تھا۔
اب اگر ہم اسے حد بندی کے تناظر میں دیکھیں تو واضح ہوگا کہ پارلیامانی نشستیں بڑھانے سے بی جے پی کی لسانی اور علاقائی فرقہ واریت کو سب سے زیادہ فائدہ ہوگا، اور آبادی کی بنیاد پر حد بندی سے شمالی ہندوستان میں نشستیں بڑھیں گی جبکہ ان جنوبی ریاستوں کو نقصان ہوگا جنہوں نے آبادی کنٹرول کر کے مضبوط معیشتیں قائم کی ہیں۔
ہنگری میں بھی یہی ہوا تھا کہ آبادی کے حساب سے غیر مساوی انتخابی حلقہ بناؤ، اپنے مضبوط علاقوں کو زیادہ نمائندگی دو اور اپوزیشن کو عوامی حمایت ہونے کے باوجود نشستوں سے محروم رکھو۔ مودی حکومت حد بندی کے ذریعے یہی کرنے کی کوشش میں ہے، بس خواتین کے ریزرویشن کا نقاب اوڑھ رکھا ہے۔
حاشیے پر کھڑی خواتین کے ساتھ کھلا دھوکہ
بی جے پی جس 33 فیصد کا ڈھنڈورا پیٹتی ہے، اس میں ایک بڑا سچ جان بوجھ کر چھپایا جا رہا ہے۔ اس بل میں او بی سی، دلت، آدیواسی اور اقلیتی خواتین کے لیے کسی ذیلی ریزرویشن کا ایک لفظ بھی نہیں ہے۔
ہندوستان کی سماجی ساخت کو دیکھیں تو سب سے زیادہ مشکل حالات میں زندگی گزارنے والی خواتین او بی سی، دلت اور آدیواسی طبقات سے آتی ہیں۔ کھیتوں میں کام کرنے والی، مزدوری کرنے والی، منریگا میں دہاڑی کمانے والی خواتین کو اس بل سے کیا فائدہ ہوگا؟
اگر ان کے لیے کوئی خاص اہتمام نہیں ہوگا تو یہ 33 فیصد ریزرویشن صرف ان خواتین کے کام آئے گا جو پہلے سے سیاسی خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں اور جن کے پاس تمام وسائل موجود ہیں۔
فوٹو : پی ٹی آئی
سادہ لفظوں میں کہا جائے تو یہ بل بڑے لیڈروں کی بیویوں، بیٹیوں اور بہنوں کے لیے ایک کلب بنانے کا کام کرے گا۔ محروم، پسماندہ اور زمینی جدوجہد سے ابھرنے والی خواتین رہنماؤں کے لیے اس میں کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ کانگریس سمیت پورا اپوزیشن شروع سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ او بی سی ذیلی کوٹے کے بغیر یہ بل سماجی انصاف کا نہیں بلکہ سماجی امتیاز کا ایک نیا ہتھیار ہے۔
یہ بل اس وقت لایا گیا جب مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی قیادت میں لکشمی بھنڈار جیسی اسکیموں نے خواتین کے درمیان ترنمول کانگریس کی جڑیں مضبوط کر دی تھیں۔ بی جے پی نے ناری شکتی وندن کا نعرہ دیا تاکہ بنگال کی خواتین کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ حقیقی اور مستقل حصہ داری بی جے پی دے رہی ہے۔ اس طرح ناری شکتی کا کارڈ کھیل کر دو کام ایک ساتھ کیے جا سکتے ہیں؛پہلا، خواتین کے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش؛ دوسرا، حد بندی کے ذریعے جنوب کی سیاسی طاقت کو کم کرنا۔ یہ خواتین کی مدد نہیں بلکہ خواتین کے نام پر انتخابی جغرافیہ بدلنے کی کوشش ہے۔
آج منی پور ایک بار پھر جل رہا ہے۔ مدھیہ پردیش سمیت کئی ریاستوں میں خواتین اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ آئے دن خواتین کے خلاف جرائم کے معاملات بڑھتے جا رہے ہیں۔ مودی حکومت منی پور میں خواتین کو برہنہ گھمانے کے واقعے پر خاموش رہی۔ اتر پردیش کے ہاتھرس میں ریپ کے بعد قتل کی گئی ایک لڑکی کی لاش کو اہل خانہ کی عدم موجودگی میں رات کے وقت مٹی کا تیل ڈال کر جلا دیا گیا، تب بھی یہ حکومت خاموش تماشائی بنی رہی۔
اناؤ میں بی جے پی کے ایم ایل اے کلدیپ سینگر پر عصمت دری کا الزام لگا اور اس لڑکی کے اہل خانہ کو قتل کر دیا گیا۔ دہلی میں جب پہلوان بیٹیاں جنسی ہراسانی کے خلاف لڑ رہی تھیں تو انہیں انصاف دینے کے بجائے پولیس نے سڑکوں پر گھسیٹا۔ تب بھی مودی حکومت کو خواتین کے حقوق یاد نہیں آئے۔
بلقیس بانو کے ساتھ زیادتی کے مجرموں کو بی جے پی حکومت نے جیل سے رہا کیا اور پارٹی کے رہنماؤں نے پھولوں کے ہار پہنا کر ان کا استقبال کیا۔ انکیتا بھنڈاری قتل کیس میں بی جے پی کے ایک رہنما اور ان کے بیٹے کا نام آیا اور پورا اتراکھنڈ سڑکوں پر آ گیا، تب بھی مودی حکومت کی آنکھ نہیں کھلی۔ آج اچانک مودی حکومت کو خواتین کے حقوق یاد آنے لگے ہیں، آخر کیوں؟
یہ خواتین کو بااختیار بنانے کی کوشش نہیں ہے بلکہ ایک مخصوص نظریے کو، شمالی ہندوستان کی عددی برتری کو قائم کرنے کی کوشش ہے۔ اور اس کے لیے خواتین کے حقوق کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ خواتین کی مدد نہیں بلکہ خواتین کے نام پر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش ہے۔
(شوچی وشواس انڈین نیشنل کانگریس کی ترجمان ہیں۔)




