
ایک ممکنہ تجویز یہ ہو سکتی ہے کہ لوک سبھا کی مجموعی نشستوں میں اضافہ کیا جائے اور اضافی نشستوں کو خواتین کے لیے مختص کیا جائے۔ اس طریقے سے موجودہ حلقہ بندیوں میں بڑی تبدیلی کیے بغیر خواتین کی نمائندگی میں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔ اسی طرح راجیہ سبھا میں بھی نامزد نشستوں کے ذریعے خواتین کی شمولیت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
بنگلہ دیش کے تجربے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انتخابی شفافیت اور نمائندگی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے روایتی طریقوں سے ہٹ کر بھی سوچنا ضروری ہے۔ اگرچہ آڈٹ نے نتائج کی سطح پر اعتماد کو تقویت دی ہے، مگر انتخابی عمل کے دیگر پہلوؤں پر مزید توجہ دینے کی ضرورت برقرار ہے۔
آخرکار، کسی بھی جمہوریت کی مضبوطی کا دار و مدار صرف انتخابات کے انعقاد پر نہیں بلکہ ان پر عوام کے اعتماد پر ہوتا ہے۔ اگر یہ اعتماد کمزور پڑ جائے تو بہترین نظام بھی اپنی معنویت کھو دیتا ہے۔ یہی پیغام بنگلہ دیش کے انتخابی آڈٹ سے ابھر کر سامنے آتا ہے—اور یہی ہندوستان کے لیے ایک اہم سبق بھی ہے۔
(مضمون نگار سوربھ سین کولکاتا میں مقیم ایک آزاد صحافی اور تجزیہ نگار ہیں)






