نیوزلانڈری کی جرنلسٹ پر تبصرے کے معاملے میں ابھیجیت ایر مترا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم

AhmadJunaidJ&K News urduApril 24, 2026359 Views


صحافی منیشا پانڈے اور چھ دیگر صحافیوں کی جانب سے ابھیجیت ایرمترا کے خلاف دائر کی گئی ایک درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ ابھیجیت نے ایکس  پر  پوسٹ اور مضامین کی ایک سیریز میں بار بار انہیں ’طوائف‘ کہہ کر مخاطب کیا۔ دہلی کی ساکیت عدالت نے ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل پولیس کی جانب سے داخل کی گئی ایکشن ٹیکن رپورٹ تسلی بخش نہیں ہے، کیونکہ اس میں ان ٹوئٹس پر غور نہیں کیا گیا۔

نیوز لانڈری کا لوگو اور ابھیجیت ایر مترا۔ (فوٹو : ایکس / نیوز لانڈری، ایر)

نئی دہلی: دہلی کی ساکیت ضلع عدالت نے بدھ (23 اپریل) کو ڈیجیٹل نیوز پورٹل نیوزلانڈری کی صحافی منیشا پانڈے اور دیگر صحافیوں کے خلاف سوشل میڈیا پر قابل اعتراض پوسٹ کرنے کے معاملے میں ابھیجیت ایرمترا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا۔

بار اینڈ بنچ کی رپورٹ کے مطابق، ساکیت کورٹ کے جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس (جے ایم ایف سی) بھانو پرتاپ سنگھ نے اپنے حکم میں کہا کہ ایرمترا نے پانڈے اور دیگر کے خلاف جنسی نوعیت کے قابل اعتراض تبصرے کیے، جو پہلی نظر میں پانڈے کی توہین کرنے کے ارادے سے کیے گئے تھے، کیونکہ پوسٹ میں ان کا نام لیا گیا ہے۔

یہ معاملہ منیشا پانڈے اور چھ دیگر صحافیوں کی جانب سے ایرمترا کے خلاف دائر درخواست سے متعلق ہے۔ درخواست میں الزام لگایا گیاہے کہ ایرمترا نے ایکس پر  پوسٹ اور مضامین کی ایک سیریز میں بار بار انہیں ’طوائف‘کہہ کر مخاطب کیا۔

درخواست گزاروں نے دلیل دی کہ کئی ٹویٹس میں ایرمترا نے لکھا تھا،’دور گاؤں میں نیوزلانڈری نام کی ایک بستی تھی، جہاں ر*** سستی تھیں۔‘ ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے مبینہ طور پر پانڈے کے بارے میں اس سے بھی زیادہ نازیبا تبصرے کیے۔

مترا پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے نیوزلانڈری کی خواتین ملازمین کو’غلط اور بدنیتی پر مبنی‘طریقے سے لیبل کیا اور انہیں’طوائف‘اور ان کے کام کی جگہ کو’کوٹھا‘کہنے کا بھی الزام لگایا گیا ہے۔

بار اینڈ بنچ کے مطابق، عدالت کے فیصلے میں کہا گیا ہے،’ درخواست اور شکایت کنندگان کی جانب سے پیش کردہ دستاویزات کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم کی جانب سے ایکس پلیٹ فارم پر پوسٹ کیے گئے ٹوئٹس کے مواد سے پتہ چلتا ہے کہ بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات 75(3) اور 79 کے تحت قابل دست اندازی جرم کا ارتکاب ہوا ہے۔‘

حکم میں مزید کہا گیا کہ ایکس پلیٹ فارم پر سائبر اسپیس میں کیے گئے اس جرم کی تصدیق اور اس یوزر اکاؤنٹ کی شناخت کے لیے پولیس تحقیقات ضروری ہیں، جس سے یہ ٹوئٹس پوسٹ کیے گئے تھے۔ مزید یہ کہ ،’اس کمپیوٹر سورس یا الکٹرانک ڈیوائس کا سراغ لگانا اوراس کو برآمدکرنے کے لیے بھی پولیس جانچ ضروری ہے جس سے یہ ٹوئٹس کیے گئے تھے۔‘

عدالت نے یہ بھی کہا کہ پی ایس آئی اومبیر کی جانب سے جمع کرائی گئی ایکشن ٹیکن رپورٹ تسلی بخش نہیں ہے کیونکہ اس میں ان ٹوئٹس پر غور نہیں کیا گیا۔

معلوم ہو کہ نیوزلانڈری کی خواتین ملازمین نے دہلی ہائی کورٹ میں ابھیجیت ایرمترا کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ بھی دائر کیا ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے ان کے خلاف قابل اعتراض اور توہین آمیز پوسٹ کیے جو جنسی ہراسانی کے زمرے میں آتے ہیں۔

ان صحافیوں نے مقدمے میں ایرمترا سے عوامی معافی، اور مبینہ ہتک عزت کے لیے 2 کروڑ روپے ہرجانے اور معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔

مقدمہ دائر کرنے والی خواتین صحافیوں میں منیشا پانڈے، اشیتا پردیپ، سہاسنی بسواس، سمیدھا متل، تیستا رائے چودھری، تسنیم فاطمہ، پریا جین، جئے شری اروناچلم اور پریالی ڈھینگرا شامل ہیں۔ نیوزلانڈری بھی اس مقدمے میں فریقین میں شامل ہے۔

ہائی کورٹ نے ان تبصروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ، ’ان کے ذریعے استعمال کی گئی زبان کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے  عدالت کا ماننا ہے کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی…‘

بتادیں کہ21مئی 2025 کو عدالت نے ان کے پوسٹ ہٹانے کی یقین دہانی کو بھی ریکارڈ پر لیا تھا۔ یہ مقدمہ ابھی بھی دہلی ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...