کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے آج ایک بار پھر مودی حکومت کو شدید انداز میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا ہے کہ حکومت اپنی ناکامیوں اور ایپسٹین فائل سے جڑے سنگین الزامات سے توجہ ہٹانے کے لیے حد بندی (ڈیلمیٹیشن) جیسے ’ڈرامے‘ کر رہی ہے، لیکن ملک کی عوام اس حقیقت کو بخوبی سمجھ چکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی ایندھن اور کھاد کی فراہمی کو یقینی بنانے میں بری طرح ناکام رہی ہے اور اسے اس معاملے میں ’ڈبل ایف‘ (دوہری ناکامی) ملا ہے۔
کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایندھن کے شعبہ میں حالات انتہائی خراب ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 26-2025 میں خام تیل کی پیداوار مسلسل گیارہویں سال بھی کم ہوئی ہے اور 15-2014 کے مقابلے تقریباً 22 فیصد کی گراوٹ آ چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گیس کی پیداوار میں بھی تقریباً 40 فیصد کی کمی آئی ہے، جو 12-2011 میں 47,555 ایم ایم ایس سی ایم سے گھٹ کر 21-2020 میں صرف 28,672 ایم ایم ایس سی ایم رہ گئی۔
کانگریس صدر نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے نئے ایل پی جی کنکشن دینا بند کر دیا ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں سلنڈر کی بکنگ کے لیے 45 دن تک انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ کھڑگے کے مطابق اس صورتحال نے بلیک مارکیٹنگ کو فروغ دیا ہے اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت ’سب چنگا سی‘ جیسے دعوے کرتی رہی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز میں ہندوستانی پرچم بردار 14 جہاز گزشتہ 54 دنوں سے پھنسے ہوئے ہیں اور انہیں محفوظ راستہ نہیں مل رہا، جو حکومت کی خارجہ و توانائی پالیسی کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔
کھاد کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ جغرافیائی و سیاسی بحران سے پہلے ہی ملک میں کھاد کی قلت کئی سیزن میں دیکھی جا چکی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مارچ 2026 میں کھاد کی پیداوار 5 سال کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے اور سالانہ بنیاد پر اس میں 24.6 فیصد کی بڑی کمی درج کی گئی ہے۔ ان کے مطابق چین نے جولائی 2025 میں مخصوص کھاد کی برآمدات محدود کر دی تھیں، لیکن حکومت نے درآمدات کے ذرائع متنوع بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ صورت حال یہ ہے کہ اب روس نے بھی کھاد کی برآمد روک دی ہے۔
ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پوسٹ کے آخر میں وزیر اعظم نریندر مودی کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی ہی پارٹی کے لیڈر مرلی منوہر جوشی کے بیان پر غور کریں، جنہوں نے حال ہی میں کہا تھا کہ اب ’وشو گرو‘ جیسے دعووں کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ کانگریس صدر کے اس بیان نے ایک بار پھر ایندھن اور کھاد کے مسائل پر سیاسی بحث کو تیز کر دیا ہے اور حکومت کی پالیسیوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔



































