
’کیا کسی تاریخی شخصیت کو خراج تحسین پیش کرنے کا واحد طریقہ کسی دوسرے نام کو مٹا دینا ہے؟‘تصویربہ شکریہ: برکت اللہ یونیورسٹی / ایکس
بھوپال میں برکت اللہ یونیورسٹی کا نام تبدیل کرکے ’ماں واگ دیوی بھوجپال یونیورسٹی‘رکھنے کی کارروائی شروع ہو گئی ہے۔ یونیورسٹی کی ایگزیکٹو کونسل نے بدھ کو اس سلسلے میں ایک قرارداد منظور کرکے ریاستی حکومت اور چانسلر کو ارسال کی ہے۔ تاہم، اس قرارداد نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
اس فیصلے کے خلاف بھوپال میں احتجاج شروع ہو گیا ہے اور بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ تجویز اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومت ان تمام جگہوں کے نام تبدیل کرنا چاہتی ہے جو مسلمانوں سے منسوب ہیں۔
غور طلب ہے کہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح مدھیہ پردیش میں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت اس سے قبل کئی مقامات کے نام تبدیل کر چکی ہے۔ لیکن بھوپال کی اس یونیورسٹی کے معاملے پر مسلم تنظیموں اور عوام میں غصہ ہے کیونکہ انہیں محسوس ہورہا ہے کہ ملک کی آزادی میں اہم کردار ادا کرنے والی شخصیت کے نام پر قائم یونیورسٹی کا نام صرف اس لیے بدلا جا رہا ہے کہ وہ ایک مسلمان کے نام سے منسوب تھی۔
نام کی تبدیلی سے متعلق قرارداد میں پرمار خاندان کے مشہور حکمراں راجا بھوج کی تاریخی وراثت اور ادب، تعلیم و ثقافت کے شعبوں میں ان کی خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے یونیورسٹی کا نام تبدیل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ جبکہ اس کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ قدم ہندوستان کی تحریک آزادی کے ایک اہم مگر نسبتاً کم معروف مجاہد آزادی مولانا برکت اللہ بھوپالی، کی یاد کو حاشیہ میں دھکیلنے کی کوشش ہے۔
ایگزیکٹو کونسل کے اجلاس میں موجود ممبر اور یونیورسٹی کے شعبہ عربی و فارسی کی سربراہ ڈاکٹر طاہرہ عباسی نے اکیلے ہی اس تجویز کی مخالفت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ راجا بھوج ایک بڑے راجا تھے، جن کا کسی سے موازنہ کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ اور ان کی یاد میں ایک بڑا ادارہ قائم ہونا چاہیے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مولانا برکت اللہ کی خدمات کو فراموش کر دیا جائے۔
تاہم، یونیورسٹی انتظامیہ نے اکثریتی رائے سے اس قرارداد کو منظور کر لیا ہے۔ حتمی فیصلہ ریاستی حکومت اور دیگر قانونی و انتظامی مراحل کی تکمیل کے بعد ہی کیا جائے گا۔
صرف نام کی تبدیلی کا معاملہ نہیں
برکت اللہ یونیورسٹی کا قیام 1970 میں ’بھوپال یونیورسٹی‘کے نام سے عمل میں آیا تھا۔ 1988 میں اس کا نام تبدیل کرکے مجاہدِ آزادی اور انقلابی مفکر مولانا برکت اللہ بھوپالی کے اعزاز میں رکھا گیا۔
اسی وجہ سے نام کی تبدیلی کا یہ تنازعہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں سمجھا جا رہا، بلکہ اسے تاریخ، یادداشت اور عوامی اداروں کی شناخت سے متعلق بڑے سوال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔حالاں کہ ،ناموں کی تبدیلی بی جے پی کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ مدھیہ پردیش میں شہروں اور ریلوے اسٹیشنوں سے لے کر چھوٹے چھوٹے گاؤں تک کے نام تبدیل کیے جا رہے ہیں، اور لگاتارناموں کی تبدیلی کے مطالبات بھی کیے جا رہے ہیں۔
مدھیہ پردیش میں ناموں کی تبدیلی پر سب سے زیادہ بات اس وقت ہوئی جب 2021 میں ہوشنگ آباد کا نام بدل کر’ نرمداپورم‘رکھ دیا گیا۔ ہوشنگ آباد کا نام مالوا سلطنت کے حکمراں ہوشنگ شاہ کے نام سے منسوب سمجھا جاتا تھا۔ ریاستی حکومت نے دلیل دی کہ شہر کی حقیقی شناخت نرمدا ندی سے وابستہ ہے، اس لیے اس کا نام نرمداپورم ہونا چاہیے۔
اس وقت کے وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے اسے ثقافتی شناخت سے متعلق فیصلہ قرار دیا تھا۔ تاہم ناقدین نے سوال اٹھایا کہ کیا کسی شہر کی شناخت کو اس کی طویل تاریخی پس منظر سے الگ کرکے متعین کیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح جب بھوپال کے حبیب گنج ریلوے اسٹیشن کا نام تبدیل کرکے ’رانی کملا پتی ریلوے اسٹیشن‘رکھا گیا تو اسے قبائلی تاریخ کو عزت دینے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔ رانی کملا پتی گونڈ برادری کی حکمراں تھیں اور بھوپال کے خطے کی تاریخ میں ان کا نمایاں مقام ہے۔ حکومت کی دلیل تھی کہ مقامی تاریخ کے ایسے ہیروز کو قومی شناخت ملنی چاہیے جن کے کردار کو طویل عرصے تک نظر انداز کیا گیا۔
تاہم اس فیصلے کے ناقدین نے سوال اٹھایا کہ کیا کسی تاریخی شخصیت کو خراج تحسین پیش کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ کسی دوسرے نام کو ہی ختم کر دیا جائے؟
بھوپال کے قریب واقع تاریخی قصبے اسلام نگر کا نام تبدیل کرکے جگدیش پور رکھا گیا۔ حکومت نے کہا کہ جگدیش پور اس کا اصل نام تھا اور بعد میں تاریخ کے کسی مرحلے پر اسے اسلام نگر کہا جانے لگا۔ اس فیصلے کو بھی’حقیقی شناخت کی بحالی‘کے طور پر پیش کیا گیا۔
ہندوستان کی جلا وطن حکومت کے وزیر اعظم تھے مولانا برکت اللہ
مولانا محمد برکت اللہ بھوپالی ہندوستان کی تحریک آزادی کے ان سرکردہ اور صف اول کے انقلابی رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے بیرون ملک برطانوی حکومت کے خلاف جدوجہد کی۔ 1915 میں افغانستان میں قائم ہونے والی ہندوستان کی پہلی جلا وطن حکومت میں وہ وزیر اعظم بنے، جبکہ راجہ مہندر پرتاپ اس کے صدر تھے۔ دونوں ایک دوسرے کے بہت قریبی ساتھی تھے۔
حکومت نے راجہ مہندر پرتاپ کے نام پر علی گڑھ میں ایک یونیورسٹی قائم کر دی، لیکن دوسری جانب برکت اللہ بھوپالی کے نام سے منسوب ادارے کا نام تبدیل کیا جا رہا ہے۔
مؤرخ اشعر قدوائی کہتے ہیں،’میری معلومات کے مطابق اب تک ایسی کوئی مثال موجود نہیں ہے ،جہاں کسی مجاہد آزادی کے نام پر قائم معروف تعلیمی ادارے کا نام تبدیل کیا گیا ہو۔ برکت اللہ یونیورسٹی کا مجوزہ نام تبدیل کرنا اس لحاظ سے ایک غیر معمولی معاملہ ہے۔‘
قدوائی بتاتے ہیں،’مولانا برکت اللہ بھوپالی کی خدمات صرف بھوپال یا مدھیہ پردیش تک محدود نہیں تھیں، بلکہ وہ ہندوستان کی تحریک آزادی کے ان سرکردہ رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے جاپان، افغانستان، روس، جرمنی اور امریکہ سمیت کئی ممالک میں رہ کر برطانوی حکومت کے خلاف بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔‘
ان کے مطابق برکت اللہ نے غدر ، ریشمی رومال تحریک اور 1915 میں افغانستان میں قائم ہونے والی ہندوستان کی عارضی (جلا وطن) حکومت میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ راجا مہندر پرتاپ کے ساتھ اس حکومت کے اہم رہنماؤں میں شامل تھے اور ہندوستان کی آزادی کے لیے عالمی سطح پر مہم چلاتے رہے۔
قدوائی کہتے ہیں کہ برکت اللہ کی میراث کو صرف ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ ہندوستان کی تحریک آزادی میں ان کی تاریخی خدمات کے تناظر میں سمجھا جانا چاہیے۔
وہ بتاتے ہیں کہ برطانوی خفیہ اداروں اور ریاست بھوپال کی نگرانی کے باوجود برکت اللہ بڑی مہارت سے بھوپال سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ وہ پہلے جبل پور پہنچے، پھر بمبئی گئے اور وہاں سے جاپان روانہ ہو گئے۔ اس کے بعد انہوں نے مختلف ممالک کا سفر کیا، ہندوستان کی تحریک آزادی کے لیے حمایت حاصل کی اور برطانوی سامراج کے خلاف عالمی سطح پر رائے عامہ بنانے کی کوشش کی۔
قدوائی مزید کہتے ہیں،’برکت اللہ ان چند ہندوستانی انقلابیوں میں شامل تھے جنہوں نے بیرون ملک آزادی کی جدوجہد کو بین الاقوامی شکل دی۔‘
برکت اللہ نے لندن، امریکہ، جاپان، جرمنی، ترکی، افغانستان اور سوویت روس سمیت کئی ممالک میں قیام کیا اور ہندوستان کی آزادی کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ وہ غدر تحریک سے بھی وابستہ رہے اور برطانوی سامراج کے کھلے ناقدین میں شمار ہوتے تھے۔
امریکہ میں 20 ستمبر 1927 کو ان کا انتقال ہوا۔ انہیں اس امید کے ساتھ دفن کیا گیا تھا کہ ایک دن آزاد ہندوستان ان کی یاد کو وقار کے ساتھ اپنے درمیان جگہ دے گا۔
تقریباً ایک صدی بعد بھوپال میں ان کے نام پر قائم یونیورسٹی کا نام تبدیل کرنے کی تجویز نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ تحریک آزادی کے کن ہیروز کو عوامی یادداشت میں جگہ ملے گی اور کن کو آہستہ آہستہ فراموش کر دیا جائے گا۔
مخالفت
بھوپال سینٹرل کے کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود نے سب سے پہلے اس فیصلے کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا ہے، ’حکومت کو یونیورسٹیوں کے تعلیمی مسائل، طلبہ کے مسائل اور اعلیٰ تعلیم کے معیار پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ نام تبدیل کرنے جیسے علامتی معاملوں پر۔‘
وہ اس معاملے میں گورنر سے ملاقات کرنے کی بات کر رہے ہیں۔
برکت اللہ یوتھ فورم کے انس علی بھی اس فیصلے کو درست نہیں سمجھتے۔ اُنہوں نے کہا، ’ان کی خدمات کی یاد میں صرف ایک یونیورسٹی ہی ہے، لیکن اب اسے بھی ختم کیا جا رہا ہے۔‘
بھوپال کی ادبی دنیا سے وابستہ راجندر کوٹھاری کا کہنا ہے کہ کسی بھی صورت میں یونیورسٹی سے برکت اللہ بھوپالی کا نام نہیں ہٹایا جانا چاہیے۔
اُنہوں نے کہا، ’اس طرح آپ تاریخ کو مٹانا چاہتے ہیں۔ ان کی کوشش یہی ہے کہ جس کسی نے بھی آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا ہے، اسے بھلا دیا جائے۔ نام بدلنے سے کیا ہوگا؟ کیا اس سے یونیورسٹی کا معیار بہتر ہو جائے گا؟ یہ بالکل غلط سوچ ہے۔‘
دوسری جانب، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا سے وابستہ رہنما اور ادیب شیلندر شیلی کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کی مجلس عاملہ کا فیصلہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے دباؤ میں لیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا، ’یہ برکت اللہ بھوپالی کی توہین ہے۔ بی جے پی کے لوگ آزادی کی جدوجہد میں شامل نہیں تھے، اس لیے وہ اس سے وابستہ ہر شخصیت کا نام مٹانا چاہتے ہیں۔ انہیں معلوم نہیں کہ برکت اللہ بھوپالی کتنے عظیم مجاہد آزادی تھے اور انہوں نے کس طرح پوری دنیا کا سفر کر کے ہندوستان کی آزادی کے لیے لوگوں کو متحد کیا۔ یہاں تک کہ لینن بھی ان سے ملے تھے اور انہوں نے ہندوستان کی آزادی کی حمایت کی تھی۔ یہ تبدیلی کسی بھی صورت میں ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے۔‘
وہیں، مدھیہ پردیش سرو دھرم سدبھاؤنا منچ کے سکریٹری محمد عمران ہارون کا الزام ہے کہ حالیہ برسوں میں مسلم ناموں والے اداروں اور مقامات کے نام تبدیل کرنے کا رجحان بڑھا ہے، جس سے ایک مخصوص برادری میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو رہا ہے۔
شوریح نیازی بھوپال میں مقیم آزاد صحافی ہیں ۔





