شمالی کوریا نے کلسٹر بموں کا کیا تجربہ، کم جونگ-اُن کی بیٹی جو-اے بھی نظر آئیں

AhmadJunaidJ&K News urduApril 20, 2026362 Views


کے سی این اے نے کہا کہ تجربہ کا مقصد اسلحہ سسٹم میں لگے کلسٹر بم وارہیڈ اور فریگمنٹیشن مائن وارہیڈ کی طاقت کا اندازہ کرنا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div><div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>

i

user

شمالی کوریا نے بیلسٹک میزائلوں کے اپنے جدید لانچ میں کلسٹر بموں کی ٹیسٹنگ کی ہے۔ یہ ٹیسٹنگ تاناشاہ کِم جونگ-اُن کی دیکھ ریکھ میں ہوئی۔ جنوبی کوریا کی فوج نے شمالی کوریا کے سنفو خطہ سے صبح تقریباً 6.10 بجے مشرقی سمندر کی طرف داغی۔ کئی قلیل فاصلے کی بیلسٹک میزائلوں کا پتہ لگانے کے ایک دن بعد کوریائی سنٹرل نیوز ایجنسی (کے سی این اے) نے ہواسونگ-11 را اسٹریٹجک بیلسٹک میزائل لانچ کیے جانے کی رپورٹ شائع کی۔

کے سی این اے نے کہا کہ تجربہ کا مقصد اسلحہ سسٹم میں لگے کلسٹر بم وارہیڈ اور فریگمنٹیشن مائن وارہیڈ کی طاقت کا اندازہ کرنا تھا۔ کے سی این اے کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 136 کلومیٹر دور واقع 13 ہیکٹیئر رقبہ والے ایک جزیرہ کے پاس ایک مہدف علاقہ پر 5 میزائلوں نے حملہ کیا۔ یہ انتہائی کثافت والا علاقہ تھا، جس سے ان کی جنگی صلاحیت پوری طرح سے ظاہر ہوئی۔

جو تصویریں جاری کی گئی ہیں، ان میں کم جونگ اُن کی بیٹی کم جو-اے بھی نظر آئیں، جن کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ انھیں ان کے جانشیں کی شکل میں تیار کیا جا رہا ہے۔ کم جونگ نے لانچ ٹیسٹنگ پر انتہائی اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک خاص مہدف علاقہ کو تباہ کرنے کے لیے اعلیٰ کثافت والے فائر پاور کے ساتھ ساتھ اعلیٰ شفافیت والے فائر پاور کو بڑھانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔

اتوار کے روز کی گئی یہ لانچنگ 8 اپریل کو شمالی کوریا کے ذریعہ کئی قلیل دوری کی بیلسٹک میزائلوں کی ٹیسٹنگ کے بعد ہوئی۔ اس وقت اسٹیٹ میڈیا نے کہا تھا کہ ملک نے کلسٹر بم وارہیڈ سے مزین ایک اسٹریٹجک بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی دعویٰ کیا تھا کہ یہ اعلیٰ کثافتی قوت کے ساتھ مہدف علاقوں کو راکھ میں بدل سکتی ہے۔ جنوبی کوریا کے قومی سیکورٹی دفتر نے شمالی کوریا کے ذریعہ کی گئی نئی میزائل لانچنگ کی مذمت کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کے قراردادوں کی خلاف ورزی بتایا ہے اور شمالی کوریا کے میزائل سے متعلق اکساووں کو فوراً روکنے کی اپیل کی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...