آبنائے ہرمز میں ہفتہ (18 اپریل) کو 20 سے زائد جہازوں کی محفوظ آمد و رفت ہوئی۔ یہ یکم مارچ کے بعد اس آبی گزرگاہ کو عبور کرنے والے جہازوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ شپنگ اینالیٹکس فرم (کے پی ایل ای آر) کے دیٹا کے مطابق ان جہازوں میں تیل، گیس اور دیگر سامان لے جانے والے کئی بڑے مال بردار جہاز شامل تھے۔ یہ راستہ دنیا کے لیے انتہائی اہم ہے، کیونکہ یہاں سے تیل اور گیس کی بڑی مقدار کی ترسیل ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ ان جہازوں میں سے 5 جہاز ایسے تھے، جنہوں نے ایران سے سامان لوڈ کیا تھا۔ ان میں تیل اور دھاتیں شامل ہیں۔ 3 جہاز ایل پی جی لے کر جا رہے تھے، ان میں سے ایک جہاز ہندوستان اور ایک چین کی جانب جا رہا تھا۔ اس کے علاوہ ایک اور ہندوستانی جہاز ’دیش گریما‘ یو اے ای کے ’داس خام تیل‘ کا تقریباً 7.8 لاکھ بیرل لے کر سری لنکا جا رہا ہے۔ ایران نے جمعہ کو آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کیا تھا، لیکن 24 گھنٹے کے اندر ہی اسے پھر سے بند کر دیا۔
پاناما کے جھنڈے والا جہاز ’کریو‘ یو اے ای سے ایل پی جی لے کر انڈونیشیا جا رہا ہے۔ ’آکتی اے‘ اور ’آتھینا‘ نام کے 2 جہاز بحرین سے ریفائنڈ تیل کی مصنوعات کو لے کر موزمبیق اور تھائی لینڈ کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ لائبیریا کا جہاز ’نیویگیٹ میکیلسٹر‘ یو اے ای کا تقریباً 5 لاکھ بیرل نیفتھا لے کر جنوبی کوریا کے ’اُلسان‘ بندرگاہ جا رہا ہے۔ ایک بڑا تیل ٹنکر ’ایف پی ایم سی سی لارڈ‘ سعودی عرب کا تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل لے کر تائیوان جا رہا ہے۔ ’روبی‘ جہاز قطر سے کھاد لے کر یو اے ای کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ’میری ایم‘ نام کا جہاز سعودی عرب سے پٹرولیم کوک لے کر اٹلی جا رہا ہے۔
دریں اثنا امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں دوبارہ اضافہ ہو گیا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے اتوار تک تقریباً 25 ایرانی جہازوں کو روک کر واپس بھیجا، کیونکہ وہ اس کی ناکے بندی کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ اس کے جواب میں ایران نے کہا کہ اس نے امریکی جہازوں پر ڈرون سے حملہ کیا ہے۔ یہ حملہ سمندر میں ہونے والے تصادم کے بعد کا بتایا جا رہا ہے۔ حالانکہ اس حملہ سے کسی نقصان کے متعلق کوئی خبر سامنے نہیں آئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ امریکہ نے اتوار کو ایران کا بڑا جہاز ’ٹُسکا‘ بھی پکڑ لیا۔ امریکی فوج کے مطابق جہاز کو 6 گھنٹے تک وارننگ دی گئی تھی، لیکن وہ نہیں رکا۔ اس کے بعد اس پر فائرنگ کر اسے روکا گیا اور امریکی فوج نے اسے اپنے قبضے میں لے لیا۔ یہ جہاز ایران کے بندر عباس جا رہا تھا۔ امریکہ نے اسے ناکے بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جبکہ ایران اس کارروائی کو غلط قرار دیتے ہوئے اسے سمندری ڈکیتی کہا ہے اور جواب دینے کی بات کہی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




































