
اجے ماکن کے مطابق گزشتہ 15 برسوں میں 3 مواقع پر حلقہ بندی کی گئی لیکن ہر بار مختلف اصول اپنائے گئے۔ انہوں نے 2008، 2022 اور 2023 کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک ہی آئین اور ایک ہی انتخابی کمیشن کے باوجود طریقہ کار میں نمایاں فرق رہا۔ ان کے مطابق 2008 میں مکمل قانونی کمیشن کے ذریعے شفاف عمل اختیار کیا گیا، جبکہ بعد کے برسوں میں اس معیار کو برقرار نہیں رکھا گیا۔
انہوں نے جموں و کشمیر کی 2022 کی حدبندی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نئی اسمبلی نشستوں کی تقسیم میں غیر متوازن رجحان دیکھا گیا، جہاں 7 میں سے 6 نشستیں جموں کو اور صرف ایک کشمیر کو دی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ گریز حلقے میں آبادی کا فرق اوسط کے مقابلے میں 72 فیصد تک پہنچ گیا، جو طے شدہ اصولوں سے ہٹ کر تھا۔





