پہلی بار حکومت کی شکست فاش، اپوزیشن اتحاد کی جیت…سہیل انجم

AhmadJunaidJ&K News urduApril 19, 2026362 Views


اعداد و شمار کے مطابق اگر موجودہ آبادی کے اعتبار سے حدبندی ہوتی ہے تو لوک سبھا کی 543 سیٹیں بڑھ کر 753 ہو جائیں گی۔ اس وقت جنوبی ریاستوں کی لوک سبھا سیٹیں 129 ہیں۔ 753 کی مجموعی تعداد میں ان کی سیٹیں بڑھ کر 144 ہو جائیں گی۔ یعنی ان کا مجموعی شیئر تقریباً24 فیصد سے گر کر 19 فیصد تک آجائے گا۔ جبکہ شمالی ریاستوں میں لوک سبھا کی سیٹیں بڑھ کر 357 ہو جائیں گی۔ یعنی ہندی بھاشی ریاستوں کی سیٹوں کی تعداد میں 60 فیصد کا اضافہ ہو جائے گا۔

اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ تمل ناڈو، کرناٹک اور مہاراشٹر جیسی ریاستیں مرکزی خزانے میں سب سے زیادہ جمع کراتی ہیں اور انھیں بدلے میں صرف 30 فیصد ملتا ہے۔ جبکہ ان کے مقابلے میں بہار اور اترپردیش جیسی ہندی بھاشی ریاستوں کو ڈھائی سو سے ساڑھے تین سو فیصد تک ریٹرن ملتا ہے۔ اگر موجودہ بل منظور ہو جاتا تو آندھرا پردیش کو پانچ سیٹوں کا اور تمل ناڈو کو 11 سیٹوں کا نقصان ہوتا۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ اس سے سیاسی طاقت میں تبدیلی آجائے گی۔ ساز باز کرکے اس انداز میں حدبندی کی جائے گی جس سے ایک ہی سیاسی پارٹی کو فائدہ پہنچے۔ جس کی وجہ سے شفافیت، غیر جانبداری اور عوامی اعتماد کو زبردست نقصان پہنے گا۔ اپوزیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر ایوان کے اندر بھی اور عوام میں بھی وسیع پیمانے پر بحث ہونی چاہیے۔ لیکن حکومت جس طرح عجلت میں یہ کام کرانا چاہتی تھی وہ اس کے پس پردہ عزائم کو بے نقاب کرتا ہے۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...