
السٹریشن: پری پلب چکرورتی/دی وائر/فوٹو: پی ٹی آئی
لوک سبھا میں آئینی ترمیمی بل، 2026 گر گیا۔ یہ بل لوک سبھا کے حجم کو بڑھانے، نئی حد بندی اور خواتین ریزرویشن کو 2029 کے انتخابات سے نافذ کرنے کی راہ ہموار کرنے والا تھا۔ 528 ارکان نے ووٹنگ کی؛ 298 حق میں تھے، 230 مخالفت میں؛ لیکن آئینی ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت مطلوب ہوتی ہے، جو 352 کے ہدف سے دور کھڑی رہی۔ سرد، بے حس اور کسی حد تک سفاک۔
لیکن جو گرا، وہ صرف ایک بل نہیں تھا؛ وہ ہندوستانی جمہوریت کی میز پر رکھا ایک شکستہ آئینہ تھا، جس میں خواہش، انصاف، حکمت عملی، عورت، اقتدار، تعداد، خوف اور مستقبل-سب بہت دھندلا دکھائی دے رہا تھا۔ اسی لیے یہ شکست ریپڈکلائمکس نہیں، یہ جمہوریت کے اس لمحے کی علامت ہے ،جب انصاف کولرزتی دراڑوں سے باندھ دیا گیا۔
عورت کو شہری تو تسلیم کیا گیا ، مگر اقتدار کا فطری حقدار نہیں
اس بحث کی دھند، دھول اور پارلیامانی شور کے درمیان ایک سوال ہے، جو کسی بھی مستعد جمہوریت کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔ اپوزیشن جماعتیں برسوں سے کہتی آئی ہیں کہ ذات پر مبنی مردم شماری کے بعد ’جس کی جتنی حصہ داری، اس کی اتنی بھاگیداری‘یقینی بنائی جائے۔ تو اس منطق کا سب سے سیدھا، سب سے روشن، سب سے اخلاقی اور سب سے مشکل دعویدار کون ہے؟
عورتیں۔ وہ اس ملک کی نصف آبادی ہیں۔ نصف ووٹرکمیونٹی بھی۔ سماج کی نصف یادداشت بھی۔ مگر کیا وہ صرف نصف محنت کرتی ہیں؟ کیا وہ نصف دیکھ بھال کرتی ہیں؟ کیا وہ نصف صبر اختیارکرتی ہیں؟ کیا وہ نصف دکھ سہتی ہیں؟ کیا وہ نصف امید رکھتی ہیں؟ نہیں۔ وہ دوگنی محنت، تین گنی دیکھ بھال، چار گنا صبر اپنے اندر کسی گہرے اور خاموش جھیل کی طرح سموئے رکھتی ہیں؛ پانچ گنا زیادہ زخم اپنی مسکراہٹ کی باریک تہوں کے نیچے چھپاتی چلتی ہیں، اور امید تو وہ اس معاشرے سے دس گنا زیادہ رکھتی ہیں۔ پھر 33 فیصد ہی کیوں؟ 50 فیصد کیوں نہیں؟
اگر ہندوستانی سیاست نمائندگی کے انصاف کی زبان بول رہی ہے تو اسے اپنے ہی اصول سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔’ جس کی جتنی حصہ داری‘کا سب سے روشن اور ناگزیر نتیجہ یہی ہے کہ خواتین کے لیے 50 فیصد بھاگیداری صرف مطالبہ نہیں بلکہ منطقی انجام ہے۔
یہاں ٹھہر کر 33 فیصد کی تاریخیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہ طویل مدت سے فوری انصاف نہیں، ایک مؤخر وعدہ ہے۔ 33 فیصد کوئی ابدی اصول انصاف نہیں بلکہ ہندوستانی سیاست کا ایک تاریخی سمجھوتہ ہے۔ سمجھوتے کبھی کبھار تاریخ کو آگے بڑھاتے ہیں، مگر انہیں انصاف کی حتمی شکل سمجھ لینا ایسا ہی ہے جیسے شفق رنگ شام کو صبح صادق سمجھ لیا جائے۔ یہ منظر خوبصورت ہو سکتا ہے ،لیکن یہ طلوع آفتاب نہیں ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہندوستانی جمہوریت نے عورت کو طویل عرصے تک شہری تو مانا، مگر اقتدار کا فطری حقدار نہیں۔ پارلیامان اور اسمبلیوں میں اس کی موجودگی آج بھی ایک ’خصوصی‘شمولیت سمجھی جاتی ہے۔نایاب، استثنائی، تقریباً کسی عنایت کی طرح نہ کہ ایک فطری، قدرتی اور ناقابل تردید حق۔
سیاست کی زبان، انتخابی تشدد، دولت کا غیر متوازن بہاؤ، ٹکٹ کی تقسیم کی غیر شفافیت ، پارٹی نیٹ ورک، خاندانی وراثت، کردار کشی کی ثقافت، اور عوامی زندگی میں عورت کے بارے میں شکوک وشبہات سے بھری نظر-یہ سب مل کر ایک ایسی دیوار کی تعمیر کرتے ہیں، جسے مرد اساس سیاست بڑی بے فکری سے ’مسابقت‘سے موسوم کرتی ہے۔
یہ مسابقت اسی قدر منصفانہ ہے جیسے بلندقلعے کی فصیل پر کھڑے لوگ نیچے دھول میں کھڑے لوگوں سے کہیں: دوڑو، چھلانگ لگاؤ، اوپر آ جاؤ،ہم تو صرف اہلیت دیکھتے ہیں۔
اسی لیے جب کوئی کہتا ہے کہ باصلاحیت خواتین بغیر ریزرویشن کےبھی جیت سکتی ہیں، تو وہ دراصل صلاحیت کی نہیں بلکہ مراعات کا دفاع کر رہا ہوتا ہے۔ جمہوریت میں میرٹ کا مطلب یہ نہیں کہ جو پہلے ہی دروازے کے اندر ہیں، وہی بار بار اہل قرار دیے جاتے رہیں۔ جمہوریت میں میرٹ کا پہلا اصول ہے-مساوی رسائی۔ اور مساوی رسائی کے بغیر میرٹ کا ہر منتر بالآخر مراعات کی ہی کوئی مہذب درخواست بن جاتا ہے۔
اسی لیے خواتین ریزرویشن کو ہمدردی، علامتی سیاست یا فیاضی کے طور پر دیکھنا فکری بددیانتی ہے۔ نمائندگی صرف تعداد نہیں؛ یہ تجربے کو ادارہ جاتی شکل دینا ہے،زندگی کی ان خوشبوؤں، تھکانوں، خوف و ہراس، امیدوں اور نظر نہ آنے والی محنت کو قانون کی زبان میں، پالیسی سازی اور عوامی ترجیحات میں جگہ دینا ہے، جنہیں صدیوں تک نجی کہہ کر نظر انداز کیا گیا۔
نصف حصے داری صرف فیمنسٹ اصرار نہیں، جمہوری منطق کا لازمی انجام ہے
جو معاشرہ اپنی مقننہ میں عورت کے تجربے کو جگہ نہیں دیتا، وہ اپنے قوانین میں بھی زندگی کے ان حصوں کو ادھورا پڑھتا ہے، جنہیں عورتیں روزانہ اپنے کندھوں، اپنے جسم، اپنی نیند، اپنی یادداشت اور اپنے خاموشی میں اٹھائے رکھتی ہیں-دیکھ بھال، پرورش، پانی، تعلیم، صحت، محفوظ سفر ، گھریلو تشدد، جنسی ہراسانی، اجرت میں عدم مساوات، جائیداد تک رسائی اور وہ بے اجرت محنت جس کی بدولت گھر، بازار، خاندان، ذات، روایت اور آخرکار یہ پورا معاشرہ ہر صبح دوبارہ چل پڑتا ہے۔
جمہوریہ میں نصف حصے داری محض فیمنسٹ اصرار نہیں، بلکہ جمہوری منطق کا فطری انجام ہے۔ آدھی دنیا کو ایک تہائی تک محدود رکھنا نمائندگی کی اصلاح ہے، انصاف نہیں۔ اگر بی جے پی واقعی ’ناری شکتی وندن‘کی سیاست کرتی ہے تو اسے یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ وندن کا اخلاقی مفہوم علامت نہیں بلکہ شراکت ہے؛ اور شراکت کا مطلب 33 نہیں بلکہ 50 ہے۔
پارٹی کی مضبوط خواتین کو نظرانداز کرنا کون سا وندن ہے؟ عورت کی پوجا کرنا اور عورت کو اقتدار دینا- دونوں ایک بات نہیں ہے۔ ہندوستانی سیاست نے صدیوں تک عورت کی ثقافتی عظمت کا ترانہ گایا ہے اور ساتھ ہی اسے سیاسی حاشیے پر بھی رکھا ہے۔ اس نے اسے دیوی کہا ہے، مگر فیصلہ کرنے والے میز پر جگہ نہیں دی ہے۔ اس کی قربانیوں کے قصے بیان کیے، جو شراکت کے مقام پر آکر اچانک کمزور پڑگئے۔ جو نظام عورت سے صد فیصد قربانی مانگے اور اقتدار میں اسے تہائی حصہ دے، وہ احترام نہیں کرتا بلکہ متناسب ناانصافی کرتا ہے۔
لیکن یہی وہ مقام ہے جہاں حکومت کے سیاسی تصور کی قلعی بھی کھلتی ہے۔ خواتین کی منصفانہ نمائندگی کو کسی اور طاقت کی ازسر نو ترتیب کے منصوبے سے جوڑ دینا دراصل خواتین کے مسئلے کو یرغمال بنانا ہے۔ اگر حکومت واقعی خواتین کی نمائندگی کو تاریخی ترجیح سمجھتی تو وہ پہلے سے موجود 543 نشستوں کے اندر ہی، یا کسی واضح، متفقہ اور وفاقی توازن پر مبنی فارمولے کے ساتھ، یا پارٹی ٹکٹ کوٹہ جیسی لازمی تدابیر کے ذریعے اس سمت میں قدم بڑھاتی۔
کسی اعتراض کا مطلب یہ نہیں کہ خواتین انتظار کریں؛ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ریاست ان کے حق کو کسی دوسری سیاست سے مشروط نہ کرے۔ عورت کا انصاف اتنا نازک نہیں کہ اسے ہر اتحاد کے ساتھ باندھ دیا جائے، نہ اتنا کمزور کہ وہ کسی اور طاقت کے حساب وکتاب کے سایہ میں ہی وجود پائے۔ اگر انصاف کو واقعی انصاف رہنا ہے تو اسے اپنی ہی روشنی میں کھڑا ہونا ہوگا۔
ذات پات کے تناظر میں ’تناسب‘کا مطالبہ
پھر ایک اور سوال ہے، جسے ہندوستانی جمہوریت نے بڑی آسانی سے نظرانداز کیا ہے۔ جب نمائندگی کی زبان ذات پات کے تناظر میں ’تناسب‘ کا مطالبہ کرتی ہے تو کیا خواتین کے اندر موجود سماجی ناہمواریاں غائب ہو جانی چاہیے؟ عورت کوئی یک رنگی، ہموار اور یک رنگ زمرہ نہیں ہے۔ وہ دلت بھی ہے، آدی واسی بھی، پسماندہ بھی، اقلیت بھی، غریب بھی، دیہی بھی، شہری مزدور بھی، تعلیم یافتہ متوسط طبقہ بھی اور ان سب کے بیچ لگاتار پھنسی ہوئی وہ بھی، جس کی آواز خاندان، ذات، مذہب اور بازارسب مل کر کمزور کر دیتے ہیں۔ اس لیے اس آدھے حصے کے اندر ہندوستان کی سماجی تکثیریت کی منصفانہ عکاسی بھی ہونی چاہیے۔
ہندوستانی جمہوریہ میں عورت کو عمودی طور پر بھی آدھی حصہ داری ملے اور افقی طور پر بھی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں خواتین ریزرویشن اور ذات پر مبنی مردم شماری کی بحث ایک دوسرے سے ٹکراتی نہیں بلکہ ایک دوسرے کو زیادہ سچا، زیادہ درست اور زیادہ جمہوری بناتی ہے۔
راجیہ سبھا اور قانون ساز کونسلوں کا سوال تو اور بھی عجیب اور کسی حد تک زیادہ عیاں کرنے والا ہے۔ اگر یہ ایوان غور و فکر، گہرائی، ادارہ جاتی فہم، مہارت اور وفاقی توازن کے لیے ہیں تو ان میں مردوں کی بالادستی اور بھی زیادہ غیر موزوں، مصنوعی اور نامناسب محسوس ہوتی ہے۔ 2023 کے قانون سازی کے ڈھانچے میں بھی ان کے لیے کوئی براہ راست بندوبست نہیں تھا، جبکہ پہلے کی پارلیامانی سفارشات وہاں نمائندگی کے خاکے کو شکل دینے کی ضرورت کو تسلیم کر چکی تھیں۔
آج جب لوک سبھا میں خواتین کی حصہ داری تقریباً 14 فیصد، راجیہ سبھا میں 17 فیصد اور ریاستی اسمبلیوں میں قریب 10 فیصد ہے، تو بالائی ایوانوں کو ’فطری‘طور پر مرداساس مراعات کی پناہ گاہ بنے رہنے دینا جمہوری فریب ہے۔ ان ایوانوں کے لیے یا تو آئینی ریزرویشن، یا پارٹیوں پر لازمی ٹکٹ کوٹہ، یا نامزدگی اور بالواسطہ انتخابات کے عمل میں قانونی صنفی توازن-کچھ نہ کچھ لازمی اقدامات کرنے ہی ہوں گے، ورنہ نظرثانی کے نام پر پرانی مراعات کو زیادہ نفاست کے ساتھ دہرایا جائے گا۔
کچھ لوگ کہیں گے کہ 50 فیصد کی مانگ انتہا پسندانہ ہے۔ نہیں-یہ پہلی بار ہے کہ تناسب اور جمہوریت کو ایک ہی جملے میں دیانت داری سے رکھنے کا حوصلہ ہے۔ انتہا پسندی تو یہ ہے کہ خواتین سماج کا کئی گنا بوجھ اٹھائیں، مگر اقتدار میں ایک تہائی حصہ ملنے پر بھی شکر گزار رہیں۔ کچھ لوگ پھر ’پراکسی خواتین‘کا جواز پیش کریں گے۔ یہ دلیل مقامی اداروں کے تجربے کے سامنے بار بار کمزور پڑی ہے؛ خود پارلیامانی تجزیوں نے بھی اشارہ دیا ہے کہ خواتین کے ریزرویشن کے بارے میں پھیلائے گئے خدشات ویسے ثابت نہیں ہوئے جیسے اکثر دعویٰ کیا جاتا تھا۔
اور اگر کہیں پراکسی کا امکان موجود بھی ہو تو اس کا حل ریزرویشن کو رد کرنا نہیں، بلکہ تربیت، مالی معاونت، تحفظ، پارٹی ڈیموکریٹائزیشن، سیاسی وسائل تک رسائی اور ادارہ جاتی تحفظ کے مضبوط ڈھانچے قائم کرنا ہے۔
ہندوستانی سیاست کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ عورت کو کیا سمجھتی ہے-اجلاس میں تالیاں بجانے والی اخلاقی موجودگی یا فیصلے کی میز پر بیٹھی برابر کی شریک؟ اگر جواب دوسرا ہے تو 33 فیصد پر ٹھہرنا مشکل ہے۔
واضح لفظوں میں کہیں تو33فیصد تاریخ کی ایک سیڑھی ہو سکتی ہے، منزل نہیں۔ منزل وہ ہے جہاں کوئی پارٹی’ناری شکتی وندن ‘کہے اور ملک اس سے پوچھے-وندن یا برابری؟ احترام یا حصے داری؟ اور وہ جماعت بلا جھجھک کہے-برابری، حصے داری اور نصف جمہوریہ۔ عورت کے ساتھ انصاف کا سب سے مکمل جملہ یہی ہوگا؛ نصف آبادی کو تہائی نہیں، کم از کم نصف حصہ چاہیے۔
کیونکہ جمہوریت میں عورت کو کم دینا صرف عورت کے ساتھ ناانصافی نہیں؛ یہ جمہوریہ کو اس کی اپنی نصف روح سے محروم کرنا ہے۔ اور جو جمہوریہ اپنی آدھی روح کو دروازے پر روک دیتا ہے، وہ چاہے جتنے پرچم لہرا لے، اندر سے ابھی مکمل آزاد نہیں بلکہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔
(تریبھون سینئر صحافی ہیں۔)





