مرکزی ملازمین کو ملی خوشخبری! حکومت نے مہنگائی بھتہ میں 2 فیصد کا کیا اضافہ

AhmadJunaidJ&K News urduApril 18, 2026364 Views


حکومت کی جانب سے بھتہ میں اضافہ کا فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ملازمین کی تنظیمیں مجوزہ ’آٹھویں پے کمیشن‘ کے تحت تنخواہ کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>وزیر اعظم نریندر مودی / ویڈیو گریب</p></div><div class="paragraphs"><p>وزیر اعظم نریندر مودی / ویڈیو گریب</p></div>

i

user

ملک کے ایک کروڑ سے زائد مرکزی ملازمین اور پنشنرز کا انتظار ہفتہ (18 اپریل) کو ختم ہو گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کابینہ نے ہفتہ کو مرکزی حکومت کے ملازمین اور پنشنرز کے لیے مہنگائی بھتے (ڈی اے) میں 2 فیصد اضافہ کو منظوری دے دی ہے۔ اب مرکزی ملازمین کا مہنگائی بھتہ اور پنشن 58 فیصد سے بڑھ کر 60 فیصد ہو جائے گا۔ مرکزی ملازمین کافی دنوں سے مہنگائی بھتے کا انتظار کر رہے تھے۔ جنوری سے نافذ ہونے والے اس بھتے کا انتظار مارچ کے آغاز سے ہی کیا جا رہا تھا۔ حکومت عام طور پر جنوری میں ہونے والے اضافے کا اعلان مارچ میں کر دیتی ہے، لیکن اس بار یہ اعلان نصف اپریل گزرنے کے بعد ہوا ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ملازمین کی تنظیمیں مجوزہ ’آٹھویں پے کمیشن‘ کے تحت تنخواہ کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ اپنے میمورنڈم میں، نیشنل کونسل-جوائنٹ کنسلٹیٹو مشینری (این سی-جے سی ایم)  نے3.83  کے اعلیٰ فٹمنٹ فیکٹر کا مطالبہ کیا ہے، جس سے کم از کم بنیادی تنخواہ 18000 روپے سے بڑھ کر تقریباً 69000 روپے ہو سکتی ہے۔ اس نے تنخواہ کے حساب کتاب کے لیے خاندان کی تعریف میں توسیع کی بھی تجویز پیش کی ہے تاکہ اس میں زیر کفالت والدین کو بھی شامل کیا جا سکے۔ ساتھ ہی تنخواہوں کے فرق پر ایک حد مقرر کرنے اور زیادہ تنخواہ میں اضافے اور مہنگائی سے منسلک بھتے دینے کی بھی تجویز دی ہے۔

حکومت اپنے ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہ کے مہنگائی بھتے میں میں 2 بار، جنوری اور جولائی کے مہینوں میں اضافہ کرتی ہے۔ ان تبدیلیوں کا مقصد مہنگائی کے اثرات کو کم کرنا اور ملازمین و پنشنرز کی خریدنے کی قوت اور معیار زندگی کو برقرار رکھنے میں مدد کرنا ہے۔ مہنگائی بھتہ سرکاری ملازمین کو دیا جانے والا ایک ’کوسٹ آف لیونگ ایڈجسٹمنٹ‘ ہے، جس کا حساب بنیادی تنخواہ کے ایک مخصوص فیصد کے طور پر لگایا جاتا ہے تاکہ مہنگائی کے اثرات کو متوازن کیا جا سکے۔

دوسری جانب یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ کابینہ نے 13000 کروڑ روپے کے فنڈ کے ساتھ ایک ’سویرن میری ٹائم فنڈ‘ کو بھی منظوری دی ہے، تاکہ ہندوستانی پرچم والے، ہندوستان آنے والے اور ہندوستان سے جانے والے جہازوں کو مستحکم اور کفایتی انشورنس سیکورٹی دی جا سکے۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ کابینہ نے ’پردھان منتری گرام سڑک یوجنا (پی ایم جی ایس وائی) کو 2028 تک بڑھا دیا ہے، جس کے لیے 3000 کروڑ روپے کا اضافی فنڈ مختص کیا گیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...