
یہ کہنا کہ گھروں کی کوئی ذات نہیں ہوتی، اس وسیع سماجی ڈھانچے کو نظرانداز کرنا ہے جس میں یہ گھر آباد ہیں۔ (علامتی تصویر: پی ٹی آئی)
لوک سبھا میں بولتے ہوئے سماجوادی پارٹی کے صدر اکھیلیش یادو جی کی جانب سے مردم شماری کے ساتھ ذات پر مبنی مردم شماری کا سوال اٹھائے جانے پرمعزز وزیر داخلہ جی کا یہ کہنا کہ ’ابھی صرف گھروں کی گنتی ہو رہی ہے اور گھروں کی کوئی ذات نہیں ہوتی‘پہلی نظر میں کئی لوگوں کو ایک سادہ سا بیان لگ سکتا ہے۔ لیکن اگر اسے ہندوستانی سماج کی حقیقی ساخت کے تناظر میں پرکھا جائے، تو یہ بیان اتنا ہی نامکمل اور گمراہ کن معلوم ہوتا ہے۔
ہندوستان میں’گھر‘کبھی بھی صرف اینٹ اور پتھر کی ایک بے جان اکائی نہیں رہا۔ وہ اپنے اندر تاریخ، شناخت، سماجی حیثیت اور رشتوں کی کئی پرتیں سمیٹے ہوتا ہے۔ یہ کہنا کہ گھروں کی کوئی ذات نہیں ہوتی، اس وسیع سماجی تانے بانے کو نظرانداز کرنا ہے جس میں یہ گھر آباد ہیں۔
آج بھی ملک کے کئی حصوں میں بستیاں ذات کی بنیاد پر منقسم ہیں – دلت بستیاں الگ، پسماندہ ذاتوں کے محلے الگ اور اشرافیہ کے علاقے الگ۔ یہ تقسیم صرف سماجی رویوں تک محدود نہیں، بلکہ جغرافیائی طور پر بھی واضح طور پر نظر آتی ہے۔
ایسے میں جب حکومت یہ کہتی ہے کہ وہ صرف گھروں کی گنتی کر رہی ہے تو یہ سوال فطری طور پر پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ ان گھروں کے اندر اور آس پاس موجود سماجی حقائق کو جاننے سے گریز کررہی ہے؟
کیا یہ ایک پیچیدہ اور غیر آرام دہ سوال کو ٹالنے کی حکمت عملی ہے؟ کیونکہ ذات پر مبنی اعداد و شمار صرف تعداد نہیں ہوتے، بلکہ وہ مواقع، وسائل اور نمائندگی کی غیر مساوی تقسیم کو اجاگر کرتے ہیں۔
دراصل، ذات پر مبنی مردم شماری کا مطالبہ اسی مقصد کے تحت کیا جاتا رہا ہے کہ پالیسی سازی زیادہ حقیقت پسندانہ اور منصفانہ ہو سکے۔ جب تک یہ واضح نہیں ہوگا کہ کس طبقے کی سماجی و معاشی حالت کیا ہے، تب تک برابری کے دعوے ادھورے رہیں گے۔ ایسے میں’گھر کی کوئی ذات نہیں ہوتی‘جیسا بیان، بھلے ہی ایک نظریاتی آئیڈیل کی طرح سنائی دے، عملی طور پر وہ اس سچائی سے آنکھیں چرانے جیسا ہے، جسے ملک کا ایک بڑا حصہ روز جیتا ہے۔
اس لیے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سطحی آسانیوں سے آگے بڑھیں اور سماج کی پیچیدگیوں کو تسلیم کریں۔ تبھی جمہوریت صرف ایک عمل نہیں بلکہ ایک زندہ اور منصفانہ نظام بن سکے گی۔
(منوج کمار جھا راشٹریہ جنتا دل کے راجیہ سبھا کے رکن ہیں۔)
ایکس پر شائع ہوا ہے۔






