آزادی کے بعد سے کتنی بار ہو چکی ہے حد بندی؟ آئیے جانتے ہیں

AhmadJunaidJ&K News urduApril 16, 2026360 Views


1971 کی مردم شماری پر مبنی 1973 کی تیسری حد بندی سے ایک بڑی تبدیلی آئی۔ لوک سبھا کی نشستوں کی مجموعی تعداد بڑھا کر 543 کر دی گئی۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div><div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>

i

user

2029 کے لوک سبھا انتخاب سے قبل اہم سیاسی بحث کے دوران ہندوستان میں حد بندی کا معاملہ ایک بار پھر موضوع بحث بن چکا ہے۔ مرکزی حکومت ایک بڑی تبدیلی کی تیاری کر رہی ہے۔ اس سے لوک سبھا سیٹوں کی تعداد 543 سے بڑھ کر تقریباً 850 ہو سکتی ہے۔ اس کا دوہرا مقصد ہے، پہلا آبادی میں اضافے کے تناسب سے نمائندگی کو یقینی بنانا اور دوسرا خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن نافذ کرنا۔ آئیے ذیل میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آزادی کے بعد سے ہندوستان میں کتنی بار حد بندی ہوئی اور ہر مرحلہ میں کیا تبدیلی آئی ہے۔

حد بندی کا مطلب ہوتا ہے آبادی کے اعداد و شمار کی بنیاد پر انتخابی حلقوں کی حدود کو دوبارہ تعین کرنے کا عمل۔ اس کا مقصد مساوی نمائندگی کو یقینی بنانا ہے، تاکہ ہر منتخب نمائندہ تقریباً برابر تعداد میں شہریوں کی نمائندگی کر سکے۔ ہندوستان میں یہ کام ایک حد بندی کمیشن کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔

حد بندی کی پہلی مشق 1952 میں 1951 کی مردم شماری کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ ایک نئے آزاد ملک کے لیے یہ کافی ضرور قدم تھا۔ ایسا اس لیے کیونکہ اس نے پہلی بار انتخابی علاقوں کی حدود کو متعین کیا تھا اور ہندوستان کے پہلے عام انتخاب کو ہموار بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ دوسری حد بندی 1963 میں 1961 کی مردم شماری کے اعداد و شمار کا استعمال کر کے کیا گیا تھا۔ اس مرحلہ کے دوران آبادی میں اضافے کے تناسب کو ظاہر کرنے کے لیے لوک سبھا کی نشستوں میں تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ اس سے اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ مختلف علاقوں میں نمائندگی کا توازن برقرار رہے۔

1971 کی مردم شماری پر مبنی 1973 کی تیسری حد بندی سے ایک بڑی تبدیلی آئی۔ لوک سبھا کی نشستوں کی مجموعی تعداد بڑھا کر 543 کر دی گئی۔ حالانکہ اس کے فوراً بعد 1976 میں ایک آئینی ترمیم کے ذریعہ نشستوں کی تعداد کو 2000 تک کے لیے منجمد کر دیا گیا۔ ایسا اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا تھا کہ جن ریاستوں نے آبادی میں اضافے کو کامیابی سے کنٹرول کیا تھا، انہیں نمائندگی کے معاملے میں کسی بھی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔

قابل ذکر ہے کہ تقریباً 3 دہائیوں کے بعد حد بندی کی چوتھی مشق 2002 میں 2001 کی مردم شماری کی بنیاد پر شروع کی گئی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نشستوں کی تعداد پر عائد پابندی کے باعث لوک سبھا کی نشستوں کی مجموعی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ اس کے بجائے اس مرحلہ میں انتخابی حلقوں کی سرحدوں کو پھر سے طے کرنے اور درج فہرست ذاتوں  اور درج فہرست قبائل کے لیے نشستوں کے ریزرویشن پر نظرِ ثانی کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...