بہار میں غائب ہو گئے تقریباً 9 ہزار تالاب اور جھیلیں، آبی ذخائر سے متعلق سروے میں ہوا انکشاف

AhmadJunaidJ&K News urduApril 14, 2026359 Views


’انڈین ایکسپریس‘ نے ایک افسر کے حوالے سے بتایا کہ ’’ہم آبی ذخائر کے سروے کے نتائج کا جائزہ لے رہے ہیں اور تجاوزات سے پاک عوامی تالابوں پر ایک اپ ڈیٹڈ رپورٹ تیار کریں گے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div><div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>

i

user

ایک طرف ملک میں پانی کی کمی کا مسئلہ مسلسل بڑھ رہا ہے تو دوسری طرف مسائل کو حل کرنے کے معاملے میں بھی خوب لاپرواہی برتی جا رہی ہے۔ دیگر ریاستوں کی طرح بہار میں بھی پانی کا مسئلہ برقرار ہے، لیکن آبی ذخائر سے متعلق سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لاپرواہی کی وجہ سے ریاست میں بڑی تعداد میں آبی ذخائر غائب ہوتے جا رہے ہیں۔ تقریباً 9 ہزار آبی ذخائر کا اب کچھ پتہ نہیں ہے۔

آخر یہ آبی ذرائع کہاں غائب ہو گئے؟ یہ سوال مرکز کی آبی ذخائر سے متعلق دوسرے سروے 24-2023 کے سامنے آنے کے بعد اٹھ رہا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ ریاست میں تقریباً 8940 آبی ذخائر غائب ہو چکے ہیں۔ جل شکتی کی وزارت کی جانب سے گزشتہ سال بہار، دہلی، آسام، لداخ اور سکم کے لیے کیے گئے آبی ذخائر کے دوسرے سروے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ 19-2018 میں بہار میں درج 45793 آبی ذخائر میں سے صرف 36856 ہی موجود ہیں، جبکہ 9000 کے قریب آبی ذخائر غائب ہوتے چلے گئے۔

سروے کے مطابق ان آبی ذخائر میں سے 45 فیصد تو بہار حکومت کی ملکیت میں ہی ہے، حالانکہ ریاست کے محکمہ ریونیو اور اراضی اصلاحات کے پاس اس بات کی کوئی معلومات نہیں ہے کہ ان میں سے کتنے آبی ذخائر پر (جزوی یا مکمل طور پر) قبضہ کر لیا گیا ہے۔ ’انڈین ایکسپریس‘ نے ایک افسر کے حوالے سے بتایا کہ ’’ہم آبی ذخائر کے سروے کے نتائج کا جائزہ لے رہے ہیں اور تجاوزات سے پاک عوامی تالابوں پر ایک اپ ڈیٹڈ رپورٹ تیار کریں گے۔‘‘ اس سروے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ 85 فیصد آبی ذخائر دیہی علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر یعنی تقریباً 91 فیصد تالاب ہیں، جبکہ باقی جھیلوں، ٹینکوں، آبی ذخائر، چیک ڈیم اور پرکولیشن ڈیم کی شکل میں ہیں۔

سروے سے پتہ چلتا ہے کہ 19-2018 میں بہار میں موجود 35027 تالابوں میں سے اب صرف 33618 ہی بچے ہیں۔ ریاست میں 1409 تالاب مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں۔ اسی طرح ٹینکوں کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے۔ ٹینکوں کی تعداد 4221 سے گھٹ کر 859 تک آ گئی ہے، جبکہ جھیلوں کی تعداد 2693 سے کم ہو کر 258 اور آبی ذخائر کی تعداد 2156 سے گھٹ کر صرف 315 رہ گئی ہے۔ ریاست کے آبی ذخائر میں سے زیادہ تر (40.4 فیصد) پنچایتوں کی ملکیت میں ہیں، جس کے بعد ریاست کے محکمہ آبی وسائل (ڈبلیو آر ڈی) یا ریاستی محکمہ آبپاشی (22.3 فیصد) کا نمبر آتا ہے۔

واضح رہے کہ ریاست میں آبی ذخائر پر تیزی سے قبضے کیے جا رہے ہیں، اور یہ خاص طور پر لینڈ مافیا کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ ان مقامات پر مسلسل تجاوزات سے ایک نیا خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔ 2023 کے ایک حکم میں، پٹنہ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ ریاست میں 1045 تالابوں پر ناجائز قبضہ کیا جا چکا ہے۔ اسی طرح بہار اسمبلی کے حالیہ بجٹ سیشن کے دوران عوامی آبی ذخائر کے غائب ہونے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں، ریاست کے ریونیو اور اراضی اصلاحات کے وزیر وجے سنہا نے بتایا تھا کہ صرف 5 تالابوں پر ہی قبضہ کیا گیا ہے، جبکہ انڈین انکلوسیو پارٹی (آئی آئی پی) کے رکن اسمبلی آئی پی گپتا نے اس دعوے کی مخالفت کی تھی۔ آئی پی گپتا نے کہا تھا کہ ’’اب جب کہ آبی ذخائر کے تازہ سروے نے حکومت کے جھوٹ کو بے نقاب کر دیا ہے، تو ہم اس سوال کو دوبارہ اٹھائیں گے۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...