
رامبن میں مبینہ طور پر گئو رکشکوں کے حملے کے بعد ایک مقامی شخص کے ندی میں چھلانگ لگانے کے واقعہ کے بعد مقامی لوگ میڈیا سے بات کرتے ہوئے۔ (تصویر: ویڈیو اسکرین گریب)
سری نگر: جموں و کشمیر کے رامبن ضلع میں سوموار (13 اپریل) کو ہزاروں مظاہرین نے قومی شاہراہ پر ٹریفک روک دی۔ یہ احتجاج اس واقعہ کے بعد ہوا،جس میں ایک مقامی شخص ایک دن پہلے مبینہ گئورکشکوں کے حملے سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے لاپتہ ہو گیا۔
برسر اقتدار نیشنل کانفرنس، اپوزیشن پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی)، کانگریس پارٹی سمیت دیگر جماعتوں اور رامبن کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ’گئورکشکوں‘کا رول تھا۔
رامبن کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) ارون گپتا نے بتایا کہ اتوار (12 اپریل) کو دوپہر تقریباً 1:30 بجے پولیس کو اطلاع ملی کہ تنویر احمد چوپن نامی ایک نوجوان مگرکوٹ کے قریب چناب ندی کی ایک معاون ندی بشلاری میں کود گیا ہے۔ ایس ایس پی نے بتایا کہ کچھ لوگوں نے چوپن کو ندی میں کودتے ہوئے دیکھا تھا؛ وہ جموں سے ایک منی ٹرک میں ایک گائے اور دو بچھڑے لے کر اپنے گھر واپس جا رہا تھا۔
رامسو پولیس اسٹیشن میں ایک مقدمہ (ایف آئی آر نمبر 26/2026) درج کیا گیا ہے اور چار افراد – سرجیت سنگھ، سندیپ سنگھ، دگوجئے سنگھ اور کیول سنگھ- کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ سب رامبن کے رہنے والے ہیں۔ گپتا نے کہا کہ جن حالات میں چوپن نے ندی میں چھلانگ لگائی، وہ’جانچ کا معاملہ‘ہے۔ انہوں نے کہا،’ہم نے سی سی ٹی وی فوٹیج جمع کی ہے تاکہ یہ پتہ لگایا جا سکے کہ کیا کوئی دوسری گاڑی اس کا پیچھا کر رہی تھی ۔‘
یہ واضح نہیں ہے کہ ملزمان کے خلاف کن دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور کیا ان کا تعلق کسی ہندو دائیں بازو کی تنظیم سے ہے ۔ پولیس نے ایف آئی آر کی تفصیلات پبلک نہیں کی ہیں۔
پولیس کارروائی سے غیر مطمئن رامبن کے ہزاروں لوگ، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، مگرکوٹ کے قریب قومی شاہراہ-44 پر جمع ہو گئے اور کشمیر وادی کو جموں خطے سے جوڑنے والی اس سڑک پر ٹریفک کومعطل کر دیا۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ حال کے دنوں میں اس علاقے میں ہندو دائیں بازو کے گروپوں کی جانب سے مسلمانوں پر دیگر حملے بھی کیے گئے ہیں، جن میں ان پر گئو کشی کے الزام لگائے جاتے ہیں۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ پولیس چوپن کے اہل خانہ کو ایف آئی آر کی کاپی دے اور واقعہ کی شفاف جانچ کرائے۔
چوپن رامبن کے پوگل علاقے کے منڈخال گاؤں کا رہنے والا ہے، اور اس کے والد ایک اسپیشل پولیس آفیسر ہیں۔
ایک ویڈیو میں ہزاروں لوگ شاہراہ پر جمع ہو کر نعرے لگاتے نظر آئے اور مجرموں کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگا رہے تھے-’ پھانسی دو، پھانسی دو، گنہگاروں کو پھانسی دو۔ ‘
ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی نے مظاہرین کو سے بات چیت کی اور مجرموں کے خلاف فوری کارروائی کی یقین دہانی کرائی، جس کے بعد شاہراہ پر ٹریفک بحال کر دیا گیا۔
رامبن کانگریس کے سابق رہنما اور وکیل فیروز خان نے کہا؛’رامبن میں یہ اس طرح کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ہم مسلسل ایسی چیزیں دیکھ رہے ہیں۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا جس میں ایک شخص کو برہنہ کر کے پیٹاجا رہا تھا۔ یہ لوگ کون ہیں جو پولیس سے بھی اوپر کام کرتے دکھائی دے رہے ہیں؟ ان حملوں کے پیچھے کون ہے اور انہیں پیسے کون دے رہا ہے؟ ہم کارروائی چاہتے ہیں۔‘
بنیہال کے رکن اسمبلی اور حکمران نیشنل کانفرنس کے رہنما سجاد شاہین نے بتایا کہ انہیں پتہ چلا ہے کہ چوپن کی گاڑی پر پتھراؤ کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے اسے رکنا پڑا۔ شاہین نے کہا کہ حملہ آوروں نے اسے اس کے ٹرک سے باہر کھینچ لیا اور بری طرح پیٹا۔
شاہین نے کہا:’اپنی جان کے ڈر سے وہ بھاگ گیا اور ایک چٹان سے نیچے کود گیا۔ وہ نیچے ندیمیں گر گیا اور پانی کے بہاؤ میں بہہ گیا۔‘ شاہین نے بتایا کہ اس کے پاس مویشیوں کو لے جانے کا قانونی اجازت نامہ تھا۔
رامبن کے ڈپٹی کمشنر محمد الیاس خان نے کہا کہ کئی لوگوں نے تصدیق کی ہے کہ چوپن ندی میں گرا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن میں مدد کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کی ایک ٹیم سوموار کو پہنچی۔ انہوں نے کہا،’ہماری ٹیمیں تلاشی مہم چلا رہی ہے۔ ہم تحقیقات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں سے بچنا چاہیے۔‘
دریں اثنا، پی ڈی پی لیڈر التجا مفتی نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے اس معاملے میں کوئی گرفتاری نہیں کی ہے۔
Tanveer Hussain was driven to his death by cow vigilantes in Ramban. As if the incident wasn’t distressing enough the culprits are yet to be booked leave alone arrest. Mobile services have been suspended to stop word from spreading. But the truth is gau rakshaks enjoy… pic.twitter.com/NjAVpiJb1D
— Iltija Mufti (@IltijaMufti_) April 13, 2026
انہوں نے ایکس پر لکھا،’تنویر حسین کو رامبن میں گئو رکشکوں نے موت کی طرف دھکیلا۔ واقعہ جتنا افسوسناک ہے، اتنا ہی تشویشناک یہ ہے کہ ابھی تک ملزمان کے خلاف معاملہ تک درج نہیں ہوا، گرفتاری تو دور کی بات ہے۔ معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے موبائل سروسز معطل کر دی گئی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ گئو رکشکوں کو اس طرح کی بے رحمانہ ہلاکتوں کے لیے ادارہ جاتی چھوٹ حاصل ہے۔‘
ڈیموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹی کے ترجمان سلمان نظامی نے ایکس پر لکھا’رامبن ضلع کے مگرکوٹ میں اس چونکا دینے والے واقعہ کی سخت مذمت کرتا ہوں، جہاں مقامی تنویر چوپن کا مبینہ طور پر گئو رکشکوں نے پیچھا کیا، جس کے باعث اسے ندی میں چھلانگ لگانا پڑی اور وہ لاپتہ ہو گیا۔ میں نے ڈی آئی جی شارگن شکلا سے بات کی ہے، جنہوں نے سخت کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ مجرموں کو فوراً گرفتار کیا جانا چاہیے۔ میں لوگوں سے امن برقرار رکھنے اور پولیس کو اپنا کام کرنے دینے کی اپیل کرتا ہوں۔‘
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔






