’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ میں ممکنہ ترمیم کی خبروں کے درمیان کانگریس نے مرکز کی مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ’’نریندر مودی کو جانے کیا ہوا ہے کہ اب وہ اپنی ہی مرضی سے بنایا ہوا قانون بدلنے جا رہے ہیں۔‘‘ اس بارے میں کانگریس کی ترجمان سپریا شرینیت نے ایک پریس کانفرنس میں تفصیل سے جانکاری دی۔ انھوں نے اپنی پریس کانفرنس میں کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی کے تازہ مضمون کا بھی ذکر کیا۔
پریس کانفرنس میں سپریا شرینیت نے کہا کہ ’’آج سے 30 ماہ قبل ستمبر 2023 میں مودی حکومت ’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ لے کر آئی، جس میں خاتون ریزرویشن کی بات تھی۔ لیکن تب حالات ایسے تھے کہ حکومت کی منشا صاف نہیں ہو رہی تھی۔ حکومت نے آئینی ترمیم کی اور اس میں شرط ڈالی گئی کہ پہلے مردم شماری ہوگی، پھر حد بندی ہوگی اور اس کے بعد خاتون ریزرویشن نافذ ہوگا۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’اس وقت کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے کہا تھا کہ خاتون ریزرویشن کو بلاشرط 2024 میں ہی نافذ ہونا چاہیے، تاکہ خواتین منتخب ہو کر ایوان میں آئیں۔ لیکن 30 ماہ بعد نریندر مودی کو جانے کیا ہوا، اب وہ اپنی ہی مرضی سے بنایا ہوا قانون بدلنے جا رہے ہیں۔‘‘
سونیا گاندھی کے مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے سپریا شرینیت نے کہا کہ ’’آج ’دی ہندو‘ اخبار میں سی پی پی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے مودی حکومت کے جملوں کی قلعی کھول دی ہے۔ سونیا گاندھی نے صاف کہا ہے کہ خاتون ریزرویشن ایشو نہیں ہے، وہ تو ایوان میں پاس ہو چکا ہے۔ کانگریس نے خود کہا ہے کہ خاتون ریزرویشن کو بغیر ذات پر مبنی مردم شماری اور حد بندی کی شرط کے نافذ کیجیے۔ اصل ایشو ’خاتون ریزرویشن‘ کا نہیں، حد بندی کا ہے۔ مودی حکومت خاتون ریزرویشن کے پیچھے چھپ کر سازش کر رہی ہے۔‘‘
کانگریس ترجمان نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’آپ سبھی کی یاد تازہ کرنے کے لیے بتا دیں کہ جس بنیاد پر خاتون ریزرویشن لوک سبھا، راجیہ سبھا اور اسمبلی میں آئے گا، اس بنیاد کو ڈالنے کا کام کانگریس پارٹی نے کیا تھا۔ 73ویں، 74ویں آئینی ترمیم کے سبب پنچایتی راج میں خواتین کو ایک تہائی ریزرویشن دینے کا کام کانگریس پارٹی نے کیا تھا اور اس کے سب سے بڑے حامی راجیو گاندھی تھے۔‘‘ وہ آگے کہتی ہیں کہ ’’اس فیصلے کا نتیجہ ہے کہ آج 15 لاکھ سے زیادہ منتخب خواتین پنچایتی راج میں فعال ہیں۔ ان کی مجموعی تعداد 40 فیصد سے زیادہ ہے۔ کانگریس پارٹی نے خواتین کو ایک تہائی ریزرویشن دینے کا کام اتفاق رائے سے کیا تھا۔ اس کے لیے کل جماعتی میٹنگ بھی بلائی گئی تھی اور طویل مدت تک غور و خوض کیا گیا تھا۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’30 ماہ قبل ہی مودی حکومت نے آئینی ترمیم کی اور اب خود ہی اسے بدلنے کی تیاری کر رہی ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں انتخابات ہیں۔ وہاں کے سارے اراکین پارلیمنٹ انتخابی تشہیر میں مصروف ہوں گے۔ ایسے میں اپوزیشن نے مودی حکومت کو 3-3 خطوط لکھے اور کہا کہ 29 اپریل کے بعد ایک کل جماعتی میٹنگ بلا کر خاتون ریزرویشن اور حد بندی کے ایشوز پر تبادلہ خیال کر لیجیے۔ لیکن حکومت کی منشا میں کھوٹ ہے، جو خواتین کو خود مختار بنانے کے بارے میں سوچتی ہی نہیں۔‘‘
سپریا شرینیت نے کچھ سوالات بھی حکومت کے سامنے رکھے۔ انھوں نے پوچھا کہ ’’جس ایشو کے لیے 16 اپریل سے خصوصی اجلاس طلب کیا جا رہا ہے، کیا ان پر بحث حال ہی کے اجلاس میں نہیں ہو سکتا تھا؟ آخر کیا وجہ ہے کہ مودی حکومت انتخابات کے درمیان میں اراکین پارلیمنٹ کو بلا کر بحث کرانا چاہتی ہے؟‘‘ اس تعلق سے کانگریس لیڈر نے حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’صاف ہے، مودی حکومت خواتین ریزرویشن کے پیچھے چھپ کر غلط طریقے سے حد بندی کرنا چاہتی ہے اور ذات پر مبنی مردم شماری سے بچنا چاہتی ہے۔‘‘ سپریا شرینیت نے ذات پر مبنی مردم شماری معاملہ میں راہل گاندھی کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’راہل گاندھی نے ایک سال قبل یہ ذمہ اٹھایا تھا کہ ملک میں ذات پر مبنی مردم شماری ہو کر رہے گی، لیکن اسی مودی حکومت نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کر کہا تھا کہ ذات پر مبنی مردم شماری نہیں ہونی چاہیے۔ آخر میں مودی حکومت نے ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کی بات مان لی۔‘‘
میڈیا اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس ترجمان نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’سونیا گاندھی نے اپنے مضمون میں یہ بات کہی ہے کہ مودی حکومت لگاتار ذات پر مبنی مردم شماری سے بھاگے گی۔ 2011 میں آخری مردم شماری ہوئی تھی اور پھر 2021 میں مردم شماری ہونی تھی۔ یعنی ملک کی مردم شماری 5 سال پیچھے چل رہی ہے اور ڈیجیٹل مردم شماری ہو رہی ہے تو اس کے اعداد و شمار 2027 تک آئیں گے۔‘‘ انھوں نے یہ سوال بھی کیا کہ بغیر مردم شماری کا ڈاٹا سامنے آئے حد بندی کیسے کی جا رہی ہے؟ انھوں نے کہا کہ ’’جن جن ریاستوں میں ایس آئی آر ہو رہا ہے، وہاں لاکھوں کروڑوں لوگوں کے نام کٹے ہیں۔ یعنی حکومت مان رہی ہے کہ الگ الگ مقامات پر مردم شماری بدل رہی ہے۔ ایسے میں کس بنیاد پر حد بندی کی جائے گی؟ حکومت کیسے فیصلہ لے گی کہ ایس سی/ایس ٹی سیٹ کون سی ہوگی؟‘‘ سپریا شرینیت یہ بھی کہتی ہیں کہ بہار اور تلنگانہ میں ذات پر مبنی سروے ظاہر کرتے ہیں کہ ملک میں پسماندہ طبقہ کی اابادی کتنی ہے، اور اسی بنیاد پر کانگریس پارٹی لگاتار کہتی رہی ہے کہ او بی سی خواتین کے لیے دروازے کھولے اور ریزرویشن دیجیے۔ لیکن مودی حکومت ’شکونی چال‘ چلتے ہوئے حد بندی کے عمل کو آگے بڑھاتی جا رہی ہے، تاکہ ذات پر مبنی مردم شماری نہ کرانی پڑے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔



































