’حکومت سیاسی فائدے کے لیے خواتین ریزرویشن کے نفاذ میں جلد بازی کر رہی ہے‘، ملکارجن کھڑگے کا پی ایم مودی کو خط

AhmadJunaidJ&K News urduApril 12, 2026359 Views


کھڑگے نے لکھا کہ ’ناری شکتی ادھینیم 2023 کو پارلیمنٹ نے ستمبر 2023 میں اتفاق رائے سے منظور کیا تھا۔ اس وقت کانگریس کی جانب سے میں نے مطالبہ کیا تھا کہ اس اہم قانون کو فوری طور پر نافذ کیا جانا چاہیے۔‘

<div class="paragraphs"><p>کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے / ویڈیو گریب</p></div><div class="paragraphs"><p>کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے / ویڈیو گریب</p></div>

i

user

کانگریس کے قومی صر ملکارجن کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی سے کہا ہے کہ ریاستوں میں انتخابات کے دوران پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانا اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ حکومت سیاسی فائدے کے لیے خواتین ریزرویشن قانون کے نفاذ میں جلد بازی کر رہی ہے۔ وزیر اعظم مودی کو لکھے گئے خط میں کھڑگے نے اس مطالبے کو دوہرایا ہے کہ حد بندی کے مسئلے پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے 29 اپریل کے بعد ایک کل جماعتی میٹنگ بلائی جائے۔ کیونکہ اس حد بندی کو ’ناری شکتی وندن ادھینیم، 2023‘ میں ترامیم سے جوڑا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ ملکارجن کھڑگے کا یہ خط وزیر اعظم مودی کے اس خط کے جواب میں آیا ہے جس میں انہوں نے 16 اپریل سے ’ناری شکتی وندن ادھینیم‘ پر بحث کے لیے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کا تذکرہ کیا تھا۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے ہفتہ (11 اپریل) کو وزیر اعظم مودی کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ ’’مجھے ابھی ابھی 16 اپریل سے ناری شکتی وندن ادھینیم پر بحث کے لیے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے سلسلے میں آپ کا خط موصول ہوا ہے۔‘‘

ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ناری شکتی ادھینیم 2023 کو پارلیمنٹ نے ستمبر 2023 میں اتفاق رائے سے منظور کیا تھا۔ اس وقت انڈین نیشنل کانگریس کی جانب سے میں نے مطالبہ کیا تھا کہ اس اہم قانون کو فوری طور پر نافذ کیا جانا چاہیے۔‘‘ کانگریس صدر نے کہا کہ حالانکہ وزیر اعظم نے اپنے خط میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ اس کے فوری نفاذ کے لیے وسیع اتفاق رائے موجود تھا، لیکن اس کے باوجود انہوں نے اسے نافذ نہیں کیا۔

راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے نے مزید کہا کہ ’’تب سے 30 ماہ گزر چکے ہیں اور اب ہمیں اعتماد میں لیے بغیر یہ خصوصی اجلاس بلایا گیا ہے اور آپ کی حکومت حد بندی کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کیے بغیر ہم سے دوبارہ تعاون مانگ رہی ہے۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ حد بندی اور دیگر پہلوؤں کی تفصیلات کے بغیر اس تاریخی قانون پر کوئی بامعنی بحث کرنا ناممکن ہو گا۔‘‘


0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...