ووٹ ڈالنے اور انتخاب لڑنے کا حق بنیادی نہیں، سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا

AhmadJunaidJ&K News urduApril 11, 2026359 Views


عدالت نے کہا کہ ہائی کورٹ نے ووٹ دینے اور انتخاب لڑنے کے حق کو یکساں مان کر غلطی کی۔ عدالت کے مطابق متعلقہ ضمنی قوانین صرف انتخاب لڑنے کی اہلیت طے کرتے ہیں اور وہ ووٹ ڈالنے کے حق کو متاثر نہیں کرتے۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>

i

user

سپریم کورٹ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ نہ تو ووٹ دینے کا اور نہ ہی انتخاب لڑنے کا حق ’بنیادی حق‘ ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ یہ دونوں حقوق الگ الگ ہیں اور مکمل طور سے قانون کے تحت چلتے ہیں، نہ کہ آئین کے تحت بنیادی حقوق کے طور پر۔ جسٹس بی وی ناگرتھنا اور جسٹس مہادیون کی بنچ نے راجستھان کی ضلعی دودھ یونینوں کے انتخاب سے متعلق ایک تنازعہ کی سماعت کے دوران یہ تبصرہ کیا۔ یہ فیصلہ جسٹس مہادیون نے لکھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ووٹ دینے کا حق کسی فرد کو انتخاب کے عمل میں حصہ لینا کا موقع دیتا ہے، جبکہ انتخاب لڑنے کا حق ایک الگ اور اضافی اور حق ہے، جس پر اہلیت، نااہلی اور دیگر ادارہ جاتی شرائط نافذ کی جا سکتی ہیں۔ عدالت نے جیوتی بسو بمقابلہ دیوی گھوشال (1982) اور جاوید بمقابلہ ہریانہ ریاست (2003) جیسے پرانے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ حق صرف قانون کے ذریعہ دیے گئے ہیں اور انہیں اسی حد تک نافذ کیا جا سکتا ہے جس کی قانون اجازت دیتا ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ راجستھان ہائی کورٹ نے ووٹ دینے اور انتخاب لڑنے کے حق کو یکساں مان کر غلطی کی۔ عدالت کے مطابق متعلقہ ضمنی قوانین صرف انتخاب لڑنے کی اہلیت طے کرتے ہیں اور وہ ووٹ ڈالنے کے حق کو متاثر نہیں کرتے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ان ضمنی قوانین کا مقصد یہ طے کرنا ہے کہ کون شخص انتخاب لڑ سکتا ہے یا عہدے پر برقرار رہ سکتا ہے۔ انہیں نااہلی سے جوڑنا غلط ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ ہائی کورٹ نے تمام متاثرہ فریق کو سنے بغیر ایک وسیع فیصلہ دے دیا، جو کہ فطری انصاف کے اصول ’تمام فریق کو سننے کے حق‘ کی خلاف ورزی ہے۔

سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اپیل منظور کر لی۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ کوآپریٹو ادارے اپنے ضمنی قوانین کے ذریعہ انتخابی عمل اور نمائندگی کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔ یہ فیصلہ انتخابی حقوق کی قانونی نوعیت اور ان کے دائرے کو واضح کرنے والا اہم فیصلہ مانا جا رہا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...