روس میں بغیر مرضی کے جنگ لڑ رہے 26 ہندوستانی، سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو بھیجا نوٹس

AhmadJunaidJ&K News urduApril 10, 2026359 Views


عرضی میں متاثرہ کنبوں کی طرف سے پیش دلیلوں پر وزارت خارجہ کی عدم فعالیت کو ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ روس سے 26 ہندوستان کی محفوظ واپسی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ / آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ / آئی اے این ایس</p></div>

i

user

سپریم کورٹ نے روس میں پھنسے ہندوستانیوں سے متعلق داخل 26 رٹ پٹیشن پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملہ میں مرکزی وزارت خارجہ سمیت تمام ریاستی حکومتوں کو بھی نوٹس جاری کیا ہے۔ جواب داخل کرنے کے لیے انھیں 4 ہفتوں کا وقت دیا گیا ہے۔ یہ تمام ہندوستانی اسٹوڈنٹ یا سیاحتی ویزا پر روس گئے تھے۔ عرضی میں ان ہندوستانی شہریوں کی مبینہ حوالگی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے، جو اسٹوڈنٹ یا سیاحتی ویزا پر روس گئے تھے اور اب مبینہ طور پر یوکرین کے خلاف جنگ میں حصہ لینے پر مجبور کیے جا رہے ہیں۔

عرضی میں متاثرہ افراد کے اہل خانہ کی جانب سے پیش کی گئی دلیلوں پر وزارت خارجہ کی عدم فعالیت کو ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ روس سے 26 ہندوستانیوں کی محفوظ واپسی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی گزار کے وکیل نے اس معاملہ میں عدالت کو بتایا کہ ریاست کی طرف سے مسلسل اور مستقل عدم فعالی برقرار ہے۔ مشکل میں پھنسے ہندوستانی نے عرضی میں کہا ہے کہ ہم روس میں پھنسے ہوئے ہیں، ہم اپنی مرضی کے خلاف ایک غیر ملکی ریاست کے لیے یوکرین کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔

اس تعلق سے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ ہم اس معاملے کی جانچ کریں گے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ سالیسیٹر جنرل نے ہدایات لینے کے لیے وقت مانگا ہے۔ ایک ہفتہ کے اندر جواب داخل کرنے کے قابل نوٹس جاری کیا جائے۔ عرضی گزار کے وکیل نے کہا کہ ہم یا تو مر چکے ہیں یا زخمی ہیں، ہم انتہائی مشکل حالات میں ہیں۔ اس کے جواب میں چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ ہم نے سالیسیٹر جنرل سے اس معاملے کو دیکھنے کی درخواست کی ہے۔

داخل عرضی میں کہا گیا ہے کہ اہل خانہ کو موصول ہونے والے آخری پیغامات ستمبر اور اکتوبر 2025 کے درمیان کے ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ کوپیانسک، سیلیدووے، ماکئیفکا اور چیلیابنسک جیسے فعال جنگی علاقوں میں یا ان کے آس پاس تعینات تھے۔ انہوں نے اپنی سلامتی کے حوالے سے خوف کا اظہار کیا تھا اور بتایا تھا کہ وہ ان علاقوں سے نکلنے سے قاصر ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...