نئی دہلی: ہندوستانی فوج نے کرنل شری کانت پروہت کو بریگیڈیئر کے عہدے پر ترقی دینے کی منظوری دے دی ہے، ایک ایسا فیصلہ جو ان کے پیشہ ورانہ سفر کے ساتھ جڑے طویل قانونی پس منظر کے باعث توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت مسلح افواج ٹریبونل کی ہدایات کے بعد سامنے آئی ہے، جس نے ان کی عرضی پر سماعت کے دوران 31 مارچ کو متوقع ریٹائرمنٹ پر عارضی روک لگا دی تھی۔
ٹریبونل کی مداخلت کے نتیجے میں ان کی سروس کو اس وقت تک برقرار رکھا گیا جب تک ترقی اور دیگر سروس فوائد سے متعلق ان کی قانونی درخواست پر حتمی فیصلہ نہ ہو جائے۔ اس دوران یہ نکتہ بھی سامنے آیا کہ کرنل پروہت نے اپنے کیریئر میں پیش آنے والی رکاوٹوں کو بنیاد بنا کر ترقی کے حق میں دلائل پیش کیے تھے۔
واضح رہے کہ کرنل پروہت کا نام 2008 کے مالیگاؤں دھماکہ معاملے میں سامنے آیا تھا، جس کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا اور وہ کئی برس تک حراست میں رہے۔ بعد ازاں انہیں سپریم کورٹ سے ضمانت ملی، جبکہ 2025 میں ممبئی کی ایک خصوصی عدالت نے انہیں اس مقدمے میں بری قرار دے دیا۔ اس کے باوجود یہ معاملہ طویل عرصے تک ان کی سروس اور پیشہ ورانہ پیش رفت پر اثر انداز ہوتا رہا۔
سماعت کے دوران ان کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایک طویل سروس ریکارڈ کے باوجود بعض حالات کے سبب ان کی ترقی پر بروقت غور نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب، ٹریبونل نے عبوری راحت دیتے ہوئے ان کے حالیہ سروس ریکارڈ اور عدالت سے بری ہونے کے بعد کی صورتحال کو بھی مدنظر رکھا۔
اب فوج کی جانب سے دی گئی منظوری کو باضابطہ کارروائیوں سے مشروط بتایا جا رہا ہے، تاہم اس فیصلے نے ایک بار پھر اس سوال کو ابھارا ہے کہ ماضی کے پیچیدہ قانونی معاملات اور پیشہ ورانہ ترقی کے درمیان توازن کس حد تک ممکن ہے۔ بظاہر یہ ایک انتظامی فیصلہ ہے، لیکن اس کے مختلف پہلوؤں پر خاموشی سے غور کیا جا رہا ہے، خاص طور پر ان حالات کے تناظر میں جنہوں نے اس پورے عمل کو غیر معمولی بنا دیا تھا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔



































