امریکہ اور ایران کی جنگ بندی کے بعد اسرائیل نے 40 دنوں تک مسجد اقصیٰ کو فلسطین کے لیے بند رکھنے کے بعد کھول دیا ہے۔ اسرائیل کے قبضے والے یروشلم میں موجود یہ مسجد مسلمانوں کے نزدیک انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ جنگ کی شروعات سے ہی اسرائیل نے یہاں نماز پر پابندی عائد کر دی تھی۔ الجزیرہ کی تصدیق کردہ ویڈیو میں جمعرات (9 تاریخ) کی صبح فجر کی نماز کے وقت فلسطینی شہری مسجد کے اندر داخل ہوتے ہوئے نظر آئے۔ نماز فجر میں تقریباً 3 ہزار لوگ مسجد میں جمع ہوئے۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکہ-اسرائیل جنگ شروع ہونے کے بعد مسجد اقصیٰ کے احاطہ میں عیسائی اور مسلم مقامات پر انٹری مکمل طور سے روک دی گئی تھی یا کچھ لوگوں تک ہی محدود کر دی گئی تھی۔ یہ پہلی بار نہیں تھا اسرائیل اکثر یہ پابندیاں فلسطینی نمازیوں پر عائد کرتا رہا ہے۔ مقبوضہ یروشلم میں اسلامک وقف ڈپارٹمنٹ نے تصدیق کی کہ مسجد اقصیٰ کے دروازے صبح سے تمام نمازیوں کے لیے پھر سے کھول دیے جائیں گے۔ مجسد کے مینجمنٹ کے لیے ذمہ دار اردن سے متعلق مذہبی اتھارٹی نے مزید معلومات فراہم نہیں کی ہے۔
پہلے کی ویڈیو میں رضاکار اور ورکرس مسجد کے صحن اور نمازیوں کا استقبال اور مذہبی اعمال کی تیاری کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ اسرائیلی افسران نے بدھ کی شام کو مقبوضہ یروشلم میں مسجد اور چرچ آف دی ہولی سیپلچر کو کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ اسرائیلی پولیس کے مطابق ’اسرائیلی ہوم فرنٹ کمانڈ‘ کی تازہ ترین ہدایات کی بنیاد پر مقدس مقامات کو عام لوگوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ بیان میں بتایا گیا کہ قدیم یروشلم شہر کی گلیوں اور مقدس مقامات کی جانب جانے والی سڑکوں پر پولیس افسران اور بارڈر گارڈز کے ساتھ بڑے پیمانے پر سیکورٹی کا انتظام کیا گیا ہے، جس کا مقصد آنے والے لوگوں کی حفاظت کرنا ہے۔
دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائی اب بھی جاری ہے۔ فلسطینی نیوز ایجنسی ’وفا‘ نے بتایا کہ اسرائیلی فورس نے جمعرات کی صبح نبلوس میں ایک ریڈ کے دوران ایک خاتون کو حراست میں لیا اور ایک آدمی پر حملہ کیا۔ رام اللہ میں موجود فلسطینی ہیلتھ منسٹری نے کہا کہ اسرائیلی فورس نے بدھ کی رات شمالی مغربی کنارے کے تیسیر گاؤں کے پاس ایک فلسطینی آدمی کو گولی مار کر قتل کر دیا۔ وزارت کے مطابق 28 سالہ خالد محمد صبیح کو اسرائیلی فورس نے گولی مار دی، جبکہ اسرائیلی فوج نے کہا کہ ایک آف ڈیوٹی فوج نے پتھر پھینکنے والے پر گولی چلائی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔





































