اترپردیش کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) راجیو کرشنا نے شہروں میں ٹریفک جام سے نجات پانے کے لیے معیاری آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) جاری کیا ہے جس کے تحت محکمہ ٹریفک کے افسران، ملازمین اور متعلقہ تھانوں کے انچارج کی ذمہ داری بھی طے کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نو انٹری، نوپارکنگ، غلط سمت میں ڈرائیونگ، تجاوزات، ای رکشہ چلانے کے سلسلے میں ہدایات دی گئی ہیں۔ ایس او پی میں قریبی دفاتر اور اسکولوں میں چھٹی کے اوقات کے درمیان 15-15 منٹ کے وقفے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز ڈی جی پی نے 20 شہروں کے 172 راستوں کو ٹریفک جام سے آزاد کرنے کے لیے ٹریفک بھیڑ کم کرنے کی اسکیم (سی آر ٹی سی) کا آغاز کیا۔ اس حوالے سے ایس او پی جاری کی گئی ہے۔ اس میں سفر کے وقت کو کم کرنے اور روٹ مارشلز کی تعیناتی کا ذکر ہے۔ اس کے ساتھ ہی مصروف چوراہوں اور تراہوں کے ارد گرد 100 میٹر کے علاقے کو مکمل طور پر خالی رکھنے کو کہا گیا ہے۔ اس علاقے میں کسی بھی سواری کو اتارا یا بٹھایا نہیں جاسکے گا۔ زیادہ ٹریفک دباؤ والے علاقوں میں مصروف اوقات کے دوران اضافی پولیس فورس تعینات کی جائے گی۔ نو انٹری کے اصول کی خلاف ورزی پر 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا، نو پارکنگ اور غیر قانونی پارکنگ پر پہلی بار 500 روپے اور اس کے بعد 2000 روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا، غلط سمت میں گاڑی چلانے پر 2000 روپے جرمانہ عائد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کئی دیگر اقدامات بھی تجویز کیے گئے ہیں جن میں تجاوزات کو ہٹانا، سڑکوں کو چوڑا کرنا اور اہم سڑکوں کو ای رکشہ فری زون قرار دینا شامل ہے۔
سی آر ٹی سی اسکیم کے تحت کئے گئے سروے میں راجدھانی کی دو بڑی سڑکوں پر ٹریفک جام کی حقیقت سامنے آئی ہے۔ بخشی کا تالاب سے پولی ٹیکنک اور عالم باغ واقع اودھ چوراہا سے دوبگہ روٹ کے سروے سے پتا چلا کہ مصروف اوقات میں ان راستوں پر سفر کا وقت کم از کم کے مقابلے 10 سے 15 گنا بڑھ جاتا ہے۔ بخشی کا تالاب سے پولی ٹیکنک روٹ کی کل لمبائی 16.26 کلومیٹر ہے۔ سفر میں کم از کم وقت 12.05 منٹ لگتا ہے جو مصروف اوقات میں بڑھ کر 15 گنا زیادہ ہو جاتا ہے۔ زیادہ تر ٹریفک جام دوپہر 1:30 سے 2:30 بجے، 4:00 سے 4:30 اور شام 7:00 سے 7:30 کے درمیان ہوتا ہے۔ اسی طرح اودھ چوراہا سے دوبگہ کی دوری 10.51 کلومیٹر ہے۔ مصروف اوقات کے دوران سفر کا وقت صبح 11:30 سے 12:00 بجے، دوپہر 3:00 بجے سے 3:40 بجے اور رات 11:25 سے 11:45 بجے سفر کرنے میں 10 گنا زیادہ لگتا ہے۔

































