ججوں کے رہائشی بنگلوں میں بندروں کی بڑھتی ہوئی بدمعاشی کے پیش نظر اب سپریم کورٹ نے ایک ٹنڈر نوٹس جاری کیا ہے۔ اس نوٹس میں آن لائن بولی کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں تقریباً 100 تربیت یافتہ ملازمین کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ وہ یہاں بندروں کو پکڑ سکیں اور انہیں یہاں سے بھگا سکیں۔ یہ آن لائن بولیاں اس لیے طلب کی گئی ہیں تاکہ اس کام میں دلچسپی رکھنے والی ایجنسیاں اپنا پروپوزل پورٹل پر جمع کرا سکیں۔
گورنمنٹ ای-مارکیٹ پلیس (جی ای ایم) پورٹل کے ذریعہ جاری ایک نوٹس میں سپریم کورٹ نے کہا کہ اس کا ارادہ بازار سے وینڈر اور ایجنسیوں سے آن لائن بولیاں طلب کرنے کا ہے تاکہ ایسے ملازمین فراہم کیے جا سکیں جنہیں بندر بھگانے والے، پکڑنے والے یا ہٹانے والے کے طور پر یہاں تعینات کیا جائے۔ ان ملازمین کا کام ججوں کے رہائشی بنگلوں، سپریم کورٹ گیسٹ ہاؤس اور عدالت کے دیگر احاطوں سے بندروں کو بھگانا ہوگا۔
پیش کردہ تجویز کے مط ابق یہ کام 2 سالوں کے لیے ہے۔ ٹنڈر دستاویز کے مطابق ملازمین کو ہندوستان کے سپریم کورٹ سے تقریباً 10 کلومیٹر کے دائرے میں واقع ججوں کے تقریباً 35 سے 40 رہائشی بنگلوں میں تعینات کیا جائے گا۔ عدالت نے واضح کیا کہ معاہدے کی مدت کے دوران کام کی ضرورت کے مطابق ملازمین کی تعداد میں اضافہ یا کمی کی جا سکتی ہے۔
دی گئی جانکاری کے مطابق اس کام کے دائرے میں تربیت یافتہ ملازمین کی فراہمی شامل ہے تاکہ مقررہ رہائشی اور ادارہ جاتی احاطوں کے اندر بندروں کو محفوظ طریقے سے دور رکھا جا سکے اور ان سے ہونے والی پریشانی یا سیکورٹی سے متعلق خطرات کو روکا جا سکے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔





































