ایران ’آبنائے ہرمز‘ پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہوئے دنیا کے ممالک کو ڈیل کی پیشکش کی ہے۔ ایران کی انفارمیشن کونسل کے سربراہ الیاس حضرتی نے کہا ہے کہ ہرمز کے راستے کے استعمال کے لیے یورپی، ایشیائی اور عرب ممالک کے ساتھ معاہدوں پر بات چیت کرنے کے لیے ایران تیار ہے۔ ہم تمام ممالک سے اس پر اپنے طریقے سے ڈیل کریں گے، کیونکہ ہرمز پر ہمارا مکمل کنٹرول ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ٹرمپ نے امریکہ کو ہرمز کے معاملے سے الگ کر لیا ہے۔ ایک بیان میں ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ جن ممالک کو ہرمز سے تیل لانا ہے وہ خود دیکھ لیں، ہم ان کے لیے کیوں لڑیں گے؟
پریس ٹی وی کے مطابق حضرتی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’ٹرمپ ہرمز کے بارے میں بے تکی باتیں کر رہے ہیں۔ پوری دنیا جان رہی ہے کہ اس پر ہمارا کنٹرول ہے۔ ہم ان یورپی، ایشیائی اور عرب ممالک کو دعوت دیں گے جو اس کا استعمال کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کریں۔‘‘ اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہرمز سے متعلق ایک بیان دیا تھا۔ اپنے بیان میں عراقچی نے کہا کہ یہ عمان اور ایران کے درمیان واقع ہے۔ دونوں ممالک کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ یہاں کس طرح کے قوانین نافذ ہوں۔ عمان نے سرکاری طور پر اس مسئلے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
واضح رہے کہ ایران ’آبنائے ہرمز‘ کے قریب ایک ٹول سسٹم چاہتا ہے۔ اس کے تحت اسے یہ حق حاصل ہو کہ وہ تمام جہازوں سے قانونی طور پر رقم وصول کر سکے۔ حال ہی میں ایرانی پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی نے اس سلسلے میں ایک تجویز بھی پیش کی تھی۔ اس تجویز میں کہا گیا تھا کہ مال بردار جہازوں سے رقم لی جائے۔
قابل ذکر ہے کہ ’بلومبرگ‘ نے جمعرات (2 اپریل) کو ہرمز کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ایران صرف اپنے دوست ممالک کے مال بردار جہازوں کو ہی گزرنے کی اجازت دے رہا ہے۔ اس کے بدلے میں ہر ایک جہاز سے 1 ملین ڈالر وصول کیے جا رہے ہیں، اور یہ رقم چینی کرنسی میں لی جا رہی ہے۔ جہاز کو ہرمز میں داخل ہونے سے پہلے اسلامک ریوولیوشنری گارڈ کور (آئی آر جی سی) سے اجازت لینی پڑتی ہے۔ اس کے لیے اسے یہ بتانا ہوتا ہے کہ اس میں کیا سامان ہے اور وہ کہاں سے آ رہا ہے؟ اس کے بعد جہاز کو ’ابو موسیٰ‘ جزیرے سے گزار کر باہر نکالا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کچھ ممالک کے جہازوں پر پاکستان کا جھنڈا بھی لگایا جا رہا ہے، تاکہ ایران کے دشمن ملک بھی اسے نہ مار سکیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


































