
ارنب گوسوامی، فوٹو بہ شکریہ: ایکس
نئی دہلی: بامبےہائی کورٹ نے بدھ (1 اپریل) کو نیوز چینل ری-پبلک ٹی وی اور اس کے چیف ایڈیٹر ارنب گوسوامی کو ہدایت دی کہ وہ صنعتکار انل امبانی سے منسلک کمپنیوں کے خلاف انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی تحقیقات سے متعلق خبریں نشر کرتے وقت’توہین آمیز تنقید‘سے پرہیز کریں۔
لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق، جسٹس ملند جادھو کی سربراہی والی سنگل بنچ نے ارنب گوسوامی اور ری-پبلک ٹی وی کو زبانی طور پر ہدایت دی کہ وہ اپنی بیان بازی کو متعدل رکھیں اور ایسی خبروں کو مبالغہ آمیز سرخیوں کے ساتھ پیش نہ کریں، جنہیں کسی فرد پر حملہ تصور کیا جا سکتا ہو۔
بنچ نے کہا، ’براہ کرم بغیر کسی صفت کے استعمال کے یا کسی کی توہین کیے بغیر خبریں نشر کریں۔ آپ برسوں سے اس شعبے میں ہیں اور تمام گھوٹالوں وغیرہ سے واقف ہیں۔‘
قابل ذکر ہے کہ عدالت انل امبانی کی جانب سے ری-پبلک ٹی وی اور ارنب گوسوامی کے خلاف دائر ہتکِ عزت مقدمے کی سماعت کر رہی تھی۔
اس مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ ری-پبلک ٹی وی اور گوسوامی نے امبانی کو ان کمپنیوں سے جوڑا جن کی انہوں نے بنیاد رکھی تھی، لیکن اب ان پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں ہے-مثلاً ریلائنس کمیونی کیشنز (آرکام)، ریلائنس ہوم فنانس لمیٹڈ اور ریلائنس کمرشل فنانس لمیٹڈ۔ یہ معاملے ای ڈی کی جانب سےجاری تحقیقات سے متعلق ہیں، جن میں مبینہ طور پر لون فراڈ کے الزام شامل ہیں۔
اپنی عرضی میں امبانی نے کہا کہ ان تینوں کمپنیوں سے متعلق ای ڈی کی کارروائی پر ری-پبلک ٹی وی کی مسلسل کوریج نے ان کی ساکھ کو’ناقابل تلافی نقصان ‘پہنچایا ہے۔
صنعتکار نے دعویٰ کیا کہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات گمراہ کن ہیں، کیونکہ انہوں نے نومبر 2019 میں آرکام کے نان ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور اس کے بعد ان کمپنیوں میں کوئی انتظامی یا ایگزیکٹو کردار ادا نہیں کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ گوسوامی اس بات سے واقف تھے، اس کے باوجود انہوں نے انہیں ان معاملات سے جوڑنا جاری رکھا اور انہیں’مالی گھوٹالے کا ماسٹر مائنڈ، دھوکے باز، منی لانڈرر اور فراڈی‘قرار دیا۔
عرضی میں کہا گیا ہے،’ان الزامات نے جرم کا جھوٹا تاثر پیدا کیا ہے اور درخواست گزار کو عوامی نفرت، تمسخر اور حقارت کا نشانہ بنا دیا ہے۔‘
عرضی میں یہ بھی کہا گیا کہ اس سے امبانی کی ساکھ اور پیشہ ورانہ وقار کو’ناقابل تلافی نقصان‘پہنچا ہے۔ اس میں ری-پبلک ٹی وی کی مالک کمپنی اے آر جی آؤٹ لائر، گوسوامی اور دیگر متعلقہ اداروں کے خلاف عبوری حکم امتناعی کی مانگ کی گئی ہے۔
وہیں،بدھ کو سماعت کے دوران گوسوامی کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل مہیش جیٹھ ملانی نے دلیل دی کہ ان کے مؤکل نے اپنے شو میں’سچا اور منصفانہ تبصرہ‘کیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کئی عدالتی افسران نے بھی اپنے احکامات میں اسی طرح کی زبان استعمال کی ہے اور کہا ہے کہ امبانی’مالی امور کے ماہر نہیں بلکہ مالی گھوٹالے باز‘ہیں۔
تاہم، امبانی کی نمائندگی کرنے والے وکیل میور کھانڈےپارکر نے دعویٰ کیا کہ نیوز چینل نے فروری کے آخری ہفتے میں ان کے مؤکل کے خلاف’ہدفی مہم‘چلائی تھی۔ انہوں نے مثالیں دیں جہاں امبانی کی تصویر کو چینل پر’مالی گھوٹالہ باز اور جعلساز‘جیسے الفاظ کے ساتھ دکھایا گیا تھا۔
’توہین آمیز تبصرہ کرنامناسب نہیں‘
ہائی کورٹ نے امبانی کے خلاف ری-پبلک ٹی وی کی جانب سے کیے گئے تبصروں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مختلف تشریحات ہو سکتی ہیں۔ عدالت نے کہا،’آپ خبریں دینے کا اپنا فرض ادا کر رہے ہیں، جو ٹھیک ہے، لیکن’توہین آمیز تبصرہ‘مناسب نہیں ہے۔‘
گوسوامی کے شو میں کیے گئے تبصروں کو’نامناسب‘قرار دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ چینل کو کچھ الفاظ کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے اور ’اعتدال‘کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
جسٹس جادھو نے کہا،’میں کسی بھی میڈیا چینل پر پابندی نہیں لگا رہا ہوں۔ عوام کو جاننے کا حق ہے اور آج کے دور میں یہ سب سے شفاف ذرائع میں سے ایک ہے۔ میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ اپنی خبریں نشر کریں اور اس طرح کے تبصروں سے گریز کریں۔ آپ کی خبریں ہی وہ ہیں جو پورا ملک جاننا چاہتا ہے، لیکن غیر مہذب زبان استعمال نہ کریں۔‘
عدالت نے دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے ارنب گوسوامی کے خلاف جاری حکم کا حوالہ دیتے ہوئے وکیل جیٹھ ملانی سے کہا،’ہائی کورٹ میں جسٹس منموہن کو آپ کے کلائنٹ (ارنب) کے خلاف حکم جاری کرنا پڑا تھا۔ اگر میری عدالت میں آپ کے کلائنٹ میری بات نہیں سنتے اور اس بارے میں شکایت سامنے آتی ہے تو میں عبوری حکم جاری کر دوں گا۔ میں نہیں چاہتا کہ میری عدالت میں دہلی والے واقعہ (ششی تھرور کیس) کا اعادہ ہو۔ آپ اپنی خبریں چلاتے رہیں-بس ’حد پار نہ کریں۔‘
معلوم ہو کہ سنندا پشکر کی موت کے معاملے میں مبینہ توہین آمیز نشریات پر پابندی لگانے کی ششی تھرور کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ نے ارنب گوسوامی سے کہا کہ کسی فوجداری مقدمے میں تحقیقات کے دوران میڈیا کو متوازی سماعت کرنے، کسی کو مجرم قرار دینے یا بے بنیاد دعوے کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
شنوائی کے دوران جہاں جیٹھ ملانی نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ ری-پبلک ٹی وی مستقبل میں ایسے الفاظ استعمال نہیں کرے گا، وہیں عدالت نے چینل کو امبانی کی عرضی پر باضابطہ جواب داخل کرنے کی ہدایت دی۔
آخر میں عدالت نے کہا، ’سب کے لیے یکساں مواقع ہونے چاہیے۔ نازیبا زبان استعمال نہ کریں۔ میرے احکامات کا انتظار کریں اور توہین آمیز الفاظ کے استعمال سےگریز کریں۔‘
عدالت نے معاملے کی سماعت 16 اپریل تک ملتوی کر دی۔






