
(علامتی تصویر: رائٹرز)
جنوبی ہندوستان کے شہر حیدرآباد کے پوش علاقے بنجارہ ہلز میں مریم کا بوتیک اپنی نوعیت کا منفرد کاروبار ہے۔ یہاں شلوار قمیض، لہنگے اور دیگر روایتی ملبوسات فروخت ہوتے ہیں، مگر اس دکان کی اصل پہچان پاکستانی ملبوسات ہیں۔
پاکستانی شوٹ، شرارے اور غرارے خاص طور پر ان خاندانوں میں بے حد مقبول ہیں،جہاں شادی کی تیاریاں کی جا رہی ہوں۔
مریم کہتی ہیں،’خواتین، خاص طور پر دلہنیں، پاکستانی شرارے اور غرارے کےلیے بڑی رقم ادا کرنے کو تیار ہوتی ہیں۔‘
وہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے اس کاروبار سے وابستہ ہیں۔ ان کے مطابق،اگر یہ ملبوسات براہ راست واہگہ-اٹاری بارڈر کے ذریعے آتے تو لاگت کہیں کم ہوتی، مگر اب یہ دبئی کے راستے درآمد کیے جاتے ہیں۔
’اگر براہ راست تجارت ممکن ہوتی تو قیمت بھی کم ہوتی اور فائدہ بھی گاہک تک منتقل کیا جاسکتا تھا‘، وہ کہتی ہیں۔
ٹی وی ڈراموں اور شوز نے پاکستانی فیشن کی مانگ میں اضافہ کیا ہے،لیکن واضح اور مستقل تجارتی پالیسی کے فقدان نے اس طلب کو ایک مہنگے اورپیچیدہ کاروبار میں بدل دیا ہے۔ اسی کہانی کا دوسرا رخ جودھ پور میں نظر آتا ہے، جہاں راجیو شرما برسوں سےہاتھ سے بنے فرنیچر اور ہینڈی کرافٹس امریکی منڈی کو برآمد کرتے رہے ہیں۔
مگر اب حالات بدل چکے ہیں۔وہ کہتے ہیں؛
’پہلے آرڈرز مہینوں پہلے بک ہو جاتے تھے۔ اب خریدار قیمتوں پر دوبارہ بات کرتے ہیں، آرڈر کم کرتے ہیں یا مؤخر کر دیتے ہیں۔ ٹیرف نے پوری منڈی کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔‘
دراصل،امریکہ کی نئی ٹیرف پالیسیوں نے جنوبی ایشیا کے برآمدکنندگان، خاص طور پرٹیکسٹائل اور ہینڈی کرافٹس کے شعبوں کوشدید طور پر متاثر کیا ہے۔ کم ہوتے آرڈرز،بڑھتی لاگت اور غیر یقینی طلب نے کاروبار کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
یہ صورتحال ایک بڑے تضاد کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ جب عالمی منڈیاں بےیقینی کا شکار ہوں تو قریبی علاقائی تجارت ایک سہارا بن سکتی ہے، مگرجنوبی ایشیا میں یہ امکان بھی مسلسل نظر انداز ہوتا رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، جنوبی ایشیا میں باہمی تجارت دنیا کے دیگر خطوں کےمقابلے انتہائی کم ہے۔ یورپی یونین اور آسیان نے جغرافیائی قربت کومعاشی طاقت میں تبدیل کیا، مگر یہاں ایسی کوئی صورتحال نظر نہیں آتی۔
ایک نامکمل موقع: واشنگٹن سے آنے والا اشارہ
پاکستان کے سابق سفارت کار جلیل عباس جیلانی بتاتےہیں کہ 2014 میں ہندوستان اور پاکستان ایک تجارتی معاہدے کے قریب پہنچ چکے تھے۔ انہوں نےایک خصوصی بات چیت میں بتایا کہ یہ تجارتی پہل اس وقت اچانک رک گئی، جب 2014 کے آغاز میں نریندر مودی کے ایک قریبی نمائندےنے ان کے دفتر کا دورہ کیا۔ تب ہندوستان میں انتخابات ہونے والے تھے اور مودی اپوزیشن یعنی این ڈی اے کے وزرت اعظمیٰ کے امیدوار تھے۔
جیلانی عباس جیلانی کے بقول؛اس شخص کا پیغام انتہائی واضح تھاکہ’تجارتی معاہدے پر دستخط کو فی الحال مؤخر کر دیا جائے۔ ‘
جیلانی کے مطابق، اس نمائندے نے دلیل دی کہ اگر اس وقت پاکستان نے معاہدے پر دستخط کیے تو اسے ہندوستان کے انتخابات میں پاکستان کی جانب سے کانگریس پارٹی کو فائدہ پہنچانے کی کوشش سمجھا جائے گا۔ مودی کی مہم میں یہ تاثر دیا جا سکتا تھا کہ پاکستان، کانگریس کو مضبوط کر رہا ہے۔ اس وقت چونکہ ڈاکٹرمنموہن سنگھ کی حکومت اپنی مدت پوری کر رہی تھی، اس لیے مودی کے کیمپ کی جانب سے یہ تجویز دی گئی کہ سیاسی طور پر دانشمندی یہی ہوگی کہ نئی دہلی میں آنے والی نئی حکومت (جو ممکنہ طور پر بی جے پی کی ہوگی) کو یہ معاہدہ باضابطہ طور پر طے کرنے دیا جائے، تاکہ اس کا سہرا اس کے سر بندھ سکے اوریہ ان کی حکومت کےلیے بھی ایک مثبت آغاز ہوگا۔
جیلانی نے یہ پیغام اسلام آباد پہنچایا۔ پاکستانی حکام نے نئی دہلی میں اپنے ہائی کمشنر کے ذریعے اس نمائندے کے حوالے سےتصدیق کی اور پھر اس امید پر معاہدے کو ٹال دیا کہ مودی اقتدار میں آکر پاکستان کے ساتھ تعلقات کا ایک مثبت اور تعمیری دور شروع کریں گے۔ مگر مودی مئی 2014 میں اقتدار میں تو آگئے، تاہم، وہ تجارتی بحالی جس کا خواب دکھایا گیا تھا،کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔
سافٹا: کاغذی وعدہ، عملی جمود
جنوبی ایشیائی آزاد تجارتی معاہدہ (سافٹا) اسی امید کے ساتھ متعارف کرایا گیا تھا کہ خطے میں تجارتی رکاوٹیں کم ہوں گی اور اقتصادی انضمام بڑھے گا۔ مگر دو دہائیاں گزرنے کے باوجود یہ معاہدہ اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق فعال نہیں ہو سکا۔
ہندوستانی انسٹی ٹیوٹ آف فارن ٹریڈ کی محقق دھرتی مکھرجی پپیل کے مطابق؛
’جنوبی ایشیا عالمی تجارت میں سب سے بڑا تضاد ہے، جہاں جغرافیائی قربت کو تجارتی انضمام میں تبدیل نہیں کیا جا سکا۔‘
سال2006میں سارک کے تحت شروع ہونے والا یہ ماڈل یورپی یونین اور آسیان سے متاثر تھا۔ اس کا مقصد محصولات کو کم کر کے 0 سے 5 فیصد تک لانا تھا، مگرعملی طور پر یہ اہداف حاصل نہیں کیے جا سکے۔ نتیجتاً ریجنل ویلیو چینزبھی تشکیل نہیں پا سکیں۔
رکاوٹیں: سرحدیں یا ذہنیت؟
جنوبی ایشیا میں تجارت کی سب سے بڑی رکاوٹ صرف سرحدیں نہیں بلکہ پالیسیوں میں بے یقینی اور سیاسی عدم اعتماد ہیں۔ خوراک کی سلامتی، اسٹریٹجک خدشات اور داخلی سیاست ، ایسے عوامل اکثر تجارت پر غالب آ جاتے ہیں۔
ورلڈ بینک کے مطابق، خطے کی تجارت میں سرحدوں پر کارروائی کی تکمیل کے لیے وقت کا دورانیہ مشرقی ایشیا کے مقابلے میں دو سے تین گنا زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ پیچیدہ ضوابط اور منظوری کے طویل مراحل بھی اخراجات اور خطرات میں اضافہ کرتے ہیں۔
فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس کے ڈائریکٹر جنرل جیوتی وِج کہتے ہیں کہ’ ضوابط کی پیچیدگی اور پالیسیوں کی غیر یقینی فضا مل کر کاروبار کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔‘
ہندوستان-پاکستان کشیدگی کے اقتصادی اثرات
پلوامہ حملے اور آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارت تقریباً معطل ہو گئی۔ ہندوستان نے پاکستانی درآمدات پر 200 فیصد ڈیوٹی عائد کی، جبکہ پاکستان نے تجارت روک دی۔ اس کے نتیجے میں جو سامان پہلے چند گھنٹوں میں سرحد پار پہنچتا تھا، اب اسے دبئی یا کولمبو کے ذریعے طویل اور مہنگے راستوں سے گزارنا پڑتا ہے۔ 2018 میں دو طرفہ تجارت 2.41 ارب ڈالر تھی، جو اب نمایاں طور پر کم ہو چکی ہے۔
سینئر صحافی رنجیت کمار کے مطابق؛
’اگر ہندوستان واقعی ایک عالمی اقتصادی طاقت بننا چاہتا ہے تو اسے اپنے پڑوسیوں کو سکیورٹی کے بجائے معاشی شراکت داری کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ ‘
مغرب یا پڑوس؟
جنوبی ایشیائی ممالک کے لیے مغربی منڈیوں تک رسائی مہنگی ضرور ہے، مگروہاں کی پالیسیوں کا استحکام انہیں زیادہ قابلِ اعتماد بناتا ہے۔ اس کے برعکس، علاقائی تجارت کسی بھی وقت سیاسی کشیدگی کی نذر ہو سکتی ہے۔
بحریہ یونیورسٹی کراچی کی پروفیسر سدرہ احمد کہتی ہیں،’علاقائی سیاسی استحکام براہ راست معاشی مفادات سے جڑا ہواہے۔ اگر خطے کے ممالک اسے نظر انداز کریں گے تو عدم استحکام بڑھتا جائے گا۔‘
کیا سبق سیکھا جا سکتا ہے؟
یورپی یونین اور آسیان نے دکھایا ہے کہ تاریخی دشمنی کے باوجود معاشی انحصار کے ذریعے تعاون ممکن ہے۔ جنوبی ایشیا کا مسئلہ وسائل یا منڈیوں کی کمی نہیں، بلکہ اعتماد اور پالیسی تسلسل کا فقدان ہے۔
آگے کا راستہ
اگر جنوبی ایشیا کے ممالک تجارت کو سیاسی اتار چڑھاؤ سے الگ نہیں کرتےاور واضح، مستقل اور پیش گوئی کے قابل قواعد وضع نہیں کرتے، تو خطہ عالمی معیشت میں پیچھے رہ جائے گا۔ ٹیرف کی جنگوں اور بدلتی عالمی تجارت کے اس دور میں، ایک مربوط علاقائی بلاک بننا ناگزیر ہو چکا ہے۔ بصورت دیگر، یہ ممالک عالمی طاقتوں کےفیصلوں کے سامنے کمزور رہیں گے اور داخلی طور پر منقسم ہو کر اپنی ترقی کی رفتار کھو دیں گے۔
فیصلہ اب بھی قیادت کے ہاتھ میں ہے؛ کیا وہ جغرافیہ کو معاشی طاقت میں بدلیں گے، یا اسے ایک مستقل محرومی کا شکار ہونے دیں گے؟
(روہنی سنگھ دہلی میں مقیم آزاد صحافی ہیں ، ان کایہ بلاگ ڈی ڈبلیو اُرود پر شائع ہوا ہے۔)






