امریکہ و اسرائیل نے جب ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی، اپس وقت عرب میں موجود سبھی امریکی فوجی ٹھکانوں (ملٹری بیس) پر 40 ہزار سے زیادہ امریکی جوان تھے، لیکن اب ان میں سے بیشتر جوانوں کو ان ملٹری بیسوں سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ایران کے ڈرون اور بیلسٹک ایکشن میں امریکہ کو صرف اتنا ہی نقصان نہیں ہوا، بلکہ ان کے کئی خطرناک اسلحے تباہ ہو چکے ہیں۔
اس جنگ میں اب تک امریکہ کے 12 ایم کیو-9 ریپر ڈرون، 7 کے سی-135 ٹینکر ایئرکرافٹ، 3 ایف-15 ایگل، ایک ایف-35 جنگی طیارہ، ایک ایف-18 جنگی طیارہ اور ایک بلیک ہاک ہیلی کاپٹر بھی برباد ہو چکا ہے۔ ایران جنگ میں امریکہ کے جو اسلحے برباد ہوئے ہیں، ان کی قیمت تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ ٹرمپ نے ایران اور اس کی فوج کو ہلکے میں لینے کی غلطی کی تھی، اب یہی غلطی امریکہ کے گلے کی پھانس بن گئی ہے۔ اگر ٹرمپ آئندہ کچھ دنوں میں یکطرفہ جنگ بندی نہیں کرتے ہیں تو ایران سپرپاور کی ساکھ کو پوری طرح سے ختم کر سکتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا ہے کہ امریکہ میں فوجیوں کو ہوٹل نہیں دیا جا رہا ہے۔ انھوں نے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’میں خلیجی ممالک کے ہوٹل مالکان سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ امریکی فوجیوں کو کمرے نہ دیں۔ یہ غلط ہے، اور ایسا کرنے پر آپ خود ذمہ دار ہوں گے۔‘‘ دراصل یہ خبر آئی تھی کہ امریکی فوجی اپنی جگہ کو چھوڑ کر ہوٹلوں میں چھپ رہے ہیں۔ ایسا اس لیے کیونکہ ایران مستقل مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی ٹھکانوں پر حملہ کر رہا ہے۔ امریکہ نہیں چاہ رہا کہ ان حملوں میں اس کے فوجی مارے جائیں۔ ایران سے جنگ میں امریکہ کے اب تک 15 فوجیوں کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 200 سے زائد فوجی زخمی ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ جنگ کے درمیان ایران نے ان ممالک پر حملے کیے ہیں، جہاں امریکی فوجی ٹھکانے موجود ہیں۔ یو اے ای پر ایران نے سب سے زیادہ حملہ کیا ہے، اور اس کے بعد کویت، سعودی، قطر و بحرین کا نمبر آتا ہے۔ ایران نے یو اے ای پر کم از کم 2000 میزائلیں اور ڈرون داغے ہیں۔ کویت پر تقریباً 1200 اور قطر پر ڈرون و میزائلوں کے ذریعہ تقریباً 400 حملے کیے گئے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔





































