
جے رام رمیش نے قدرتی گیس کے معاملے کو بھی اٹھایا اور کہا کہ اس کی صورتحال مزید غیر واضح رہی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2005 میں گجرات کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے کرشنا-گوداوری بیسن میں بڑے گیس ذخیرے کی دریافت کا اعلان کیا گیا تھا، جس سے ملک کو توانائی کے میدان میں خود کفیل بنانے کی امید ظاہر کی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ بعد میں 2011 سے 2016 کے درمیان کنٹرولر اور آڈیٹر جنرل کی مختلف رپورٹوں میں اس منصوبے میں مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی، جن کی مالیت تقریباً 20 ہزار کروڑ روپے بتائی گئی۔ ان کے مطابق 2017 میں متعلقہ ریاستی کمپنی کا سرکاری تیل کمپنی میں انضمام کر کے اس معاملے کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔






