الیکشن کمیشن ہی بی جے پی ہے، اور بی جے پی ہی الیکشن کمیشن ہے: کانگریس

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 24, 2026360 Views


سپریا شرینیت نے پوچھا ہے کہ ’’اگر ذمہ دار شخص کے ذریعہ غلطی تسلیم کر لی گئی تھی تو پھر سب کو نوٹس جاری کرنے کا کیا مطلب ہے؟ یہ نوٹس بی جے پی اور ایل ڈی ایف کے درمیان گٹھ جوڑ کا واضح ثبوت ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>کانگریس ترجمان سپریا شرینیت، ویڈیو گریب</p></div><div class="paragraphs"><p>کانگریس ترجمان سپریا شرینیت، ویڈیو گریب</p></div>

i

user

الیکشن کمیشن کی طرف سے گزشتہ دنوں جاری ایک خط پر کیرالہ بی جے پی کی مہر کا معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ ایک طرف جہاں اس تعلق سے ذمہ دار شخص کے خلاف کارروائی ہوئی ہے، وہیں دوسری طرف اپوزیشن پارٹیاں الیکشن کمیشن کی وضاحت سے غیر مطمئن دکھائی دے رہی ہیں۔ خاص طور سے کانگریس نے اس معاملہ کو آج سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کئی شکل میں سامنے رکھا۔ خاص طور سے کانگریس ترجمان سپریا شرینیت نے ایک ویڈیو پیغام میں اس بات پر زور دیا کہ ’الیکشن کمیشن ہی بی جے پی ہے، اور بی جے پی ہی الیکشن کمیشن ہے۔‘

کانگریس نے سپریا شرینیت کے اس ویڈیو پیغام کو اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر جاری کیا ہے۔ اس میں سپریا کہتی نظر آ رہی ہیں کہ ’’الیکشن کمیشن ہی بی جے پی ہے، اور بی جے پی ہی الیکشن کمیشن ہے۔ اب اس تعلق سے کسی بھی طرح کا کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ وہ آگے کہتی ہیں کہ ’’الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک خط جاری کیا گیا، جس پر بی جے پی کی مہر لگی ہوئی تھی۔ کافی ہنگامہ کے بعد الیکشن کمیشن نے غلطی تسلیم کی اور متعلقہ افسر کو معطل کر دیا۔ لیکن اس کے بعد اسی الیکشن کمیشن نے ان لوگوں کو، جنہوں نے اس خط کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا تھا، کیرالہ پولیس کے ذریعہ نوٹس بھیجے۔‘‘

اس کارروائی پر سپریا شرینیت نے سوال اٹھایا ہے۔ انھوں نے پوچھا ہے کہ ’’اگر ذمہ دار شخص کے ذریعہ غلطی تسلیم کر لی گئی تھی تو پھر سب کو نوٹس جاری کرنے کا کیا مطلب ہے؟‘‘ اس معاملہ پر ان کا کہنا ہے کہ ’’یہ نوٹس جاری کیا جانا کیرالہ میں بی جے پی اور ایل ڈی ایف کے درمیان گٹھ جوڑ کا واضح ثبوت ہے۔‘‘ وہ مزید کئی سوالات بھی اٹھاتی ہیں، مثلاً

  • الیکشن کمیشن کے دفتر کے اندر بی جے پی کی مہر کیا کر رہی تھی؟

  • کیا اب الیکشن کمیشن بی جے پی کی طرف سے دستاویزات جاری کر رہا ہے؟

  • ایسی تمام نام نہاد ’غلطیاں‘ صرف بی جے پی کے حق میں ہی کیوں ہوتی ہیں؟

  • آج تک جب بھی ای وی ایم میں کسی چھیڑ چھاڑ یا خرابی کا پتہ چلا ہے، ووٹ ہمیشہ بی جے پی کے حق میں ہی کیوں جاتا ہے؟

  • ایسی ’غلطیاں‘ کبھی کانگریس یا دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے حق میں کیوں نہیں ہوتیں؟

مذکورہ بالا سوالات قائم کرنے کے بعد سپریا شرینیت نے کہا کہ ’’یہ صرف ایک مہر یا اسٹامپ کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ اس اعتماد کا سوال ہے جس پر ہماری انتخابی جمہوریت قائم ہے۔ لیکن غلطیوں کی اصلاح کے بجائے، مسائل اٹھانے والوں کو ہی ہراساں کیا جا رہا ہے۔‘‘ اس معاملہ میں کانگریس ترجمان نے ایک طرح سے الیکشن کمیشن کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے اور یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ بی جے پی اس کا استعمال اپنے فائدے کے لیے کر رہا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Previous Post

Next Post

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...