
ای ڈی کے اعداد و شمار خود اس خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی میں اس کی سزا دلوانے کی شرح ایک فیصد رہی ہے، جبکہ 2019 کے بعد پی ایم ایل اے کے تحت یہ شرح تقریباً چھ فیصد کے آس پاس رہی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محض گرفتاری کو کسی کے جرم کا ثبوت نہیں مانا جا سکتا۔
تاہم، اس کے جواب میں ایک دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ ملک کی نچلی عدالتوں میں سزا کی شرح بہت کم ہے۔ این سی آر بی کے مطابق، پونے کی نچلی عدالتوں میں 2023 میں سزا کی شرح صرف 8.8 فیصد رہی، جبکہ 91 فیصد ملزمین بری ہو گئے۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو زیرِ سماعت مقدمات کی بنیاد پر عوامی عہدوں سے نااہلی کا قانون بے معنی ہو جائے گا۔
یہ تضاد ایک بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے کہ ہندوستانی عدالتی نظام میں زیرِ سماعت مقدمہ دراصل کس چیز کی علامت ہے؟ کیا یہ واقعی جرم کی نشاندہی کرتا ہے، یا یہ تفتیش اور استغاثہ کے کمزور نظام کی عکاسی ہے؟






