
متاثرہ کسانوں کے اہل خانہ کی جانب سے پیش ہوئے وکیل پرشانت بھوشن نے عدالت سے کہا کہ مقدمے کی سماعت جس انداز میں چل رہی ہے، اس میں سپریم کورٹ کی مداخلت ضروری ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ سال اکتوبر میں گواہوں کو دھمکانے کے الزام میں ایک الگ مقدمہ درج کیا گیا تھا اور اس کی جانچ اب بھی جاری ہے۔
سپریم کورٹ نے تفتیشی افسر کو حکم دیا کہ زیر التوا جانچ چار ہفتوں کے اندر مکمل کر کے متعلقہ عدالت میں رپورٹ داخل کی جائے۔ مقدمے کی اگلی سماعت جولائی میں ہوگی۔
واضح رہے کہ تین اکتوبر 2021 کو لکھیم پور کھیری کے تکونیا علاقے میں کسانوں کے احتجاج کے دوران چار کسانوں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ الزام ہے کہ ایک اسپورٹس یوٹیلٹی وہیکل نے کسانوں کو کچل دیا تھا، جس کے بعد مشتعل ہجوم نے گاڑی کے ڈرائیور اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے دو کارکنوں کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس تشدد میں ایک صحافی کی بھی جان گئی تھی۔






