
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز تمام ممالک کے لیے کھلی ہے، سوائے ان کے جو ایران کی خودمختاری اور سرزمین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی جارحانہ اقدام کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
ادھر ایرانی حکام نے خطے کے عوام کو بھی خبردار کیا ہے۔ ایک سینئر عہدیدار اسماعیل ثاقب اصفہانی نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ ممکنہ ہنگامی حالات کے پیش نظر پانی ذخیرہ کر لیں اور اپنے فون چارج رکھیں۔ ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف نے بھی خبردار کیا کہ اگر ایرانی توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو پورے خطے میں بڑے پیمانے پر بجلی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔





