دہلی کے اتم نگر میں ہوئے ترون قتل معاملہ میں لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے بی جے پی پر سنگین الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتم نگر کے لوگوں نے تشدد کی بھاری قیمت چکائی ہے۔ ایک طرف جوان لڑکے ترون کی جان چلی گئی، دوسری طرف ایک پورا خاندان ظلم و ستم کا سامنا کر رہا ہے۔ انہیں مزید خون خرابہ نہیں چاہیے۔ خون خرابہ صرف بی جے پی اور اس کا ایکو سسٹم چاہتا ہے، جو نفرت کے توے پر تشدد کی روٹی سینکنے کے ہر موقع کا فائدہ اٹھاتا ہے۔
کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر مزید لکھا کہ ’’وہ چاہتے ہیں کہ ملک ہندو-مسلمان میں الجھا رہے، تاکہ لوگ یہ نہ پوچھ سکیں کہ آخر وزیر اعظم ملک کا دفاع، توانائی کی حفاظت اور اسٹریٹجک خودمختاری کو امریکہ کے حوالے کرنے پر کیوں مجبور ہیں۔ اسی لیے دن دہاڑے ملک کی راجدھانی میں پھر سے فسادات جیسے حالات پیدا کیے جا رہے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے دہلی والوں سے اپیل کرتے ہوئے لکھا کہ ’’دہلی والوں سے گزارش ہے کہ کسی کے بہکاوے میں نہ آئیں، ملک کی طاقت ہماری وحدت، بھائی چارے اور محبت میں ہے۔ جوڑو جوڑو، بھارت جوڑو۔‘‘
واضح رہے کہ اسی معاملے میں گزشتہ روز کانگریس رکن پارلیمنٹ محمد جاوید اور اپوزیشن پارٹیوں کے کچھ دیگر اراکین پارلیمنٹ نے وزیر داخلہ امت شاہ کو ایک خط لکھا تھا۔ اس میں مذکور تھا کہ مسلم طبقہ کو دی جا رہی دھمکیوں کے پیش نظر فیصلہ کن کارروائی کی ضرورت ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ نے خط میں یہ بھی لکھا کہ ’’میں اتم نگر میں پریشان کرنے والے واقعات کے بارے میں گہری تشویش اور فوری ضرورت کے احساس کے ساتھ لکھ رہا ہوں، جہاں مسلم طبقہ کے لوگوں کو کھلی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔‘‘
رکن پارلیمنٹ محمد جاوید کے مطابق لوگوں کو ملنے والی دھمکیوں، اشتعال انگیز نعروں اور نفرت انگیز مواد نے ایسا ماحول بنا دیا ہے جہاں شہریوں کا ایک طبقہ راجدھانی میں خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہا ہے۔ پولیس کا انتخابی اور ناکافی ردعمل بھی اتنا ہی پریشان کرنے والا ہے۔ جب دھمکیاں اس قدر کھلے عام دی جا رہی ہواں اور کارروائی نہ ہو رہی ہو تو قانون کی حکمرانی پر عوام کا اعتماد کم ہو جاتا ہے۔
کانگریس لیڈر نے خط میں مزید لکھا کہ صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔ لا اینڈ آرڈر برقرار رکھنے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی کے لیے جوابدہی طے کریں۔ پولیس کو نفرت پھیلانے، دھمکیاں دینے یا صورتحال کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سختی سے کارروائی کرنے کی ہدایت دی جائے۔ اعتماد کی بحالی کے لیے سیکورٹی کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ پولیس کی کارروائی کا بھی جائزہ لیا جائے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔






























