اتم نگر میں نفرت کا ریلا اور سرکاری خاموشی

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 18, 2026359 Views


اتم نگر میں جو کچھ ہو رہا ہے – ہونے دیا جا رہا ہے یا کیا جا رہا ہے – وہ صرف غلط نہیں، جرم ہے۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانا جرم ہے اور اس نفرت کو پھیلانے کی اجازت دینا اس جرم میں شریک ہونا ہے۔ معاشرے کے ہر طبقے کو تحفظ فراہم کرنا اور انہیں اس کا احساس دلانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ پھر وہ وہ کیوں مسلمانوں کی حفاظت کے لیے خود کو جوابدہ نہیں مانتی؟

گزشتہ15مارچ کو اتم نگر میں دائیں بازو کی تنظیموں نے ایک مظاہرہ کیا تھا۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

اتم نگر میں امن ہے، اتم نگر میں بد امنی کا اندیشہ ہے۔ مقامی انتظامیہ قابل تعریف کام کر رہی ہے۔وہ اس بھیڑ کو کھلی تشدد کی اجازت نہیں دے رہی جو مسلمانوں کو کاٹ ڈالنا چاہتی ہے۔ لیکن وہ اسی بھیڑ کو جلوس نکالنے اور مسلمانوں کے خلاف پرتشددنعرے لگانے سے روک نہیں رہی۔ یہ تشدد ہے یا نہیں، اس پر فلسفیانہ اور نفسیاتی بحث کی جا سکتی ہے۔ یعنی جب آپ بار بار ایسے نعرے سنیں جس میں آپ کی قبروں تک کو مٹا دینے کی دھمکی ہو، تو اس کا آپ پر کیا اثر ہوگا؟

اگر آپ انتظامیہ سے کہیں کہ وہ ایسی بھیڑ کو جمع ہونے کیوں دے رہی ہے، تو شاید ان کاجواب ہوگاکہ وہ چاہتی ہے کہ ان کے دل کا غبار نکل جائے۔ وہ مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے جیسے نعروں کو صرف نعرے بازی تک محدود رکھنا چاہتی ہے۔ اگر مسلمان کہیں کہ ایسی بھیڑ اور ایسے نعروں سے انہیں خوف محسوس ہوتا ہے، تو انہیں یہ کہہ کر برداشت کرنے کا مشورہ دیا جا سکتا ہے کہ یہ ایک ہندو کے قتل پر ہندوؤں کا فطری ردعمل ہے۔ آخر ایک ہندو مارا گیا ہے-کیا باقی ہندوؤں کا خون نہیں کھولے گا؟ مسلمانوں کوخیرمنانی چاہیے کہ بات صرف دھمکی آمیز نعروں تک محدود ہے۔ پولیس نے اب تک ہجوم کی یہ بات نہیں مانی کہ وہ پندرہ منٹ کے لیے ہٹ جائے۔

یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جو لوگ تشدد کرنا چاہتے ہیں وہ پولیس کے ہٹنے کا مطالبہ کیوں کر رہے ہیں؟ ترون کھٹک کے قتل کے ملزمان کے گھر کو پولیس کی نگرانی میں جلایا گیا اور وہاں لوٹ مار بھی ہوئی۔ پولیس نےپوری طرح سے پرتشدد ہجوم کا ساتھ دیا۔ یہ ہندوستان میں پولیس کے عمومی ریکارڈ کے مطابق ہی ہے۔

سال1984میں نہ صرف دہلی بلکہ ہندوستان کے دیگر حصوں میں بھی اندرا گاندھی کے قتل سے مشتعل ہجوم کو پولیس نے اجازت دی کہ وہ سکھوں کو جتنا چاہیں لوٹیں اور ماریں۔ ہاشم پورہ میں تو پولیس اور فوج کے جوانوں نے نہ صرف ہجوم کو اجازت دی بلکہ خود مسلمانوں کو مارا تھا۔ آزادی کے بعد سے مسلمانوں کو اس کاتجربہ  ہے کہ ان کے خلاف تشدد کے وقت پولیس کس طرح پرتشدد ہندو ہجوم کی مددگار بن جاتی ہے۔

یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ 2020 میں دہلی میں پرتشدد ہندو ہجوم نعرے لگا رہا تھا،’دلی پولیس لٹھ چلاؤ، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ‘عام طور پر پولیس سے ڈرنے والی عوام کو کب وہ اپنی لگنے لگتی ہے؟ مسلمانوں کے خلاف تشدد کے وقت ہندوؤں اور پولیس کی یہ یکجہتی ہندوستان کی ایک سچائی ہے۔

اس کے باوجود یہ بھی سچ ہے کہ اتم نگر میں کسی مسلمان کو قتل نہیں ہونے دیا گیا۔ صرف ان کے قتل کی دھمکی دینے والے نعروں کی اجازت ہے۔ اتنا بھی، ایک مقامی مسلمان کے مطابق، قابل تعریف ہے۔ آخر پولیس کسی کی اظہار رائے کی آزادی کیسے چھین سکتی ہے؟

جنتَر منتَر پر مسلمانوں کے قتل عام کے نعروں کی اجازت بھی اظہار رائے کی آزادی کے تحفظ کے نام پر دی گئی تھی۔ ہندوستان میں یہ اظہار رائے کی آزادی صرف ہندوؤں کو حاصل ہے۔ اگر مسلمان ایران پر حملے کے خلاف جلوس نکالنا چاہیں تو پولیس افسر انہیں ایران جانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ وہ عید کے دن اجتماعی نماز بھی ادا نہیں کر سکتے کیونکہ پولیس کے مطابق اس سے بدامنی پیدا ہوتی ہے۔ لیکن اگر ہندو مسلمان کے قتل عام کی دھمکی دیتے ہوئے جلسہ کریں یا جلوس نکالیں، تو اسے ان کے اظہار رائے کی آزادی  کے حق کا استعمال کہا جاتا ہے۔

جیسا کہا جاتا ہے، حالات کشیدہ مگر قابو میں ہے۔ صرف گھر اور مکان گرائے جا رہے ہیں، ضابطے کے مطابق۔زیادہ تر مسلمانوں کے۔ اگر آپ انتظامیہ کی بات مانیں تو یہ کارروائی سرکاری یا عوامی زمین پر تجاوزات کے خلاف مہم کے تحت کی جا رہی ہے۔ اس میں کچھ ہندوؤں کے چبوترے بھی ٹوٹے ہیں۔ گیہوں کے ساتھ گھن کو پسنا ہی پڑتا ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ یہ سب اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ ہندوؤں کے دلوں کو کچھ ٹھنڈک پہنچے، ان کے دل میں ترون کے قتل کے بدلے کی جو آگ جل رہی ہے اس پر کچھ پانی پڑے۔ یہ انتظامیہ کی مجبوری ہے۔


لیکن مسلمانوں کے خون کی پیاسی بھیڑ اس سے مطمئن نہیں ہے۔ وہ ریکھا گپتا سے کہہ رہی ہے کہ وہ پڑوسی ریاست اتر پردیش کے آدتیہ ناتھ کو دیکھیں، آسام کے ہمنتا بسوا شرما کو دیکھیں، اتراکھنڈ کے پشکر دھامی کو دیکھیں۔ مسلمانوں کے مکانات کو مکمل طور پر مسمار کرنا چاہیے، صرف کچھ حصے نہیں۔ یہی اب ہندوستان میں انتظامیہ کا نیا پروٹوکول ہے۔


میرے دو مسلمان دوستوں نے اتم نگر سے واپس آ کر بتایا کہ گڑبڑ بیرونی عناصر کر رہے ہیں۔ مقامی ہندوؤں کو معلوم ہے کہ معاملہ کیا ہے۔ ہندو کی دکان کے سامنے مسلمان خریداری کے لیے قطار میں کھڑے ہیں، کوئی دقت نہیں ہے۔


یہ اور بات ہے کہ چھوٹے موٹے کام کرنے والے مسلمان اپنے گاؤں واپس جا رہے ہیں۔عید وہیں منائیں گے۔ کیا وہ ہر سال عید پر گاؤں چلے جاتے ہیں؟ یا اس سال عید میں خون کی ہولی کے نعروں کو سننے کے بعد وہ خود کو محفوظ محسوس نہیں کر رہے تھے؟ انہیں کسی نے روکا نہیں، اور شاید کسی کو اس کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوئی۔ پولیس کہہ سکتی ہے کہ یہ اس کا کام نہیں ہے۔


ہندوستان کے باہر کے دوست یہ سب سن کر حیران رہ جاتے ہیں۔ ٹھیک ہے کہ دو خاندانوں کے درمیان جھگڑا ہوا، مارپیٹ ہوئی۔ایک مسلمان اور دوسرا ہندو۔ دونوں طرف کے لوگ زخمی ہوئے۔ ہندو خاندان کے ایک شخص کو ایسی جگہ چوٹ لگی کہ وہ مر گیا۔ اس کے بعد مسلمان خاندان کے تقریباً سبھی افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ اب اس کے بعد تو تفتیش ہوگی، مقدمہ چلے گا۔ مسلمان خاندان کا بھی موقف ہے، وہ بھی زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس کی تفتیش کے بعد عدالت ہر پہلو پر غور کرے گی اور فیصلہ ہوگا۔ یہی طریقہ ہے۔ دنیا بھر میں ایسا ہی ہوتا ہے۔

پھر مسلمان خاندان کا مکان کیوں توڑ دیا گیا؟ اس میں لوٹ مار اور آگ زنی کیوں ہونے دی گئی؟ کیا ان جرائم کے لیے کسی کی نشاندہی کی گئی؟ کیا ایف آئی آر کی گئی؟ کیا پولیس نے اس میں شامل لوگوں میں سے کسی کو گرفتار کیا؟ کیا خاموشی سے دیکھنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف فرض کی ادائیگی نہ کرنے پر کوئی کارروائی ہو رہی ہے؟

باہر کے یہ دوست یہ بھی پوچھتے ہیں کہ جب ملزمان کے خلاف ابتدائی کارروائی ہو چکی تو باہر سے بھیڑ کیوں آ رہی ہے اور وہ مسلمانوں کو کیوں دھمکا رہی ہے؟ عید پر ’خون کی ہولی‘کھیلنے کا اعلان کیوں کیا جا رہا ہے؟

ہم سب ان کی معصومیت پر ہنس سکتے ہیں۔وہ آج کے ہندوستان کو نہیں جانتے۔ لیکن وہ جو سوال پوچھ رہے ہیں، وہ ہم سب کو بھی پوچھنا چاہیے—ہندوستان میں۔

جہاں ہندو اور مسلمان ساتھ رہتے ہیں، وہاں دیگر جگہوں کی طرح کبھی کبھار دونوں ایک دوسرے کے خلاف تشدد بھی کرسکتے ہیں۔ جب کوئی مسلمان مارا جاتا ہے تو کیا آس پاس کے مسلمان مل کر ہندوؤں کے مکانات گرانے کا مطالبہ کرتے ہیں؟ کیا انتظامیہ ملزم ہندوؤں کے گھر اور دکانیں توڑ دیتی ہے؟ کیا مسلمان تنظیمیں ہندوؤں کے خلاف تشدد بھڑکاتی ہیں؟ کیا میڈیا ہندوؤں کے خلاف پروپیگنڈہ چلانے میں مصروف ہو جاتاہے؟

جواب ہمیں معلوم ہے۔


اسی لیےہمیں یہ  کہنا پڑے گا کہ اتم نگر میں جو ہو رہا ہے—ہونے دیا جا رہا ہے یا کیا جا رہا ہے،وہ صرف غلط نہیں بلکہ جرم ہے۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت کا پھیلاؤ جرم ہے، اور اس نفرت کی اجازت دینا بھی اس جرم میں شریک ہونا ہے۔

اس نفرت انگیز مہم پر حکومت کی خاموشی پر آج بھی  ہمیں سوال اٹھانا چاہیے۔ معاشرے کے ہر طبقے کو تحفظ دینا اور اس کا احساس دلانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ پھر وہ مسلمانوں کی حفاظت کے لیے خود کو جوابدہ کیوں نہیں سمجھتی؟ پولیس اور انتظامیہ اسے اپنا فرض کیوں نہیں مانتے؟


عوام سے ووٹ لینے کےلیے ان کے دروازے پر جانے والی سیاسی جماعتیں اس وقت کیوں اتم نگر سے دور ہیں؟ کیوں وہ وہاں کے ہندوؤں اور مسلمانوں سے بات چیت نہیں کرسکتے؟ عید اب چند دن دور ہے۔کیا یہ کسی بھی معاشرے کو زیب دیتا ہے کہ اس کے پڑوسی کے دل میں تہوار کی خوشی کے بجائے تشدد کا خوف ہو؟

اپوروانند دہلی یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...