اتر پردیش کے وارانسی میں گزشتہ پیر کو گنگا ندی میں ایک کشتی پر افطار پارٹی کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اب اس افطار پارٹی نے ایک نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ افطار پارٹی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ افطار کے دوران مبینہ طور پر چکن بریانی پیش کی گئی۔ الزام ہے کہ کھانے کے بعد بچا ہوا حصہ، جس میں ہڈیاں بھی شامل تھیں، گنگا ندی میں پھینک دیا گیا۔
ویڈیو سامنے آنے کے بعد معاملہ نے طول پکڑ لیا ہے۔ کچھ لوگوں نے اسے گنگا کی پاکیزگی کے خلاف قرار دیتے ہوئے ناراضگی ظاہر کی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ رمضان کے دوران اس طرح کی سرگرمی کو مذہبی حساسیت سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ نوجوان کشتی پر جمع ہو کر افطار کر رہے ہیں اور بچا ہوا کھانا ندی میں ڈال رہے ہیں۔
اس معاملہ میں ’بھارتیہ جنتا یووا مورچہ‘ (بی جے وائی ایم) کے سٹی پریسیڈنٹ رجت جیسوال نے کوتوالی تھانہ میں شکایت درج کرائی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ایک طبقہ کے کچھ نوجوانوں نے گنگا کے بیچ کشتی پر افطار کرتے ہوئے نہ صرف گوشت سے تیار کھانا کھایا بلکہ اس کا بچا ہوا حصہ ندی میں پھینک کر مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے۔ اس شکایت کی بنیاد پر پولیس نے وائرل ویڈیو کی جانچ شروع کر دی ہے۔
پولیس ذرائع سے سامنے آ رہی خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ جانچ کے دوران ویڈیو پہلی نظر میں درست پایا گیا ہے۔ اس کے بعد ویڈیو میں نظر آنے والے نوجوانوں کی شناخت کی گئی اور پولیس نے 14 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں کوتوالی کے اے سی پی دھرو پرتاپ سنگھ نے بتایا کہ تمام ملزمین کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ضرورت پڑنے پر ملزمین کو گرفتار کر کے جیل بھیجا جائے گا۔
اس واقعہ پر وارانسی میونسپل کارپوریشن نے بھی سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے پی آر او نے کہا کہ اس طرح کا عمل انتہائی قابل اعتراض ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گنگا کی صفائی اور پاکیزگی کو برقرار رکھنے کے لیے میونسپل کارپوریشن کے ضوابط واضح ہدایات دیتے ہیں۔ ان قواعد کے تحت گنگا گھاٹوں یا دریا کے بیچ کسی بھی سرگرمی کو مذہبی جذبات اور صفائی کے معیارات کا خیال رکھتے ہوئے ہی انجام دیا جا سکتا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے نگرانی اور سختی میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ گنگا کی پاکیزگی اور عوامی عقیدت کو کسی بھی طرح نقصان نہ پہنچے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

































