مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی کے دوران جنگ بندی کے مطالبے پراپنی پوزیشن واضح کرنے کے بعد ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اب پڑوسی ممالک کو نصیحت دی ہے۔ عراقچی نے کہا کہ ایران پر حملے کی اجازت دینے والے پڑوسی ممالک نسل کشی کو فروغ دے رہے ہیں۔ اس نسل کشی میں 200 سے زائد بچوں سمیت سینکڑوں شہری مارے جا چکے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ حملوں میں امریکہ کی مدد کرنے والے پڑوسی ممالک کو جلد از جلد اس معاملے پر اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کی بمباری میں 200 سے زائد بچوں سمیت سینکڑوں ایرانی شہری مارے گئے ہیں۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کچھ پڑوسی ممالک، جہاں امریکی افواج موجود ہیں اور جو ایران پر حملوں کی اجازت دیتے ہیں، وہ بھی اس نسل کشی کو فروغ دے رہے ہیں۔ ان ممالک کو جلد از جلد اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے۔
اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا جس میں کہا جارہا تھا کہ ایران امریکہ کے ساتھ ڈیل کرنا چاہتا ہے۔ ’ایکس‘ پر عراقچی نے ایسے دعوؤں کو گمراہ کن بتایا اور کہا کہ ایران کی مسلح افواج اس وقت تک لڑتی رہیں گی جب تک امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ یہ تسلیم نہیں کر لیتے کہ وہ امریکیوں اور ایرانیوں پر جوغیر قانونی جنگ مسلط کر رہے ہیں وہ غلط ہے اوراسے کبھی نہیں دہرایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم کہتے ہیں کہ ہم جنگ بندی نہیں چاہتے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس بار جنگ اس طرح ختم ہونا چاہئے کہ دشمن دوبارہ حملہ کرنے کے بارے میں نہ سوچے۔
’زنہوا‘ نیوز ایجنسی کے مطابق عراقچی نے ایران کے مخالفین پر اپنی پوری طاقت لگا کرملک کو’غیر مشروط خودسپردگی‘ کے لیے مجبور کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ تنازع شروع ہونے کے دو ہفتے سے زائد عرصے بعد ایران کے مخالفین اب ان ممالک سے مدد مانگ رہے ہیں جنہیں وہ کبھی دشمن سمجھتے تھے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی محفوظ آمدو ورفت کے لیے بین الاقوامی مدد کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران صرف دشمنوں اور تنازع میں شامل ان کے اتحادیوں کے لیے ہی آبنائے ہرمز تک رسائی بند کی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔



































