بہار کی پانچوں سیٹوں پر این ڈی اے امیدوار کو ملی کامیابی، آر جے ڈی کا سخت رد عمل آیا سامنے

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 16, 2026359 Views


آر جے ڈی لیڈر شکتی یادو نے کہا کہ ’’یہ سیاست کہاں جا رہی ہے؟ 202 میں بھی اطمینان نہیں ہے۔ اگر نتیش کمار کے پاس سمجھ ہوتی تو انتخاب کی نوبت ہی نہیں آتی، بلامقابلہ انتخاب ہو جاتا۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>راجیہ سبھا کی فائل تصویر، آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>راجیہ سبھا کی فائل تصویر، آئی اے این ایس</p></div>

i

user

بہار میں راجیہ سبھا کی پانچوں سیٹ این ڈی اے کے حصے میں چلی گئی ہے۔ 4 سیٹوں پر تو جیت پہلے سے ہی طے تھی، لیکن پانچویں سیٹ پر مہاگٹھ بندھن کے امیدوار امریندر دھاری سنگھ سے این ڈی اے امیدوار شیویش رام کا مقابلہ ہوا۔ این ڈی اے کے سبھی 202 اراکین اسمبلی نے ووٹ دیا، لیکن مہاگٹھ بندھن کی طرف سے 4 اراکین اسمبلی ووٹنگ کے پہنچے ہی نہیں۔ جب ووٹوں کی گنتی ہوئی تو این ڈے اے کے پانچویں امیدواروں کی جیت پر مہر لگ گئی۔ اس کامیابی کے بعد این ڈی اے کارکنان میں جشن کا ماحول دیکھنے کو مل رہا ہے۔ دوسری طرف مہاگٹھ بندھن کے کچھ لیڈران نے موجودہ حالات پر اپنی ناراضگی اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ این ڈی اے نے 202 اراکین اسمبلی کے دَم پر اپنے 5 امیدواروں نتیش کمار (جنتا دل یو)، رام ناتھ ٹھاکر (جنتا دل یو)، نتن نوین (بی جے پی)، شیویش کمار (بی جے پی) اور اوپیندر کشواہا (آر ایل ایم) کو انتخابی میدان میں اتارا تھا۔ ان میں 4 سیٹوں پر جیت پہلے سے طے تھی، لیکن پانچویں سیٹ پر مہاگٹھ بندھن کی طرف سے آر جے ڈی نے امریندر دھاری سنگھ کو انتخابی میدان میں اتارا تھا۔ اس وجہ سے پانچویں سیٹ پر این ڈی اے بنام مہاگٹھ بندھن مقابلہ ہو گیا۔ دونوں اتحاد نے اپنے اپنے اراکین اسمبلی کو متحد کرنا شروع کیا۔ پہلے تیجسوی نے اپنے اراکین اسمبلی کو ایک جگہ جمع کرنے کی کوششیں شروع کیں۔ تیجسوی نے اے آئی ایم آئی ایم ریاستی صدر اخترالایمان کی افطار پارٹی میں بھی شرکت کی۔ بی ایس پی کے واحد رکن اسمبلی ستیش یادو نے بھی مہاگٹھ بندھن کو حمایت دی۔

مہاگٹھ بندھن امیدوار کی جیت کو یقینی بنانے کے مقصد سے 15 مارچ کو تیجسوی یادو نے مہاگٹھ بندھن کے سبھی اراکین اسمبلی کو پٹنہ کے ایک ہوٹل میں ٹھہرنے کو کہا۔ 4 اراکین اسمبلی کو چھوڑ کر سبھی ہوٹل پہنچ گئے۔ 16 مارچ کو امید کی جا رہی تھی کہ ہوٹل نہیں پہنچنے والے 4 اراکین اسمبلی ووٹنگ کے لیے اسمبلی پہنچیں گے، لیکن چاروں میں سے کسی نے بھی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ مہاگٹھ بندھن کو پانچویں سیٹ پر جیت کے لیے 41 اراکین اسمبلی کی ضرورت تھی۔ اے آئی ایم آئی ایم اور بی ایس پی کے دَم پر مہاگٹھ بندھن نے جیت کا دعویٰ تو کر دیا، لیکن آخر میں اپنے ہی 4 اراکین امسبلی نے کھیل کر دیا۔ ان میں سے ایک آر جے ڈی اور 3 کانگریس کے اراکین اسمبلی تھے۔ ان کی غیر موجودگی کی وجہ سے مہاگٹھ بندھن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اس شکست کے بعد آر جے ڈی لیڈران کا سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ مہاگٹھ بندھن کی طرف سے آر جے ڈی رکن اسمبلی کمار سروجیت نے کہا کہ اب تو پورا ملک جان گیا ہے کہ کون دولت کا استعمال کرتا ہے۔ بی جے پی نے دولت کا استعمال کیا ہے، یہ دھوکہ ہے، یہ عوام کی بے عزتی ہے۔ مہاگٹھ بندھن کے 4 اراکین اسمبلی کے ووٹنگ میں حصہ نہیں لینے پر کمار سروجیت نے کہا کہ ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لینے والے اراکین اسمبلی نے عوام کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ ان کے اوپر زندگی بھر ’ایکس‘ (سابق) ایم ایل اے کا ٹیگ لگ جائے گا۔

آر جے ڈی لیڈر شکتی سنگھ یادو نے اس معاملہ میں اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے حق میں 41 کی تعداد تھی اور برسراقتدار طبقہ میں 3 کی تعداد کم تھی، پھر اقتدار اور دولت دونوں کا استعمال فطری ہے۔ صرف بہار نہیں، آپ اڈیشہ میں دیکھیے، وہاں بھی بی جے ڈی اراکین اسمبلی کو اپنی (بی جے پی) حمایت میں کر لیا گیا۔ سیاست میں ہارس ٹریڈنگ (خرید و فروخت) کا جو کھیل چل رہا ہے، وہ ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’یہ سیاست کہاں جا رہی ہے؟ 202 میں بھی اطمینان نہیں ہے۔ اگر نتیش کمار کے پاس سمجھ ہوتی تو انتخاب کی نوبت ہی نہیں آتی، اور بلامقابلہ انتخاب ہو جاتا۔ لیکن اب تو جن کے ہاتھ میں سب کچھ گیا ہے، اور آفیشیل طور پر کچھ دن تک، تو ایسا ہی ہوگا نہ!‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...