پی ایم مودی کی نقل اتارنے پر ٹیچر معطل، گیس کی قلت سے متعلق ویڈیو پر ہوئی کارروائی

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 16, 2026359 Views


گزشتہ جمعہ مدھیہ پردیش کے ضلع شیوپوری میں وزیر اعظم نریندر مودی کی نقل اتارتے ہوئے گیس سلنڈر کی مبینہ قلت پر طنز کرنے والے سرکاری پرائمری اسکول کے ایک ٹیچر کو معطل کر دیا گیا ہے۔ معطل ٹیچر نے اس کارروائی کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد صرف لوگوں کو ہنسانا تھا، کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں۔

معطل ٹیچر ساکیت پروہت۔ (تصویر: اسکرین گریب/ایکس)

نئی دہلی: مدھیہ پردیش کے ضلع شیوپوری میں وزیر اعظم نریندر مودی کی نقل اتارتے ہوئے گیس سلنڈر کی مبینہ قلت پر طنز کرنے والے سرکاری پرائمری اسکول کے ٹیچر ساکیت پروہت کو 13 مارچ (جمعہ) کو معطل کر دیا گیا ہے۔

انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق، یہ کارروائی ویڈیو کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پچھور کے ایم ایل اے پریتم سنگھ لودھی کی شکایت پر کی گئی۔

اس سلسلے میں معطل ٹیچر کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد صرف لوگوں کو ہنسانا تھا، کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں۔ انہوں نے اس پوری کارروائی کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے اخبار سے کہا ہےکہ انہیں کوئی نوٹس یا شنوائی پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا،’لوگوں کو اپنی آواز اٹھانے کا پورا حق ہے۔ اساتذہ کو بھی اظہار رائے کی آزادی حاصل ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں میں نے دیکھا ہے کہ طنز و مزاح پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔’

انہوں نے مزید کہا، ‘اگر لوگوں کو کھل کر بولنے میں ڈر لگتا ہے تو یہ ان کا مسئلہ ہے۔ مجھے لگا کہ مجھے اپنے دل کی بات کہنی چاہیے۔’

قابل ذکر ہے کہ ساکیت پروہت کا یہ ویڈیو مقامی آنند بھون میں منعقد ایک پروگرام کی تھی، جو محکمہ ہیپی نیس کے تحت آتا ہے۔

انہوں نے بتایا،’لوگ یہاں تفریح کے لیے آتے ہیں۔ کچھ گاتے ہیں، کچھ اداکاری کرتے ہیں۔ میں نے نقل (ممکری) اتاری۔’

قابل ذکر ہے کہ اس پیشکش میں پروہت نے ایل پی جی سلنڈروں کی بڑھتی قیمتوں پر طنز کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی کے بولنے کے انداز کی نقل کی تھی۔

اس بارے میں انہوں نے کہا، ‘گیس کی قلت ایک سچائی ہے جس پر طنز کیا گیا۔ میں یہ بات سامنے رکھ رہا تھا کہ قیمتیں بڑھنے سے لوگ دوبارہ روایتی چولہے پر کھانا پکانے کی طرف لوٹ سکتے ہیں۔’

ان کا کہنا ہے کہ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ ویڈیو اتنا وائرل ہو جائے گا۔ جب یہ وائرل ہوا تو انہوں نے اسے ڈیلیٹ کر دیا۔ انہوں نے کہا، ‘مجھے نہیں معلوم کہ ایک مذاق سے میں نے امن  و امان کو کیسے خراب کر دیا۔’

ایم ایل اے نے کی تھی شکایت

اس معاملے میں پچھور کے بی جے پی ایم ایل اے پریتم لودھی نے ضلع انتظامیہ کو تحریری شکایت دی تھی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ایک سرکاری ملازم کی طرف سے وزیر اعظم کا عوامی طور پر ‘مذاق اڑانا’ سروس کنڈکٹ رولز کی خلاف ورزی ہے۔

شکایت کے بعد ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے ابتدائی جانچ کی اور ضلع تعلیمی افسر وویک سریواستو نے مدھیہ پردیش سول سروس رولز کے تحت کارروائی کرتے ہوئے استاد ساکیت پروہت کو فوری اثر سے معطل کر دیا۔

معطلی کے دوران ان کا ہیڈکوارٹر وکاس کھنڈ ایجوکیشن آفیسر کے دفتر، بدرواس مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم ٹیچرکا کہنا ہے کہ آرڈر آنے سے پہلے انہیں کوئی وجہ بتاؤ نوٹس نہیں دیا گیا تھا۔

انہوں نے صحافیوں سے کہا، ‘میری بات سنے بغیر کارروائی کرنا مناسب نہیں ہے۔’ انہوں نے مزید کہا، ‘مجھے رات میں معطل کر دیا گیا اور کوئی وجہ بتاؤ نوٹس بھی نہیں بھیجا گیا۔’

قابل ذکر ہے کہ پروہت شیوپوری ضلع کے سرکاری پرائمری اسکول میں پہلی سے پانچویں جماعت تک پڑھاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بچپن سے ہی مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کر رہے تھے اور کئی امتحانات پاس کرنے کے بعد انہوں نے تعلیمی نظام میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔

اخبار کے مطابق، انہیں 2014 میں مقامی پرائمری اسکول میں تعینات کیا گیا تھا۔ 2017 تک وہ آنند بھون میں ‘ہیپی نیس کے ماسٹر ٹرینر’ بن چکے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی مہارت ‘مشکل وقت میں خوشی کیسے پھیلائی جائے’ میں تھی۔

پروہت اس سے پہلے بھی مقامی خون کے عطیہ کیمپوں میں اپنے تعاون اور کووڈ-19 وبا کے دوران کیے گئے کاموں کی وجہ سے سرخیوں میں رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کووڈ-19 وبا کے دوران جب آکسیجن سلنڈروں کی شدید کمی ہو گئی تھی تو انہوں نے ایک کمیونٹی چندہ مہم چلائی تھی اور تقریباً ساڑھے تین لاکھ روپے جمع کیے تھے۔ اس وقت اخبارات نے ان کے سماجی کاموں پر خبریں شائع کی تھیں؛ اب وہی ان پر امن و انان کو بگاڑنے کا الزام لگا رہے ہیں۔

غور طلب  ہے کہ سوشل میڈیا اور اظہار رائے کی بحث کے درمیان یہ معاملہ سرکاری ملازمین کے سوشل میڈیا پر حقوق کے بارے میں سوال اٹھا رہا ہے۔

اس سلسلے میں اپوزیشن جماعت کانگریس نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سچائی بی جے پی کوراس نہیں آتی۔

بتایا جا رہا ہے کہ کئی اساتذہ تنظیموں نے بھی اس یکطرفہ کارروائی کی مخالفت کی ہے۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...