
تصویر بہ شکریہ: راج کمل پرکاشن
راہی جی،
یہ خط کسی بحث کے لیے نہیں،
بس آپ کو یاد کرنے کے لیے ہے۔
جانتا ہوں،
جہاں آپ ہیں
وہاں تک
شبد (لفظ) بھی تھک کر لوٹ آتے ہوں گے۔
پھر بھی لکھ رہا ہوں،
کیونکہ کچھ یادیں
لکھے بغیر
سانس نہیں لے پاتیں۔
کبھی کبھی لگتا ہے
کہ آپ کی کتابوں کے گاؤں
اب بھی کہیں سانس لے رہے ہیں،
کسی پگڈنڈی کے کنارے،
کسی پرانے برگد کی چھاؤں میں،
جہاں لوگ
نام سے پہلے
چہرے پہچانتے تھے۔
آپ کے سمئے کا دکھ
شاید اتنا ہی گہرا تھا،
مگر اس میں
انسان ہونے کی
تھوڑی سی جگہ بچی رہتی تھی۔
اب دکھ
شور میں بدل گیا ہے،
اور ہمدردی
دھیرے دھیرے
حاشیے پر سرکتی جا رہی ہے۔
آپ نے جن گلیوں کو
کہانیوں میں بسایا تھا،
وہاں اب
نام بدل دیے گئے ہیں۔
پر چہرے وہی ہیں
ڈرے ہوئے،
چپ،
اور اپنے ہی سائے سے
جھجکتے ہوئے۔
راہی جی،
آپ کے شبد
کسی پتھر کی طرح بھاری نہیں تھے۔
وہ تو
مٹی جیسے تھے—
اسی مٹی کی طرح
جس میں گنگا کا پانی بھی تھا
اور گاؤں کی دھول بھی۔
انہیں ہتھیلی پر رکھو
تو اپناپن ملتا تھا،
اور پڑھو
تو لگتا تھا
کہ انسانیت ابھی پوری طرح مری نہیں ہے۔
آج شبد
چاقو ہو گئے ہیں،
اور جملے
گھاؤ بن کر اترتے ہیں۔
آپ کی یاد
ہمیں یہ سکھاتی ہے
کہ احتجاج
ہمیشہ نعرہ نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی
کسی انسان کو
دھیان سے دیکھ لینا،
اس کا نام پوچھ لینا،
یا اس کے ڈر کو
خاموشی سے سن لینا بھی
ایک بڑا حوصلہ ہوتا ہے۔
کاش آپ ہوتے،
تو شاید
اتنی ساری چیخوں کے بیچ
دھیرے سے کہتے—
کہ ملک
نفرت سے نہیں،
یاد رکھنے سے بچتا ہے۔
اور یہ بھی
کہ زبان کا اصل کام
لوگوں کو بانٹنا نہیں،
ان کے بیچ
ایک چھوٹی سی پُلیا بنا دینا ہے۔
یہ خط
آپ تک نہیں پہنچے گا۔
مگر شاید
ہم تک پہنچ جائے
ہماری یادوں تک،
ہماری شرم تک،
اور ہماری امید تک۔
اور یہی
میری سب سے بڑی امید ہے،
راہی جی۔
(منوج کمار جھا راشٹریہ جنتا دل کے راجیہ سبھا رکن ہیں۔)






