کانگریس نے چابہار بندرگاہ کے معاملے پر مرکزی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ کانگریس نے اتوار (15 مارچ) کو کہا کہ چابہار بندرگاہ اب ہندوستان کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ پارٹی نے اسے وسطی ایشیا میں ہندوستان کی سفارت کاری کے لیے ایک بڑا اسٹریٹجک دھچکا قرار دیا ہے۔ کانگریس کے مطابق تاجکستان میں ’عینی ایئر فورس‘ بند ہونے کے بعد یہ ہندوستان کے لیے دوسرا بڑا نقصان ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر وزیر اعظم مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے لکھا کہ ’’حکومت میں تسلسل ایک بنیادی حقیقت ہے، جسے خود پسند وزیر اعظم کبھی تسلیم نہیں کرتے۔‘‘
جے رام رمیش کے مطابق 1990 کی دہائی کے اواخر سے ہی ہندوستان نے ہندوستان-افغانستان-ایران تعاون کی حکمت عملی کے تحت ایران کی چابہار بندرگاہ میں سرمایہ کاری کے امکانات کی تلاش شروع کر دی تھی۔ بالآخر تہران میں منعقدہ 16ویں غیر جانبدار سربراہی کانفرنس میں حصہ لینے کے بعد ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ان منصوبوں کو نئی تحریک دی اور مئی 2013 میں مرکزی کابینہ چابہار میں ابتدائی طور پر 115 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کو منظوری دی۔
کانگریس لیڈر نے زور دے کر کہا کہ ’’یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ فیصلہ اس وقت لیا گیا تھا جب ہندوستان اکتوبر 2008 میں دستخط شدہ ہندوستان-امریکہ جوہری معاہدے پر عمل درآمد کے لیے بڑے اقدامات کر رہا تھا۔‘‘ انہوں نے پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’’اس کے بعد اکتوبر 2014 میں مودی حکومت نے جیسا کہ وہ اکثر کرتی ہے ڈاکٹر منموہن سنگھ کے چابہار پہل کو ’ری پیکج‘ کیا اور اسے پی ایم مودی کے وژن کا حصہ بتا کر پیش کیا۔‘‘
جے رام رمیش نے موجودہ حکومت سے سوال کیا کہ ’’27-2026 کے بجٹ میں چابہار کے لیے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان اس منصوبے سے باہر ہو گیا ہے یا فی الحال اس کی سرمایہ کاری سے متعلق ذمہ داریاں پوری ہو چکی ہیں؟ کسی بھی صورت میں پاکستان کی گوادر بندرگاہ – جسے چین نے بنایا ہے – سے تقریباً 170 کلومیٹر مغرب میں واقع چابہار اب منظر نامے سے غائب نظر آ رہا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’یہ ہندوستان کی وسطی ایشیا کے لیے دوسرا اسٹریٹجک دھچکا ہے، کیونکہ اس سے قبل ہندوستان تاجکستان کے دوشنبہ کے پاس عینی میں واقع اپنا ایئر فورس بیس بند کر چکا ہے۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔



































