مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے ایران میں تو تباہی مچائی ہی ہے، خلیجی ممالک کو بھی بری طرح سے نقصان پہنچایا ہے۔ ایران نے جوابی کارروائی میں امریکہ اور اسرائیل کے بھی ناک میں دَم کر رکھا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ بار بار دھمکیاں دے رہے ہیں اور ایران کو خود سپردگی کرنے کہہ رہے ہیں، لیکن ایران نہ ہی مذاکرہ کے لیے تیار ہے، نہ ہی جنگ کو جلد ختم کرنے کے موڈ میں ہے۔ ایران امریکہ اور اسرائیل سے ’بدلہ‘ لینے کے لیے پُرعزم ہے۔ وہ لگاتار خلیجی ممالک میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور اسرائیل پر بھی میزائل حملے ہو رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے کئی ممالک میں تیل کا بحران پیدا کر دیا ہے۔ ہندوستان کو بھی ایندھن کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ممالک اس جنگ کو جلد ختم کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، لیکن ایران ہر حال میں امریکہ و اسرائیل کو سبق سکھانا چاہتا ہے۔ آج امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو متنبہ کیا ہے اور آبنائے ہرمز سے متعلق بھی بیان دیا ہے۔ آئیے نیچے دیکھتے ہیں آج کے اہم اپڈیٹس کیا ہیں…
-
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ذریعہ آبنائے ہرمز بند کرنے کی کوششوں سے متاثر ہوئے ممالک سے امید کی جاتی ہے کہ وہ سمندری راستہ کو کھلا اور محفوظ بنائے رکھنے کے لیے امریکہ کے ساتھ جنگی جہاز بھیجیں گے۔
-
امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ نے ایران کے تیل نیٹورک کے لیے اہم ایک جزیرہ پر واقع فوجی مقامات کو ختم کر دیا ہے اور متنبہ کیا ہے اگر ایران آبنائے ہرمز سے جہازوں کے آنے جانے میں رکاوٹ ڈالتا ہے تو ایران کا تیل بنیادی ڈھانچہ اگلا نشانہ ہو سکتا ہے۔
-
سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی ویزر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز صرف دشمنوں اور ان کے ساتھیوں کے ٹینکرس و جہازوں کے لیے بند ہے۔ عراقچی نے متنبہ کیا کہ اگر ایران کی انرجی فیسلٹی کو نشانہ بنایا گیا تو وہ جوابی کارروائی کرے گا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی فوج اس خطہ میں امریکی کمپنیوں کی فیسلٹی یا ان کمپنیوں پر حملہ کرے گی جن میں امریکی کی شراکت داری ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ تہران آبادی والے علاقوں کو نشانہ بنانے سے بچنے کے لیے محتاط کارروائی کرے گا۔
-
ہندوستان کے 2 جہاز ’شیوالک‘ اور ’نندا دیوی‘ آبنائے ہرمز سے ہوتے ہوئے ہندوستان کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ شپنگ کارپوریشن آف انڈیا کے ان دونوں جہازوں میں ایل پی جی بھری ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران اور آبنائے ہرمز کے قریبی ممالک سے یہ دونوں جہاز بغیر کسی دقت کے ہندوستان کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔ ان کے 16 یا 17 مارچ کو مندرا اور کانڈلا بندرگاہ پہنچنے کا امکان ہے۔
-
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتہ کے روز ایک انٹرویو میں کہا کہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انھوں نے امریکی جنگی سکریٹری پیٹر ہیگسیتھ کے حالیہ دعووں کا جواب دیتے ہوئے یہ بیان دیا۔ ہیگسیتھ نے جمعہ کے روز دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہو گئے ہیں اور غالباً ان کا چہرہ بگڑ گیا ہے۔
-
عراقی سیکورٹی افسران کا کہنا ہے کہ بغداد میں امریکی سفارت خانہ احاطہ کے اندر واقع ہیلی پیڈ پر میزائل حملہ ہوا ہے۔ 2 عراقی سیکورٹی افسران نے بتایا کہ بغداد میں امریکی سفارت خانہ احاطہ کے اندر واقع ہیلی پیڈ پر میزائل سے حملہ ہوا۔ بغداد واقع امریکی سفارت خانہ کی طرف سے اب تک کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔
-
ایران حکومت کی طرف سے امریکہ-اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ سے متعلق ایک بیان جاری کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ’’اس ظالمانہ اور تھوپی گئی جنگ کے 15 دنوں کے بعد ٹرانسپورٹ، مواصلات وغیرہ کے مسائل کے باوجود حکومت میں ہمارے ساتھیوں کے تعاون سے عوام کو خدمات فراہم کرنے میں کوئی سنگین رخنہ نہیں آیا ہے۔ ایران کے معزز لوگوں، آپ کی حمایت سے ہم ان حالات سے باہر نکل جائیں گے اور جو کچھ بھی تباہ ہوا ہے، اسے پہلے سے بھی بہتر طریقے سے دوبارہ بنائیں گے۔‘‘
-
امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان پر کہ ’ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے‘، ہندوستان میں ایرانی سپریم لیڈر کے نمائندہ ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی نے خبر رساں ایجنسی ’اے این آئی‘ کو دیے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’بالکل نہیں۔ ایران اس وقت ان سے بات چیت نہیں کرنا چاہتا، کیونکہ انھوں نے ہی یہ جنگ شروع کی ہے۔ ہم ان کے ساتھ 2 بار ایسا تجربہ کر چکے ہیں۔ ہم ان سے بات چیت کر رہے تھے، اور انھوں نے ہم پر حملہ کر دیا۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔





































