
تاریخی ضلع ویشالی کے مہنار میں واقع ’اُتکرمت مدھیہ ودیالیہ، مروّت پور‘ کی بنیاد 1960 میں پڑی۔ اس اسکول کے لیے گاؤں کے ایک بزرگ حاجی نتھے خاں نے 8 کٹھہ کی اپنی ذاتی زمین عطیہ کی تھی۔ اس کی نصف زمین میں اسکول اور نصف میں دُرگا مندر ہے۔ مندر کی وجہ سے یہ اسکول ’دُرگا مندر اسکول‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
اسکول کی شروعات 2 کمروں سے ہوئی تھی اور درجہ اوّل سے درجہ 4 تک کی تعلیم دی جاتی تھی۔ پھر پانچویں درجہ تک اور 2004 میں آٹھویں درجہ تک کی پڑھائی ہونے لگی۔ ویسے تو اسکول ’پلس 2‘ تک اپگریڈ ہو چکا ہے، لیکن اس کے انچارج پرنسپل اور مینجمنٹ وغیرہ الگ ہیں۔ بلڈنگ ایک ہی ہے، جہاں نصف حصہ میں اول سے آٹھویں درجہ تک کی کلاسز چلتی ہیں اور نصف حصہ میں نویں سے بارہویں تک کی کلاسز ہوتی ہیں۔
میری تقرری اس اسکول میں چھٹی سے آٹھویں درجہ کے لیے ہندی ٹیچر کے طور پر ہوئی، حالانکہ ریاضی اور اردو کی کلاسز بھی لیتی رہی ہوں۔ یہاں اوّل سے آٹھویں تک مجموعی طور پر تقریباً 1000 بچے زیر تعلیم ہیں اور 18 اساتذہ تدریسی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ مقامی افراد اپنے بچوں کا داخلہ اس اسکول میں کرانے کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ پہلی سے بارہویں تک انھیں پھر کسی دوسرے اسکول کا رخ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔
چند ماہ قبل تک اسکول کی پرنسپل آشا سنہا تھیں، جن کی قیادت میں ایک خوشگوار تعلیمی ماحول پیدا ہوا۔ موجودہ پرنسپل ذوالفقار احمد انصاری بھی ایک بااصول اور شفیق شخصیت کے مالک ہیں۔ انھوں نے اسکول کی فضا کو تعلیمی اور تربیتی دونوں اعتبار سے مثالی بنا دیا ہے۔ ان کی غیر موجودگی میں غلام حسنین سر اہم ذمہ داریاں نبھاتے ہیں، جو کہ انتہائی تجربہ کار شخص ہیں۔






