ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی حراست فوری اثر سے رَد کر دی گئی ہے۔ اس معاملہ میں کانگریس نے مرکز کی مودی حکومت پر شدید حملہ کیا ہے اور ایک بے قصور کو بلاوجہ پریشان کرنے کا سنگین الزام لگایا ہے۔ راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر اشوک گہلوت نے سونم وانگچت کی رِہائی پر خوشی ظاہر کیا ہے اور سوال اٹھایا ہے کہ ان کی حراست کے 170 دنوں کا حساب کون دے گا؟ انھوں نے یہ بھی پوچھا تھا کہ آخر انھیں گرفتار کیوں کیا گیا تھا؟
اشوک گہلوت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ جاری کر اس معاملے میں اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک جی کی رہائی کی خبر خوش کن ہے، لیکن یہ پورا معاملہ مرکز کی مودی حکومت کے طریقۂ کار پر سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔ یہ کیسی ستم ظریفی ہے؟ جو سونم وانگچک کبھی پی ایم مودی کی پالیسیوں کے حامی رہے، جب انھوں نے لداخ کے حق اور ماحولیات کی آواز اٹھائی تو انھیں این ایس اے (نیشنل سیکورٹی ایکٹ) جیسی سخت دفعات میں باندھ کر جودھ پور جیل بھیج دیا گیا۔‘‘
اشوک گہلوت نے کہا کہ جس شخص کو کچھ ماہ قبل ’ملک کی سیکورٹی کے لیے خطرہ‘ بتا کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالا گیا، انھیں آج اچانک رِہا کرنے کی بات سامنے آئی ہے۔ یعنی ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملے۔ ایسے میں ان کی حراست کے 170 دنوں کا حساب آخر کون دے گا؟ اشوک گہلوت نے یہ سوال بھی کیا کہ کیا قومی سیکورٹی کی تعریف اب بی جے پی کے سیاسی نفع نقصان سے طے ہوگی؟ انھوں نے کہا کہ ’’تاناشاہی روش سے قوانین کے ایسے ’سہولت آمیز استعمال‘ نہ صرف قابل مذمت ہیں، بلکہ ہمارے جمہوری اداروں پر بھروسہ کو بھی گہرا دھچکا پہنچاتے ہیں۔ ملک کی عوام اس دوہرے پیمانہ کو دیکھ رہی ہے۔‘‘
اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماجوادی پارٹی چیف اکھلیش یادو نے بھی سونم وانگچک کی رِہائی کے بعد مرکزی حکومت کو تنقید کا نشان بنایا۔ انھوں نے کہا کہ سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر سونم کو جیل بھیجا ہی کیوں گیا؟ انھیں جیل بھیجا ہی نہیں جانا چاہیے تھا۔ بی جے پی کو تو ان کی تحریک کی حمایت کرنی چاہیے تھی۔ اکھلیش یادو کا کہنا ہے کہ ’’بی جے پی نے ہی یقین دلایا تھا کہ انھیں مکمل ریاستی درجہ ملے گا۔ ریاستی درجہ کی پوری طاقت ملے گی، لیکن بی جے پی نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا۔ نہ صرف عوام کو دھوکہ دیا بلکہ سونم وانگچک کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا اور انھیں جیل میں جانا پڑا۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ سونم وانگچت کے این ایس اے کے تحت مقررہ حراستی مدت کا تقریباً نصف وقت پہلے ہی جیل میں گزار لیا ہے۔ آج راتاناڈا تھانہ انچارج دنیش لکھاوت نے کہا کہ ’’مرکزی حکومت کے حکم کے بعد وانگچک کو آج دوپہر تقریباً 1.30 بجے جیل سے رِہا کر دیا گیا۔‘‘ وانگچک کی بیوی گیتانجلی انگمو کاغذی کارروائی کو پورا کرنے کے لیے موجود تھیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




































