اسرائیل کے حملوں کے 12 دن بعد پہلی بار وزیراعظم مودی نے ایران کے صدر سے بات کی

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 13, 2026360 Views


مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے تنازعہ کے درمیان وزیراعظم نریندر مودی نے پہلی بار ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے بات کی اور علاقائی صورتحال، ہندوستانی شہریوں کی سلامتی اور توانائی کی فراہمی پر تشویش کا اظہار کیا۔ ادھر آبنائے ہرمز کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کے باعث ہندوستان کی توانائی کی سپلائی اور میری ٹائم سیکورٹی پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

ایران پر حملوں کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرے میں مظاہرین ایرانی پرچم ، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے بیٹے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی تصویریں  اٹھائے ہوئے ۔ (فوٹو: اے پی/پی ٹی آئی)

نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات (12 مارچ) کو مغربی ایشیا میں تنازعہ کے 12 دن بعد پہلی بار ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے فون پر بات کی۔ اس بات چیت میں انہوں نے خطے میں موجود ہندوستانی شہریوں کی سلامتی اور اشیاء و توانائی کی بلا رکاوٹ فراہمی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے خطے کی ‘سنگین صورتحال’پر تبادلہ خیال کیا، کیونکہ ایران اور امریکہ-اسرائیل اتحاد کے درمیان تنازعہ مسلسل پھیلتا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے کشیدگی میں اضافے، شہریوں کی ہلاکتوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو ہوئے نقصان پر شدیدتشویش  کا اظہار کیا۔

مودی نے یہ بھی کہا کہ ‘ہندوستانی شہریوں کی سلامتی اور اشیاء و توانائی کی بلا رکاوٹ نقل و حرکت ہندوستان کی اعلیٰ ترین ترجیحات ہیں۔’انہوں نے امن اور استحکام کے لیے ہندوستان کے عزم کو دہراتے ہوئے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے مسئلے کے حل پر زور دیا۔

یہ بات چیت28فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد ہندوستان اور ایران کی اعلیٰ قیادت کے درمیان پہلی براہ راست بات چیت ہے۔ اس سے چند دن قبل وزیرِخارجہ ایس جئے شنکر نے 9 مارچ کو پارلیامنٹ میں کہا تھا کہ بحران کے دوران ایرانی قیادت سے رابطہ کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا تھا،’کوششیں کی گئی ہیں، لیکن اس وقت ایران کی اعلیٰ قیادت سے رابطہ کرنا واضح طور پر مشکل ہے۔’

ایران کے صدر نے بدھ (11 مارچ) کو کئی علاقائی رہنماؤں سے بھی بات کی، جن میں عمان کے سلطان، روس کے صدر اور پاکستان کے وزیراعظم شامل ہیں۔

گزشتہ ڈیڑھ ہفتے کے دوران مودی نے خلیجی خطے کے کئی رہنماؤں سے بھی بات چیت کی ہے، جن میں متحدہ عرب امارات کے صدر، قطر کے امیر اور سعودی عرب کے ولی عہد کے ساتھ ساتھ کویت، بحرین، عمان اور اردن کے حکمران شامل ہیں۔

سرکاری معلومات کے مطابق، اس بات چیت میں مودی نے خلیجی ممالک پر ہوئے حملوں کی مذمت کی تھی، جن کے بارے میں تہران کا کہنا تھا کہ یہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے تھے، تاہم ہندوستان نے براہ راست ایران کا نام نہیں لیا۔

بدھ کے روز ہندوستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اس قرارداد کی مشترکہ سرپرستی کی، جس میں خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک اور اردن پر ایران کے حملوں کی مذمت کی گئی تھی۔

وزیر خارجہ ایس جئے شنکر اور ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی جنگ شروع ہونے کے بعد سے تین مرتبہ بات چیت کر چکے ہیں۔ 9 مارچ کو ہوئی بات چیت میں جہاز رانی کی سلامتی اور ہندوستان کی توانائی کی سلامتی پر خاص طور پر بات کی گئی۔

جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ میں وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ دونوں وزرائے خارجہ نے اس اہم سپلائی روٹ کے بارے میں پیدا ہونے والی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا ہے، جس سے توانائی کی تجارت متاثر ہوئی ہے۔

جیسوال نے کہا،’گزشتہ چند دنوں میں وزیر خارجہ اور ایران کے وزیرخارجہ کے درمیان تین مرتبہ بات ہوئی ہے۔ آخری بات چیت میں جہازوں کی سلامتی اور ہندوستان کی توانائی کی سلامتی سے متعلق امور پر بات ہوئی۔ اس سے آگے ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔’

یہ تبادلہ خیال ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب آبنائے ہرمز کے بارے میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔ فارس کی خلیج کو بحیرۂ عرب سے جوڑنے والا یہ تنگ سمندری راستہ دنیا کے سب سے اہم تیل کی ترسیل کے راستوں میں سے ایک ہے۔ عراق، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے خلیجی ممالک سے ہندوستان جو تیل درآمد کرتا ہے، اس کا بڑا حصہ اسی راستے سے ہو کر آتا ہے۔

خبر ہے کہ ہندوستان نے یہ یقین دہانی کرانے کو کہا ہے کہ ہندوستان کے لیے آنے والے تیل کے ٹینکر بڑھتے ہوئے تنازعہ کے باوجود اس راستے سے محفوظ طریقے سے گزر سکیں گے۔ تاہم اب تک تہران کی جانب سے اس پر رضامندی کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے۔

کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اشارہ دیا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے آبنائے ہرمز کو بند رکھا جا سکتا ہے۔ ایرانی سرکاری ٹی وی پر نشر بیان میں انہوں نے خبردار کیا کہ ایران خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا جاری رکھے گا اور اگر جنگ جاری رہی تو تنازعہ کا دائرہ مزید پھیل سکتا ہے۔

اس صورتحال کا اثر خلیجی خطے میں کام کرنے والے جہازوں اور عملے پر بھی پڑا ہے۔ہندوستانی حکام کے مطابق اس علاقے میں جہازوں سے متعلق کئی واقعات میں تین ہندوستانی ملاح ہلاک ہو چکے ہیں اور ایک اب بھی لاپتہ ہے، جبکہ کچھ دیگر زخمی ہوئے ہیں لیکن ان کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔

جمعرات کو ایک بریفنگ میں بندرگاہ، جہازرانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت کے اسپیشل سکریٹری راجیش کمار سنہا نے کہا کہ خلیج فارس میں جہازوں سے متعلق کئی سمندری حادثات میں تین ہندوستانی ملاح ہلاک ہو گئے ہیں اور ایک اب بھی لاپتہ ہے۔

متاثرہ غیر ملکی پرچم بردار جہازوں پر موجود 78 ہندوستانی ملاحوں میں سے 70 محفوظ نکل آئے، جبکہ چار زخمی ہوئے ہیں لیکن ان کی حالت مستحکم ہے۔

سنہا نے بتایا کہ اس وقت خلیج فارس کے علاقے میں ہندوستان کے 28 ہندوستانی پرچم بردار جہاز کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے 24 جہاز، جن پر 677 ہندوستانی ملاح موجود ہیں، آبنائے ہرمز کے مغرب میں ہیں، جبکہ چار جہاز 101 ہندوستانی عملے کے ساتھ اس کے مشرق میں ہیں۔

انہوں نے کہا، ‘وہاں موجود تمام ہندوستانی جہازوں اور ان کے عملے کی سلامتی کی فعال نگرانی کی جا رہی ہے۔’

تیسرے ہندوستانی ملاح کی موت کی تصدیق عراق میں ہندوستانی سفارت خانے نے کی۔ سفارت خانے کے مطابق امریکہ کی ملکیت والا خام تیل کا ٹینکر سیفسی وشنو عراق کے بصرہ کے قریب سمندری علاقے میں حملے کا شکار ہوا۔ جہاز پر موجود باقی 15 ہندوستانی ملاحوں کو محفوظ نکال لیا گیا ہے۔

ہندوستان کے لیے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی سلامتی کا براہ راست اثر اس کی توانائی کی فراہمی پر پڑتا ہے۔ عراق، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک سے درآمد کیا جانے والا زیادہ تر خام تیل اسی تنگ آبی راستے سے گزر کر بحیرۂ عرب تک پہنچتا ہے۔ ہندوستان کی تقریباً 90فیصد گیس کی سپلائی بھی اسی راستے سے آتی ہے، جس کی وجہ سے حکومت نے تجارتی گیس سلنڈروں پر کچھ پابندیاں عائد کی ہیں۔

ہندوستان نے اب تک ایران پر امریکہ یا اسرائیل کے حملوں کی براہ راست مذمت نہیں کی، لیکن جہازوں اور اپنے بیرون ملک شہریوں کی سلامتی کے لیے علاقائی حکومتوں کے ساتھ سفارتی رابطے بڑھا دیے ہیں۔

اس دوران وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ بنگلہ دیش، سری لنکا اور مالدیپ نے ہندوستان سے ایندھن کی فراہمی کی درخواست کی ہے۔

انہوں نے کہا،’یہ قابل ذکر ہے کہ بنگلہ دیش کو ڈیزل کی برآمدات 2017 سے بڑے پیمانے پر جاری ہیں۔ تاہم ہندوستان کی ریفائننگ صلاحیت، ہماری اپنی ضروریات اور ڈیزل کی دستیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی فیصلے کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ہمیں سری لنکا اور مالدیپ سمیت کئی دیگر ممالک سے بھی ایسی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔’

بتادیں کہ نئی دہلی نے حال ہی میں مال بردار جہاز ’میوری ناری‘پر ہوئے حملے کی بھی مذمت کی ہے۔ یہ جہاز گجرات کی کانڈلا بندرگاہ کی طرف جا رہا تھا۔ ہندوستان نے کہا کہ اس تنازعہ کے دوران عام شہریوں کے جہازوں کو نشانہ بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔

ہندوستان نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے ابتدائی حملوں کی باضابطہ مذمت کرنے سے بھی گریز کیا ہے، جو اس کے پہلے کے موقف سے مختلف ہے۔ گزشتہ سال جب اسرائیل اور ایران کے درمیان معمولی جھڑپ ہوئی تھی تو برازیل کی صدارت میں برکس کے تحت ہندوستان نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا معاملہ اٹھایا تھا۔ ہندوستان کی موجودہ برکس صدارت کے دوران اس گروپ نے اس تنازعہ پر کوئی مشترکہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔

اس دوران حکومت کو اپوزیشن جماعتوں کی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ اس تنازعہ کے دوران نئی دہلی امریکہ اور اسرائیل کے بہت زیادہ قریب ہو گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ہندوستان نے خلیجی ممالک پر ہوئے ان حملوں کی تو مذمت کی جن کا الزام ایران پر لگایا گیا تھا، لیکن ایران کے ٹھکانوں پر امریکہ یا اسرائیل کی فوجی کارروائی کی براہ راست تنقید کرنے سے گریز کیا۔

کانگریس نے مودی پر الزام لگایا کہ انہوں نے 25 اور 26 فروری کو اسرائیل کا دورہ کر کے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کو ‘یکطرفہ حمایت اور خاموش منظوری’ دی۔ یہ دورہ ایران پر حملہ شروع ہونے سے 48 گھنٹے سے بھی کم وقت پہلے ہوا تھا۔

نئی دہلی نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت پر باضابطہ ردعمل اس وقت دیا، جب امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ان کی موت کو پانچ دن گزر چکے تھے۔ ہندوستانی حکومت کی جانب سے خارجہ سیکریٹری وکرم مصری نے تہران میں تعزیتی کتاب پر دستخط کیے۔ ہندوستان نے ایران کے نئے سپریم لیڈر کے طور پر مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب کا خیرمقدم کرتے ہوئے بھی کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ اب تک ہندوستان نے ایران کے شہر میناب میں 160 سے زیادہ اسکولی طالبات کے قتل کی بھی مذمت نہیں کی تھی۔ اس واقعہ کو بڑے پیمانے پر تنازعہ کے پہلے دن ہونے والے امریکی حملوں سے جوڑا جا رہا ہے۔

ہندوستان کی خاموشی کے بارے میں پوچھے جانے پر ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا،’جہاں تک ان اسکولی بچوں کا تعلق ہے جن کا آپ نے ذکر کیا ہے… جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، ہم نے جاری تنازعہ پر کئی بیانات جاری کیے ہیں۔ ہم نے تمام شہریوں کی سلامتی کو ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ہمیں ضائع ہونے والی قیمتی جانوں کا افسوس ہے اور ہم اس پر اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہیں۔’



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...