لوک سبھا میں آج اپنی تقریر کا آغاز عمران پرتاپ گڑھی نے کچھ اشعار کے ساتھ کیا، جو اس طرح ہیں:
کوئی خوشبو، نہ کوئی پھول، نہ کوئی رونق
اس پہ کانٹوں کی جہالت نہیں دیکھی جاتی
ہم نے کھولی تھی اسی باغ میں اپنی آنکھیں
ہم سے اس باغ کی حالت نہیں دیکھی جاتی
—
رات بس رات ہی ہوتی تو کوئی بات تھی
اُس کا آکار مگر دونا نظر آتا ہے
جتنے چمکیلے ستارے تھے، وہ سب ٹوٹ چکے ہیں
سارا آکاش بڑا سونا نظر آتا ہے
—
بلبلیں خوش تھیں امیدوں کے ترانے گائے
لے کے پت جھڑ سے پہاڑوں کو چمن سونپ دیا
اب تو معصوم گلابوں کی یہ گھائل خوشبو
شیش دھنتی ہے کہ خاروں کو چمن سونپ دیا
—
تم نے کیا کام کیا ان کے ابھاؤں کے لیے
جن کی محنت سے تمھیں تخت ملا، تاج ملا
ان کے سپنوں کے جنازوں میں تو شامل ہوتے
جن کے چپ رہنے کی وجہ سے تمھیں راج ملا






