’2014 کے بعد جس طرح گاؤں میں نفرت پھیلا کر ترقی کی گئی، وہ ناقابل تصور ہے‘، لوک سبھا میں عمران پرتاپ گڑھی کا تبصرہ

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 12, 2026361 Views


لوک سبھا میں آج اپنی تقریر کا آغاز عمران پرتاپ گڑھی نے کچھ اشعار کے ساتھ کیا، جو اس طرح ہیں:

کوئی خوشبو، نہ کوئی پھول، نہ کوئی رونق

اس پہ کانٹوں کی جہالت نہیں دیکھی جاتی

ہم نے کھولی تھی اسی باغ میں اپنی آنکھیں

ہم سے اس باغ کی حالت نہیں دیکھی جاتی

رات بس رات ہی ہوتی تو کوئی بات تھی

اُس کا آکار مگر دونا نظر آتا ہے

جتنے چمکیلے ستارے تھے، وہ سب ٹوٹ چکے ہیں

سارا آکاش بڑا سونا نظر آتا ہے

بلبلیں خوش تھیں امیدوں کے ترانے گائے

لے کے پت جھڑ سے پہاڑوں کو چمن سونپ دیا

اب تو معصوم گلابوں کی یہ گھائل خوشبو

شیش دھنتی ہے کہ خاروں کو چمن سونپ دیا

تم نے کیا کام کیا ان کے ابھاؤں کے لیے

جن کی محنت سے تمھیں تخت ملا، تاج ملا

ان کے سپنوں کے جنازوں میں تو شامل ہوتے

جن کے چپ رہنے کی وجہ سے تمھیں راج ملا

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...